16 دسمبر کا سبق

بلوچستان ایک مسلسل سیاسی ہیجان کا شکار ہے


Dr Tauseef Ahmed Khan December 16, 2016
[email protected]

دانشور اور ادیب واحد بلوچ 100 سے زائد دنوں تک لاپتہ رہنے کے بعد اچانک گھر پہنچ گئے۔ واحد بلوچ کے لاپتہ ہونے کا معاملہ بلوچستان کے مسئلے سے منسلک ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کی اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

بلوچستان ایک مسلسل سیاسی ہیجان کا شکار ہے۔ حکومت نے چین کی مدد سے اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت چین کے صوبے سنگیانگ سے گوادر تک جدید سڑک تعمیر ہونی ہے اور اس کے اطراف میں صنعتی منصوبے شروع ہونے والے ہیں، اگرچہ چین سے آنے والا تجارتی قافلہ گوادر بندرگاہ سے چین کے کنٹینر جہازوں پر سوار ہو کر مختلف ممالک کی بندرگاہوں تک پہنچ گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت پنجاب میں صنعتی منصوبوں پرکام شروع ہو چکا ہے۔ سندھ میں منصوبہ بندی جاری ہے مگر بلوچستان میں کوئی منصوبہ شروع نہیں ہوا۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو اس منصوبے کے بارے میں تحفظات ہیں۔ اگرچہ قوم پرست رہنما میرغوث بخش بزنجوکے صاحبزادے میر حاصل بزنجو اس منصوبے کے زبردست حامی ہیں مگر ان کی جماعت کے دیگر رہنما ان کی کھل کر حمایت نہیں کرتے۔ بلوچستان کے اقتصادی مشیر ڈاکٹرقیصربنگالی کا کہنا ہے کہ گوادر شہر میں پانی میسر نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گوادر کے قریب ایک بڑا ڈیم تعمیر ہوا ہے مگر ڈیم پانی کا ذخیرہ کرتے ہیں پانی پیدا نہیںکرتے۔ گوادرکے قریب دبئی میں بھی پانی دستیاب نہیں ہے مگر متحدہ عرب امارات کی حکومت سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبے پر خطیر رقم خرچ کرتی ہے، یوں مہنگا ترین پانی دبئی کے شہریوں کو دستیاب ہوتا ہے۔ بلوچستان میں قوم پرست تحریک کی تقسیم ہو چکی ہے۔

قوم پرست رہنما میرغوث بخش بزنجوکے صاحبزادے میرحاصل بزنجو، سابق وزیراعلیٰ عطاء اﷲ مینگل اورمتوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دونوں گروہوں سے تعلق رکھنے والے سابق طالب علم رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور میر اکرم دشتی وغیرہ پاکستان کے ڈھانچے میں حقوق کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں جو حقوق دیے گئے ہیں ان پر عملدرآمد سے بلوچستان کی خودمختاری کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

عطاء اﷲ مینگل کے صاحبزادے اختر مینگل 18 ویں ترمیم میں دی گئی خودمختاری سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سی پیک کے نتیجے میں لگنے والی صنعتوں کے لیے دیگر صوبوں سے آنے والی افرادی قوت سے گوادر کے لوگ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹر اﷲ یاربلوچ، سردارخیر بخش مری کے صاحبزادے اور اکبر بگٹی کے پوتے بلوچستان کی آزادی کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ یہ گروہ خلیجی ممالک، افغانستان اور بھارت کی مالیاتی امداد سے گوریلا جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

سینیٹر ثناء بلوچ، جنہوں نے اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا اور یورپ چلے گئے تھے، نے تجویز دی ہے کہ آئین میں خصوصی ترمیم کے ذریعے بلوچوںکے حقوق کا تحفظ ہو سکتا ہے۔ وہ اس ضمن میں بھارت کے آئین میں کی گئی ترمیم 367 کا حوالہ دیتے ہیں جس کے تحت بھارت کے زیرکنٹرول کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے پاکستان کے قیام کے لیے طویل جدوجہد کی تھی۔ صرف سندھ اور بنگال کی اسمبلیوں نے پاکستان کے حق میں قراردادیں منظورکی تھیں مگر قیام پاکستان کے بعد ملک کو فیڈریشن کے بجائے وحدانی طرز حکومت میں تبدیل کیا گیا۔ پہلے بنگالی زبان کو قومی زبان بنانے سے انکار کیا گیا اور پھر بنگالی وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کیا گیا۔ چیف جسٹس منیرکی قیادت میں سپریم کورٹ نے منتخب حکومت کی برطرفی کو قومی مفاد کا تحفظ قرار دیا، پھر ون یونٹ بنا کر پیریٹی کے اصول کے تحت مشرقی پاکستان کی اکثریت کو ختم کیا گیا۔

جب جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگایا اور 1962ء کا آئین نافذکیا تو سارے اختیارات صدرکی ذات تک محدود ہو گئے۔ مشرقی پاکستان کی قوم پرست اور سوشلسٹ قیادت نے شیخ مجیب الرحمن اور مولانا بھاشانی کی قیادت میں مغربی پاکستان میں ہونے والی ترقی کو مشرقی پاکستان کے استحصال کا مرہون منت قرار دیا۔ شیخ مجیب الرحمن ایک دفعہ اسلام آباد آئے تو انھوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے مشرقی پاکستان کی پٹ سن کی خوشبو آتی ہے، پھر مشرقی پاکستان کے دانشوروں نے 6 نکات تیار کیے۔ ان نکات کا بنیادی مقصد مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان کے استحصال سے بچانا تھا مگر بیوروکریسی نے مشرقی پاکستان کے عوام کی شکایتوں کو سمجھنے کے بجائے انتظامی اقدامات پر توجہ دی۔

عوامی لیگ کی قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا۔ پہلے کہا گیا کہ 6 نکات ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر نے تیار کیے ہیں پھر اس کو بھارتی ایجنڈا کہا گیا۔ ایک بیوروکریٹ علاؤ الدین نے طویل عرصہ مشرقی پاکستان میں خدمات انجام دیں۔ علاؤ الدین نے شیخ مجیب الرحمن کے خلاف یحییٰ خان کے قائم کردہ بغاوت کے مقدمے میں گواہی دینے سے انکارکیا تھا۔ انھوں نے ایک صحافی دوست کو بتایا تھا کہ مشرقی پاکستان کے سابق گورنر منعم خان نے ایک ہفتے میں شیخ مجیب الرحمن کو پانچ دفعہ گرفتارکیا۔

علاؤ الدین نے جب گورنر منعم خان سے اس اقدام کی وجہ پوچھی اور کہا کہ مجیب الرحمن ہیرو بن رہے ہیں تو گورنر صاحب نے کہا کہ تم سیاست نہیں سمجھ سکتے۔ شیخ مجیب الرحمن نے 1948ء سے 1968ء تک زندگی کی بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا اور 1968ء میں رہا ہوئے۔ بیوروکریسی کے اس رویے کی بناء پر شیخ مجیب الرحمن کی مقبولیت اتنی بڑھ گئی کہ معمر سیاسی رہنما مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اور ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کی مقبولیت کم ہو گئی۔ جنرل ایوب خان نے گول میزکانفرنس بلائی۔

پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو اورمولانا بھاشانی نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ دولتانہ، نصراﷲ خان، ولی خان، شوکت حیات اور مولانا مودودی وغیرہ کانفرنس میں شریک ہوئے اور تمام شرکاء نے مجیب الرحمن کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مجیب الرحمن رہا ہو کر اسلام آباد میں کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے مگر صوبائی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوا اورکانفرنس ناکام ہو گئی۔ ایوب خان نے اپنا آئین منسوخ کر کے اقتدار جنرل یحییٰ کے حوالے کیا اور مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ملک میں پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کی بناء پر انتخابات ہوئے۔ مولانا بھاشانی نے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے عوامی لیگ کے لیے سارے راستے کھول دیے۔

مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ، سندھ اور پنجاب سے پیپلز پارٹی اور سرحد اور بلوچستان سے نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ جنرل یحییٰ خان نے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے یحییٰ خان کی حمایت کی۔ مشرقی پاکستان میں مارچ سے دسمبر تک فوجی آپریشن ہوا۔ بنگالی مسلح تنظیم مکتی باہنی نے بہاریوں کا قتل عام کیا۔ یوں لاکھوں لوگ اس خانہ جنگی میں تباہ حال ہو گئے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ کتنی عورتوں کی عصمت پامال ہوئی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کتنی تھی مگر یہ حقیقت ہے کہ انسانیت سوز مظالم ہوئے۔ بنگالیوں کو تمام زحمتوں کے باوجود اپنا وطن مل گیا۔ بہاریوں کی کئی نسلیں تباہ ہو گئیں۔

16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج کے مشرقی پاکستان کے کمانڈر جنرل اے کے نیازی نے ریس کورس گراؤنڈ میں اپنا پستول جنرل اروڑا کے حوالے کر کے90 ہزار فوجیوں کو جنگی قیدی بنایا۔ مشرقی پاکستان کی صورتحال سے مغربی پاکستان کے سیاستدانوں اور مقتدرہ نے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکی قیادت میں 1973ء میں متفقہ آئین تیار ہوا۔ اس آئین میں صوبائی خودمختاری کو تحفظ دیا گیا مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو وزیراعظم بھٹو نے برطرف کر دیا۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا، یوں بلوچستان کے حالات مسلسل خراب رہے۔ جنرل مشرف کے دور میں اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد پھر ایک آپریشن ہوا۔ اس آپریشن کے دوران دیگر صوبوں سے آئے ہوئے اساتذہ، صحافیوں، بیوروکریٹس، خواتین اور دکانداروں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔

پھر سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں اور سیاسی کارکن اغواء ہونے لگے۔ 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم میں صوبائی خودمختاری کا معاملہ طے ہوا۔ بقول میرحاصل بزنجوکہ اٹھارہویں ترمیم میں دی گئی صوبائی خودمختاری میں مجیب الرحمن کے 6 نکات کے ہم پلہ ہیں۔ اس میں دی گئی صوبائی خودمختاری میں صوبوں کی الگ کرنسی کے علاوہ وہ تمام نکات شامل ہیں جن کی 6 نکات نمایندگی کرتے تھے۔ بلوچستان میں پہلی دفعہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حکومت بنائی۔ ڈاکٹر مالک نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے اور جلاوطن بلوچ رہنماؤں کی واپسی کے لیے سیر حاصل کوشش کی مگر اس سے پہلے کہ ان کی کوششیں کامیاب ہوتیں ان کی حکومت کی معیاد ختم ہو گئی۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ موجود ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جنگجو گروہ اس حقیقت کو مان لیں کہ دوسروں کی فراہم کردہ بندوق سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف مقتدرہ قوتوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ محض طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ 16 دسمبر کی یاد مانتے ہوئے باشعور لوگوں کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ بنگالیوں نے تاریخی جدوجہد کی مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ مسئلے کا حل ثناء بلوچ کی موجودگی میں دستیاب ہے، یہ حل آئین میں خصوصی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔ تمام صوبوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں سیاسی بے چینی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ثناء بلوچ کی بلوچستان کو خصوصی حیثیت دینے کی تجویزاہم ہے۔