پشتو گلوکارہ معشوق سلطانہ انتقال کر گئیں

پشتو گلوکارہ معشوق سلطانہ اپنے ہزاروں پرستاروں کو سوگوار کرگئیں۔


Editorial December 21, 2016
پشتو گلوکارہ معشوق سلطانہ اپنے ہزاروں پرستاروں کو سوگوار کرگئیں ۔ فوٹو: فائل

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور دیگر کئی اعزازات پانے والی پشتو گلوکارہ معشوق سلطانہ اپنے ہزاروں پرستاروں کو سوگوار کرگئیں۔ وہ کافی سال سے صاحب فراش تھیں اور ہیپاٹائٹس اور ذیابیطس سے نبردآزما تھیں۔ معشوق سلطانہ سوات کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ باوجود اس کے کہ ان کے گھرانے کا موسیقی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ان کو بچپن سے گلوکاری کا شوق تھا۔ وہ اپنی خداداد صلاحیت اور لگن سے آگے بڑھیں اور نجی محافل میں اپنے شوق کو پورا کرتی رہیں، یہاں تک کہ ریڈیو پاکستان تک ان کی رسائی ہوگئی جس کے بعد ان کی آواز گھر گھر پہنچی اور پھر ان کی شہرت نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ ان کا اصل میدان پشتو لوک گلوکاری ہی تھا مگر انھوں نے اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں بھی گیت گائے۔ ایک دو پشتو فلموں میں اداکاری بھی کی مگر پھر اپنی پوری توجہ گلوکاری ہی کی طرف کردی۔

انھیں پشتو گائیکی کی میلوڈی کوئین بھی کہا گیا۔ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی مقبول تھیں اور انھوں نے امریکا، ایران اور خلیجی ممالک میں بھی مختلف مواقعوں پر پاکستانی کی نمائندگی بھی کی۔ معشوق سلطانہ کی وفات پر ان کے مداح ان کے لیے مغفرت اور ابدی درجات کے دعاگو ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فن کو زندہ رکھنے کی سعی ضروری ہے جس میں دیگر چیزوں کے ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوک گلوکاری اور اس فن کے بڑے ناموں کو مین اسٹریم میڈیا پر اجاگرکیا جائے اور نوجوان تعلیم یافتہ نسل کو معشوق سلطانہ اور ان جیسے دیگر بڑے لوک گلوکاروں کے فن سے آشنائی دی جائے تاکہ وہ اپنی لوک گلوکاری کے عظیم ورثے سے بہرہ مند ہوں اور اس پر فخر کرسکیں۔