گونگا مفکر

ہندوستان ایک انتہائی غریب ملک ہے، جہاں کی آبادی کا 50 فیصد حصہ غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزارتا ہے


Zaheer Akhter Bedari December 16, 2016
[email protected]

ہندوستان ایک انتہائی غریب ملک ہے، جہاں کی آبادی کا 50 فیصد حصہ غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزارتا ہے، غربت کی وجہ ہزاروں کسان خودکشیاں کرتے ہیں، پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے 36 لاکھ ناریاں اپنی ناموس بیچتی ہیں، جہاں لاکھوں بچے فٹ پاتھ پر پیدا ہوتے ہیں فٹ پاتھ پر جوان ہوتے ہیں، فٹ پاتھ پر بوڑھے ہوتے ہیں اور فٹ پاتھ ہی پر مرجاتے ہیں ایسے غریب اور پسماندہ ملک کا حکمران طبقہ جب پوکھران میں ایٹمی تجربہ کرتا ہے تو سارا میڈیا سرکار کی جئے جئے کار سے گونج اٹھتا ہے۔

بھارت کے وہی بھوکے عوام جن کی 50 فیصد تعداد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے، ایٹم بم کے تجربے سے جھوم اٹھتی ہے۔ بھارت زمین سے زمین پر 3 ہزارکلومیٹر تک مارکرنے والا پرتھوی میزائل بناتا ہے تو بھارتی میڈیا حکومت کی جئے جئے کار سے بھر جاتا ہے اور سیاسی پارٹیاں بھارتی ایٹمی سائنسدانوں کی اس کامیابی پر حکومت کو مبارکباد دیتی ہیں اور بھارتی قوم کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ بھارتی خودمختاری، بھارتی سالمیت، بھارت کی فوجی برتری کا نشہ بھارت کے غریب عوام کو بدمست کر دیتا ہے وہ بھوکے پیٹ بھارت کی جئے جئے کار کے نعرے لگاتے ہیں۔ بھارتی حکومت لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو بھارت کے ننگے بھوکے عوام خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

پاکستان بھارتی ایٹمی دھماکے کے جواب میں چاغی میں لگاتار ایٹمی دھماکے کرتا ہے تو پاکستانی میڈیا زندہ باد کے نعروں سے سج جاتا ہے اور دو وقت کی روٹی سے محتاج عوام پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں کی اس کامیابی پر جھوم اٹھتے ہیں۔ بھارت کے اگنی میزائل کے جواب میں پاکستان جب غوری میزائل بناتا ہے تو ساری قوم کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے مفکر دانشور گونگے بنے بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ ملکی سالمیت اور دفاع کے لیے کیے جانے والے یہ اقدامات ملک وملت کی برتری اور سالمیت کے لیے ضروری ہیں۔

مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد مسلکی اختلافات پر رکھی گئی ہے ہمارے ملک میں مختلف مسالک کے ماننے والے موجود ہیں اور ان سب کا تعلق عموماً غریب طبقات سے ہے یہ غریب مسالک کی وجہ تسمیہ سے ناواقف ہوتے ہیں لیکن مسالک کے نام پر ایک دوسرے کا خون بہانے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔ دہشتگرد مخالف فقہ کے ماننے والوں کو بسوں سے اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کر کے انھیں لائن میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ ہمارے مفکر، ہمارے دانشور گونگے بنے بیٹھے رہتے ہیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے بھارتی دانشور بھارتی مفکر گونگا بنا بیٹھا رہتا ہے۔ غیر جانبداری کے حوالے سے ساری دنیا میں جانا جانے والا بھارت امریکا سے فوجی معاہدہ کرتا ہے، بھارتی مفکر بھارتی دانشور زبان بند کیے بیٹھا رہتا ہے۔

پاکستان اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے F-16 خریدتا ہے اور بھارت اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں روپوں کے روسی مِگ 29 طیارے خریدتا ہے بھارتی اور پاکستانی مفکر اور دانشور گونگے بنے بیٹھے رہتے ہیں کہ ملکی سالمیت ملکی دفاع پر زبان ہلانا قومی مفاد کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔کوئی مذہبی تقریب آتی ہے کوئی مذہبی جلوس نکالا جاتا ہے تو دو دن پہلے ہی سے جلوس کے تمام راستے کنٹینر لگا کر بندکر دیے جاتے ہیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکر دی جاتی ہے۔ شہر بھر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور رینجرزکو بلا لیا جاتا ہے، موبائل فون سروس بند کردی جاتی ہے۔ ہمارا مفکر، ہمارا دانشور زبان نہیں کھولتا کہ مذہبی معاملات پر زبان کھولنا سخت منع ہے، ہمارے شہر میں عبادت گاہیں بھی فقہوں کے حوالے سے بٹی ہوئی ہیں اور ان بٹی ہوئی عبادت گاہوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ہمارا مفکرگونگا بنا بیٹھا رہتا ہے۔

عراق اور شام کی جاہلانہ جنگوں سے خوفزدہ عوام اپنا ملک چھوڑکر اپنے بال بچوں کے ساتھ کشتیوں میں سوار ہوکر مغربی ملکوں میں پناہ لینے کے لیے نکلتے ہیں، ان کی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور سیکڑوں تارکین وطن جن میں مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب شامل ہوتے ہیں سمندرکی نذر ہوجاتے ہیں ہمارا مفکر دم سادھے بیٹھا رہتا ہے۔ عراق، شام، سعودی عرب، افریقہ کے کئی ملکوں میں ہر روز خودکش دھماکوں میں ہزاروں بے گناہ لوگ اذیت ناک موت کا شکار ہوجاتے ہیں ہمارا مفکر، ہمارا دانشورگونگا بنا بیٹھا رہتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ہتھیاروں کی صنعت میں کھربوں روپوں کے جدید ہتھیار تیار ہوتے ہیں اور فروخت ہوتے ہیں ہمارا مفکر زبان بندکیے بیٹھا رہتا ہے۔ میزائل دفاعی نظام خریدے اور بیچے جاتے ہیں دنیا کے مفکر اور دانشور زبان بند کیے بیٹھے رہتے ہیں پسماندہ ملکوں میں حکمران طبقات کھربوں کی کھلے عام کرپشن کرتے ہیں غریب دو وقت کی روٹی سے محتاج ہے ہمارا مفکر ہمارا دانشورگونگا بنا بیٹھا ہے۔

سیکڑوں مدرسوں میں لاکھوں طلبا جدید علوم سے نابلد ہیں ہمارا مفکر خاموش ہے، دنیا کا انسان رنگ نسل قومیت ملک وملت کے نام پر تقسیم ہے اور ایک دوسرے سے نفرت کرتا ہے ہمارا مفکر ہمارا دانشور خاموش ہے۔ دنیا کے تنازعات حل کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ اقوام متحدہ بنایا گیا یہ ادارہ امریکا کا غلام بنا ہوا ہے کشمیر اور فلسطین جہاں اب تک لاکھوں بے گناہ مارے گئے ہیں ان کے مسائل نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی ٹیبل پر پڑے ہیں ہمارا مفکر خاموش ہے۔ دنیا چاند پر ہو آئی مریخ پر جانے کی تیاری کر رہی ہے خلا میں برسوں سے خلائی اسٹیشن کام کر رہا ہے دنیا میں اسلام کا قلعہ کہلانے والے ملک پاکستان میں چاند دیکھنے پر تنازعات کھڑے ہو جاتے ہیں ، ہمارا مفکر گونگا بنا بیٹھا ہے۔

مقبول خبریں