قاتلوں کو ضمانت اور رہائی کی سہولتیں

ٹارگٹ کلنگ اب سیاسی اور فقہی حدود پارکرکے فلاحی کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز تک پہنچ گئی ہے۔


Zaheer Akhter Bedari December 24, 2012
[email protected]

ہماری عدلیہ سماجی اورسیاسی برائیوں کے خلاف جو اقدامات کر رہی ہے وہ یقیناً قابل تعریف ہے۔ خاص طور پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے عدلیہ نے جو اقدامات کیے ہیں جو فیصلے کیے ہیں وہ مثبت سمت میں ایک قدم ہیں لیکن کراچی میں ٹارگٹ کلرزکی سرگرمیاں،بینک ڈکیتیوں کی بڑی بڑی وارداتوں اور بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ تاجر برادری اپنا کاروبار بند کرکے سڑکوں پر دھرنے دے رہی ہے، بھتے کی پرچیوں، پستول کی گولیوں اور فون کالز کے ذریعے تاجروں کو دھمکا کر لاکھوں کروڑوں روپے بٹورنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ٹارگٹ کلنگ اب سیاسی اور فقہی حدود پارکرکے فلاحی کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز تک پہنچ گئی ہے۔ وحشت و بربریت کی یہ کارروائیاں اب قبائلی علاقوںسے نکل کر کراچی جیسے ترقی یافتہ صنعتی شہر تک آگئی ہیں۔ پچھلے دو دنوں میں لگ بھگ درجن بھر ہیلتھ ورکرز کو انتہائی وحشیانہ طریقوں سے قتل کردیا گیا ہے، ان قتل کیے جانے والوں میں ان معصوم مجبور اور بے گناہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد اسّی فیصد کے لگ بھگ ہے جو اپنی غربت سے مجبور ہوکر دو ڈھائی سو روپے کے معمولی معاوضے پر صبح سے شام تک گھر گھر جاکر چھوٹے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی ڈیوٹی انجام دیتی ہیں۔ جہاں انھیں آوارہ لوگوں کے بیہودہ ریمارکس کا مسلسل سامنا رہتا ہے، اس تکلیف دہ ڈیوٹی کے باوجود جب انھیں دہشت گردوں کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس ظلم اور ناانصافی کا ازالہ کون کرے گا؟

ان ساری خرابیوں کی ذمے داری تو حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے جو شکایتیں منظر عام پر آرہی ہیں وہ یہ ہیں کہ پولیس جب مجرموں کو رنگے ہاتھوں ہتھیاروں کے ساتھ پکڑتی ہے اور ان سے چوریوں، ڈکیتیوں کا مال بھی برآمد کرتی ہے اور ایسے مجرم میڈیا کے سامنے اپنے جرائم کا اقرار بھی کرلیتے ہیں تو انھیں کوئی سزا اس لیے نہیں دی جاسکتی کہ قانون کے رکھوالے کالے کوٹ والے ان مجرموں کو قانون ہی کی مختلف دفعات کے حوالے سے آزاد کرالیتے ہیں یا ان کی فوری ضمانت کروالیتے ہیں۔ قانون اور انصاف شرم سے سرجھکائے کھڑا رہ جاتا ہے۔ ٹی وی کے مختلف پروگرامز میں خود پولیس افسران یہ شکوہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہم جان جوکھوں میں ڈال کر جن مجرموں کو پکڑتے ہیں ان کی چند گھنٹوں میں ضمانت کروالی جاتی ہے اور یہ مجرم اور زیادہ دیدہ دلیری سے اور زیادہ سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ پولیس اور رینجرز کے اہلکار آج کل بڑی بے جگری سے مجرموں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور مارے بھی جارہے ہیں لیکن پولیس کا محکمہ بہ حیثیت مجموعی ابھی بھی انتہائی کرپٹ محکمہ ہے اب بھی تھانے نیلام ہوتے ہیں، اب بھی تھانوں کی حدود میں تھانوں کی سرپرستی میں جرائم کے اڈے چل رہے ہیں اور پولیس کو بڑی پابندی سے بھتہ بھی جاتا ہے، ظاہر ہے جو مجرم پولیس کو بھتہ دیتے ہیں انھیں پولیس کی طرف سے کوئی خطرہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہی حال دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے جس کا ازالہ یا خاتمہ چند سرکاری اہلکاروں کی جانوں کی قربانیوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جرائم کے اڈوں کو پولیس کی سرپرستی حاصل رہتی ہے اور ایک ایس ایچ او کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے علاقے میں جرائم کے کتنے اڈے کام کر رہے ہیں اور کتنے مجرم اس کے علاقے میں جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اگر یہ محکمہ ایمانداری اور فرض شناسی سے اپنی ذمے داریاں ادا کرے اور بدعنوانیوں کا راستہ ترک کردے تو اسّی فیصد جرائم تو ویسے ہی ختم ہوسکتے ہیں۔ لیکن کیا پورے معاشرے کی رگوں میں زہر کی طرح پھیلی ہوئی کرپشن سے یہ محکمہ نجات حاصل کرسکتا ہے؟

جرائم کے حوالے سے ایک مقبول عام تھیوری یہ ہے کہ جرائم کی اصل وجہ معاشی ناانصافیاں ہوتی ہیں جس معاشرے میں میرٹ کی جگہ سفارش،اقربا پروری، ذاتی پسند ناپسند لے لیتی ہے تو وہاں متاثرہ لوگوں میں نفرت اور اشتعال کا پھیلنا ایک فطری بات ہوتی ہے اور نا انصافیوں کا شکار ہونے والے جرائم کے راستے پر بھی چل پڑتے ہیں لیکن اب جرائم کی پوری شکل اور تھیوری سر سے پیر تک تبدیل ہوگئی ہے۔ نوجوانوں کی ایک معقول تعداد محنت کے بغیر دولت مند بننے کے راستے پر چل پڑی ہے۔ بھتہ اور ڈکیتیوں میں اس قسم کے کام چوروں کا بڑا حصہ ہے جو راتوں رات دولت مند بننے کے لیے ڈکیتیوں، اغواء برائے تاوان کا کاروبار بڑے منظم طریقوں سے چلا رہے ہیں۔ میڈیا میں یہ خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ بعض ایلیٹی اکابرین خاص طور پر وڈیرہ شاہی نظام کے محترم لوگ اس کاروبارکی سرپرستی کرتے ہیں اور اس حوالے سے چھینی جانے والی قیمتی گاڑیوں کا کاروبار اس قدر منظم طریقے سے چل رہا ہے کہ اس کے تمام مراحل ''خیر وخوبی'' کے ساتھ پورے ہورہے ہیںاور کراچی سے چمن تک اور قبائلی علاقوں تک یہ گاڑیاں بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ جاتی ہیں۔

قانون اور انصاف کا بول بالا کرنے میں وکلا برادری ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن وکلا برادری کے پیشہ ورانہ کلچر پر نظر ڈالیں تو یہ عجیب و غریب صورت حال سامنے آتی ہے کہ اس برادری کی قانونی مہارت مظلوموں کو انصاف دلانے کے ساتھ ساتھ مجرموں کو بچانے میں بھی صرف ہورہی ہے۔ آج سارے ملک خاص طور پر کراچی میں یہ شکایت عام ہے کہ پولیس بڑی تگ و دو کے بعد جن مجرموں کو رنگے ہاتھوں پکڑتی ہے وکلاء ایسے مجرموں کی فوری ضمانت کرالیتے ہیں اگر جرم مشکوک ہو تو ایسے ملزموں کی ضمانت یا رہائی میں قانونی مہارت کا استعمال قابل قبول ہوتا ہے لیکن جرم واضح ہو اور مجرم رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو پھر قانونی مہارت سے ایسے مسلمہ مجرموں کی ضمانتیں کرانا یا انھیں رہا کرانا قانونی اور انصاف کی حرمت اور اخلاقیات سے مطابقت رکھتا ہے؟ ہمارے عدالتی نظام میں ہمارے عجیب و غریب معاشرے میں یہ روایت بھی بڑی عجیب دکھائی دیتی ہے کہ وہی وکیل سب سے بڑا کہلاتا ہے جو قتل کے مقدمات میں قاتلوں کو انصاف اور قانون کے مکھن سے بال کی طرح نکال لے ۔ مگر یہ روایت اور قانونی مہارت کا یہ معیار درست ہے تو کیا معاشرے میں جرائم کے اضافے کو روکنا ممکن ہے؟

ہمارے محترم چیف جسٹس صاحب انصاف کی حرمت کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں، وہ مستحسن ہیں اور اس حوالے سے کراچی کے بدترین حالات کا ازخود نوٹس لے کر جو اقدامات کر رہے ہیں، وہ بھی بلاشبہ قابل تعریف ہے لیکن مجرموں کی ضمانتوں اورگواہ ثبوت کی عدم دستیابی کی وجہ سے مجرموںکی رہائی کی جو شکایات آج واویلے کی شکل اختیارکر رہی ہیں، اس میں قانونی چشم پوشیوں، قانونی مہارتوں کے علاوہ کیا انصاف کی چشم پوشیاں اور انصافی ڈھانچے میں نیچے سے اوپر تک سرائیت کر جانے والی خرابیوں کا بھی کوئی دخل ہے؟ مثال کے طور پر ہماری دیہی زندگی اور زرعی معیشت میں وڈیروں کی نجی جیلوں کا کلچر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، نجی جیلوں سے سیکڑوں ہاری کسان مع خاندان عشروں کی قید کے بعد برآمد ہوتے ہیں تو انھیں عدالت سے'' آزاد اور مرضی کے مطابق زندگی گزارنے '' کا انصاف تو مل جاتا ہے لیکن ان کی عمر کا ایک بڑا حصہ جس طرح ان جیلوں میں گزر جاتا ہے نہ اس کا حساب ہوتا ہے نہ کسی وڈیرے کو اس سنگین جرم کی سزا ملتی دکھائی دیتی ہے۔

پولیو مہم کے خلاف قبائلی جہل سے نکل کر کراچی جیسے بیدار شہر میں جو وبا آرہی ہے اس ''وبا کے جرثوموں'' کو موقعہ واردات سے آلہ قتل اور اقرار قتل کے ساتھ پکڑا جارہا ہے، لیکن بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان کے جرائم میں پکڑے جانے والے مجرموں کی طرح پولیو کے قاتل بھی قانون اور انصاف کے گرد وغبار میں گم ہورہے ہیں، کیا یہ طریقہ کار انصاف کی بالادستی قائم کرنے اور معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے؟

ہمارے قانون اور انصاف کی پوری عمارت گواہ اور ثبوت کے ستونوں پر کھڑی ہے اور اس جبر و ظلم کے معاشرے میں کسی مظلوم کی یہ جرأت نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے حق میں اور ظلم کرنے والے ظالموں کے خلاف گواہی دے یا ثبوت پیش کرے۔ کیونکہ اس جرأت کی سزا مظلوم کی بوریوں میں بند لاشوں کی شکل میں سامنے آتی ہے اور انصاف کی تاریک راہوں میں مارے جانے والے ان مظلوموں کے ساتھ ان کے پورے کے پورے خاندان قتل ہوجاتے ہیں۔ کیا اس ظلم وجبر کو ختم کیے بغیر انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں؟ ہمارا خیال ہے کہ امن و امان کی اس بدتر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر قانون اور انصاف کے فوری نفاذ اور جزا و سزا کے فوری فیصلوں کا اہتمام ضروری ہے۔

مقبول خبریں