جنونیت کے مظاہر
یہ رضاکار 250 روپے روزانہ اجرت پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔
ایک مخبوط الحواس شخص کو جس کی عمر 30 سال کے قریب تھی، ہجوم نے ضلع دادو کے گاؤں سیتا کے تھانے راجو ڈیرو کے لاک اپ سے نکال کر سنگسار کیا اور پھر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔ ایک ہزار افراد پر مشتمل ہجوم اس شخص کو موت کی طرف دھکیلنے کا منظر دیکھتا رہا۔ اخبارات کا کہنا ہے کہ اس شخص پر ایک مسجد میں داخل ہو کر قرآن شریف کو نذر آتش کرنے کا الزام تھا۔ کراچی میں گزشتہ ہفتے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم میں شریک 5 افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا، ان میں چار خواتین تھیں۔ اسی طرح کے واقعات پشاور اور قبائلی علاقے میں بھی ہوئے اور 9 کارکن اس مہم میں کام آگئے۔
پشاور میں شہید ہونے والی خواتین میں 15 سالہ کارکن بھی شامل تھی۔ یہ رضاکار 250 روپے روزانہ اجرت پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ ایک اخبار میں شایع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم غیر ملکی این جی اوز کی سازش ہے تاکہ القاعدہ اور طالبان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاسکے۔ یہ واقعات پاکستانی معاشرے میں بربریت، جنونیت اور رجعت پسندانہ سوچ کی جڑوں کی گہرائی کی نشاندہی کررہے ہیں۔ قرآن شریف دنیا کی مقدس ترین کتاب ہے، صرف مسلمانوں پر ہی نہیں بلکہ ہر انسان کا فرض ہے کہ قرآن شریف کا احترام کریں۔
جید علمائے کرام کا کہنا ہے کہ قرآن شریف سمیت تمام مذہبی کتابوں کا احترام ہر انسان پر واجب ہے۔ کوئی بھی نارمل شخص قرآن شریف کی توہین کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاگل افراد کو تشدد کرکے یا قتل کرکے ان کی ذہنی حالت بہتر نہیں کی جاسکتی، انھیں علاج کے لیے دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر دماغی بیماریوں کا بہت طویل علاج ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ جو لوگ اس مقصد کے لیے تشدد کا سہارا لیتے ہیں وہ خود جنونی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی جہالت اور جنونیت کی بنا پر کسی فرد پر تشدد کرکے اپنے سفلی عزائم کی تسکین کرتے ہیں یا انتہاپسندی اور جنونیت پھیلانے کے ایجنڈا کی تکمیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف مہم میں رجعت پسند اور انتہاپسند قوتیں ملوث ہیں۔
پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف مہم کا جائزہ لیا جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مہم نائن الیون سے پہلے سے جاری ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف دائیں بازو کے بعض دانش ور سرگرم رہے ہیں۔ یہ حضرات برسوں سے اس طرح کی مہم کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سازش قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے بعض رسالوں میں آرٹیکلز بھی تحریر کیے گئے۔ رجعت پسند مولویوں کو اس طرح کے خیالات سے تقویت ملتی ہے۔ اس سوچ کا مقصد سائنس سے انحراف اور معاشرے کو ہزار سال پیچھے لے جانا ہے۔
مگر ماضی میں کیونکہ ریاست نے کبھی اس سوچ کی سرپرستی نہیں کی تھی اس بنا پر یہ سوچ معاشرے کی ساخت کو متاثر نہیں کرسکی۔ مگر جب گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں امریکا نے اسلامی انتہاپسندی کو سوویت یونین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو انتہا پسندوں نے افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا کام شروع کردیا۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز نے انتہاپسندی کو دنیا بھر میں برآمد کرنے کا منصوبہ شروع کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پاکستان اور افغانستان ہی اس انتہاپسندی سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ بھارت، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا میں بھی آباد مسلمان اس کی لپیٹ میں آگئے۔ بھارتی نژاد مسلمان عورت کا اپنے بیٹے کو قرآن شریف حفظ نہ کرنے پر تشدد سے ہلاک کرنے اور جرم کو چھپانے کے لیے اس کی لاش کو نذر آتش کرنے کا دردناک واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کررہا ہے کہ جنونیت اور تشدد کے کتنے خطرناک روپ ہیں۔
بہت سے روشن خیال علما اس صورتحال پر سخت رنجیدہ ہیں۔ اسلامیات کے ایک استاد کا کہنا ہے کہ اسلام کے اصولوں کے تحت کسی فرد یا ہجوم کو کسی شخص کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہے۔ سزا دینے کا اختیار صرف قانونی عدالت کو ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قتل ہونے والے شخص کے خلاف الزام غلط ثابت نہ ہوا تو پھر اس کی موت کا کون ذمے دار ہوگا؟ اس طرح بہت سے علما پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے چاہئیں۔ اسلام میں کسی فرد کو تشدد کی اجازت نہیں۔ مسلمانوں کو بیماریوں سے بچنے اور صحت برقرار رکھنے کے لیے علاج کرانے کا حق ہے، اس حق کو کسی صورت غصب نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ان روشن خیال علما اور اسلامیات کے اساتذہ کی تعداد قلیل ہے۔
یہ اساتذہ محض تعلیمی اداروں تک محدود ہیں۔ اس بارے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کا کام دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں کرتی ہیں۔ اسلامی امور پر تحقیق اور کتب کی اشاعت کے حوالے سے جماعت اسلامی کا نام نمایاں ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کابل میں ملا عمر کے دور میں ہونے والے بعض کاموں سے متفق نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے حق میں ہے۔ ایک محقق سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم خدمت خلق فائونڈیشن پولیو کے قطرے پلانے کی مہم میں شرکت کرتی ہے مگر دوسری مذہبی جماعتیں اس بارے میں منفی رویہ رکھتی ہیں۔ ان میں جمعیت علمائے اسلام کے تمام گروپ قابل ذکر ہیں۔ جے یو آئی کا قبائلی علاقوں میں خاصا اثر ہے، ایک صحافی کا کہنا ہے کہ بعض مذہبی رہنما انسانی زندگی اور سائنسی فکر کے بارے میں دہرے رویے کا شکار ہیں۔
یہ لوگ میڈیا کے سامنے آکر تو اس طرح کی مہموں کی حمایت کرتے ہیں مگر جب اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو رجعت پسندانہ سوچ کو تقویت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان علما نے کبھی بھی پولیو کے خلاف مہم کی مذمت نہیں کی۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ صرف پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا کی مسلمان آبادی میں پولیو کا مرض موجود ہے۔ جب تک ریاست انتہاپسندی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار نہیں دے گی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔