بشیربلورشہراورصوبے کے امن کیلیے شہیدہوئےعثمان بلور

شدت پسند جہاں بھی ہوں ان کیخلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، سردارحسین بابر.


Monitoring Desk December 25, 2012
دہشت گردوں کیخلاف گھیراتنگ کرنے کیلیے قوانین ہی نہیں،احمربلال’’لائیو ود طلعت‘‘میں گفتگو فوٹو : فائل

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' کے اینکرپرسن طلعت حسین نے کہاہے کہ بشیر بلور جیسے لیڈروں کی ہلاکت ایک روز میں نہیں ہوتی۔

اس کے لیے کئی روز قبل پلاننگ کرنی پڑتی ہے۔ ان کے سیکیورٹی خول میں دراڑیں ڈالنی پڑتی ہیں۔ پروگرام میں طلعت حسین نے کہاکہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت ایسے لوگوں کے لئے شہ بنی ہے۔یہاں یہ تاثر مل رہا ہے کہ اگر بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو نہیں پکڑا جاسکا تو پھر کسی کے ساتھ کچھ بھی ہوجائے، کچھ نہیں ہوگا۔اگر بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کوئی پالیسی بن جاتی تو شاید آج بشیر احمد بلور ہم میں موجود ہوتے ۔ پروگرام میں شریک بشیر بلور کے بیٹے عثمان بلور نے کہاکہ پاکستان کی فوج دنیا کی چند بڑی فوجوں میں شمارکی جاتی ہے،ہم نے بڑی جنگیں بھی لڑی ہیں، ہم چند سو لوگوں پر قابو نہ پاسکیں تو یہ بڑی افسوسناک بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بلور کے تمام اثاثے چیک کرلیں، ایک روپے کا اکائونٹ بھی لندن یا دبئی میں نہیں ہے۔

جو کچھ بھی ہے پاکستان میں ہے،وہ اپنے شہر اورصوبے کے امن کے لیے شہید ہوئے ۔ہم دونوں بھائی پارٹی اور ان کے منشور کو لے کر چلیں گے۔ میں میڈیا کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں جنھوں نے ہمارے والد کے حوالے سے بھرپورکوریج کی اور ساری دنیا تک ان کی تدفین کے مناظر پہنچائے ۔ اے این پی کے رہنما سردار حسین بابر نے کہا کہ شدت پسند جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے۔

10

بشیر بلور کی شہادت کے بعد ہم وفاق کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔دہشت گرد صرف اے این پی کو ٹارگٹ نہیں بنارہے، وہ سب کو ہد ف بنارہے ہیں ۔ماہرقانون احمد بلال صوفی نے کہاکہ پاکستان کے پاس دہشت گردی کیخلاف ایسے قوانین ہی نہیں ہیں جن سے دہشت گردوں کیخلاف گھیراتنگ کیا جاسکے۔قانون سازی کو اپ گریڈکرنا بہت ضروری ہے ۔