بشیر احمد بلور کس شیر کی رخصت ہے
زندگی میں سرخرور رہے اور موت سے ملاقات بھی ایسی دھج سے کی جس پر دیکھنے والوں کو رشک آئے۔
ایک ایسے زمانے میں جب دیوارودر پر خون کے چھاپے ہوں اورکچھ لوگ گلیوں اور بازاروں میں بارود بچھا کر یہ فرض کرتے ہوں کہ انسانوں کا خون ناحق انھیں جنت کے دروازے پر پہنچائے گا اور وہ 72 حوروں کے دولہا بنیں گے، ایسے خوں رنگ زمانے میں عدم تشدد کی بات کرنا، یہ کہنا کہ ہم گولی کا جواب گولی سے نہیں دیں گے، ہم جان دے دیں گے لیکن خوں آشام قبیلے کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے، ہم انسانوں کی خدمت کو شعار بنائیں گے اور خدائی خدمتگار کہلائیں گے، ایک ایسا امتحان ہے جس پر بہت کم لوگ پورے اترتے ہیں۔ یہی وہ روایت تھی جس سے بشیر بلور نے آخری سانس تک اپنا رشتہ قائم رکھا، یہی وہ راستہ تھا جس پر چلتے ہوئے وہ لحد میں اتر گئے۔ زندگی میں سرخرور رہے اور موت سے ملاقات بھی ایسی دھج سے کی جس پر دیکھنے والوں کو رشک آئے۔
بشیر احمد بلورکو خراج عقیدت ادا کرنے سے قبل کچھ جملے اس شخصیت کی نذر جس نے عدم تشدد کے اس راستے پرچلنے کی روایت قائم کی۔ نام ان کا عبدالغفار خان تھا اوروہ باچاخان اوربادشاہ خان کہے گئے۔ باپ انھیں برٹش انڈین آرمی میں بھیجنا چاہتے تھے لیکن انھیں برٹش راج سے نفرت تھی، اسی لیے وہ سیاست کے میدان میں اترے اور غلام ہندوستان کو آزادی دلانے کی راہ اختیار کی۔ مہاتما گاندھی کا عدم تشدد کا راستہ انھیں ایسا بھایا کہ 30 کی دہائی میں انھوں نے بھی عہد کیا کہ وہ کبھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور کبھی آزادی کی خاطر کسی انگریز کا خون نہیں بہائیں گے۔ وہ جس علاقے سے تعلق رکھتے تھے وہاں ہتھیار کو پٹھان کا زیورکہا جاتا تھا اور آج بھی اکثریت یہی سمجھتی ہے۔ ایسے علاقے میں ہزارہا لوگوں سے ہتھیار رکھوا کر انھیں ''خدائی خدمتگار'' بنا لینا ایک معجزہ تھا جو باچا خان نے کر دکھایا۔ یہ ہماری بدبختی ہے کہ ایک ایسے عظیم رہنما کی ہم نے قدر نہ کی اور بٹوارے کے بعد اسے ''غدار'' کے خطاب سے نوازا اور اس کی بیشتر زندگی قیدو بند میں گزری۔
ان کی سیاست ہمارے بالادست طبقات کو اپنے مفادات اور مراعات کے لیے ایک خطرہ محسوس ہوتی تھی اسی لیے ہمارے یہاں ان کی نیشنل عوامی پارٹی کو، انھیں اور ان کے بیٹے خان عبدالولی خان اور ان کے ہم خیال افراد کو ''غدار'' اور ''وطن فروش'' اور ''پاکستان دشمن'' کہنے کی ایسی ریاستی مہم چلائی گئی جس نے عام لوگوں کے ذہنوں کو آلودہ کردیا۔ کچھ لوگوں کو وہ دن تو یاد ہوں گے جب نیشنل عوامی پارٹی کے تمام رہنما ''غدار'' قرار دے کر جیلوں میں بھر دیے گئے تھے۔ اس کے بعد عبدالولی خان اور ان کے ساتھی اس بات پر مجبور ہوئے کہ وہ اپنی پارٹی کا نام بدلیں اور اسے عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے یاد کریں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے حقوق اور ان کے لیے مراعات کی لڑائی لڑتے ر ہیں۔ خان عبدالولی خان، بیگم نسیم ولی خان، اسفند یار ولی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ہر رہنما اور ہر کارکن نے عدم تشدد کے راستے اپنے لوگوں کی جنگ جم کر لڑلی۔عدم تشدد وہ فلسفہ ہے جسے اختیارکرنے اور اپنی زندگی کی بنیاد بنانے کے لیے جگر خون کرنا پڑتا ہے۔ تحمل، رواداری اور برداشت کی جو روایت ہماری اس قابل قدر سیاسی جماعت نے قائم کی وہ بے مثال ہے۔
80 کی دہائی سے افغانستان میں جس ''جہاد'' کا آغاز ہوا۔ اس کے خطرات ولی خان، بیگم نسیم ولی خان اور دوسروں نے محسوس کرلیے تھے۔ یہ لوگ قدم قدم پر پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کو آگاہ کرتے رہے کہ ہمارے لیے دام ہم رنگ زمیں بچھا جارہا ہے اس کے خطرات کو اگر ہم نے محسوس نہیں کیا اور اس سے محفوظ رہنے کی تیاری نہیں کی تو پاکستان کی ریاست ایک عظیم خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔ فوجی حکمرانوں کے پاس فرصت نہ تھی کہ وہ ان کی بات پر کان دھریں۔ ان کے مفادات کا تقاضا کچھ اور تھا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جمہوری دور میں بھی ان خطرات کا راستہ نہ روکا جاسکا جو ہماری طرف بڑھتے چلے آرہے ہیں۔ یہ اسی بے اعتنائی کا نتیجہ ہے کہ جی ایچ کیو سے لے کر ہماری بری، فضائی اور بحری تنصیبات ان کے نشانے پر ہیں۔ 2008 میں انتخابات میں جیت کر آنیو الی وفاقی حکومت بالادستوں کے سامنے بے بس تھی اور ہے۔ خیبرپختونخوا میں انتخابات جیتنے ا ور کولیشن حکومت بنانے کے بعد سے اب تک اے این پی نے انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف جم کر لڑائی لڑی ہے۔ ان کے صف اول کے رہنمائوں اور عام کارکنوں نے خون کے دریا بہا دینے والوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دو ڈھائی برسوں کے دوران اس کے 500 سے زیادہ کارکن اور بڑے رہنما مارے جاچکے ہیں۔ وہ اژدھا جو ہماری طرف بڑھتا چلا آرہا ہے اس کا تازہ ترین شکار بشیر بلورہوئے۔
وہ ان جری اور جان باز لوگوں میں سے تھے جو رہتے ہی اپنے لوگوں کے درمیان تھے اور جن پر ناکام قاتلانہ حملے بھی ہوچکے تھے ۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ انتہا پسند کہیں دہشتگردی کا کارروائی کریں اور بشیر احمد بلور وہاں نہ پہنچیں۔ ان کے دوست اور اے این پی کے سینئر رہنما میاں افتخار حسین کی عمر دراز ہو کہ وہ بھی اسی بے جگری سے زندگی بسر کررہے ہیں۔ انھوں نے اپنا کڑیل جوان اکلوتا بیٹا دہشت گردی کے خلاف اسی جنگ کی نذر کردیا لیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ یہ باتیں کہنا اور لکھنا بہت آسان ہیں لیکن وہ لوگ جو ان حالات سے گزرتے ہیں ان کے دل سے پوچھیے کہ ان پر کیا گزرتی ہے۔
ایک حقیقت اور بھی ہے جسے ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اگر پاکستان کی محب وطن اور جمہوری طاقتوں نے اے این پی کو اس محاذ پر اکیلا چھوڑ دیا اور ان کی مزاحمت کمزور پڑ گئی تو دہشت گردی کا سیلاب پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ لہٰذا اس امر سے قطع نظر کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکا کی خوشنودی کے لیے ایک جنگ خود اپنے اوپر مسلط کرلی تھی اب تلخ سچائی یہ ہے کہ اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں، فوجیوں، پولیس اور رضاکاروں کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ اس جنگ سے مفر ممکن نہیں ہے کیونکہ دہشت گردی کا فلسفہ یہ ہے کہ اپنے موقف کو پرتشدد طریقے سے منوایا جائے اور اپنے مخالف کو اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ مجبور ہوکر سیاسی طور پربھی ہتھیار ڈال دے۔ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی شورش تامل ٹائیگرز کی جانب سے کی گئی تھی۔ انھیں اپنی پرتشدد اور مسلح جدوجہد میں تامل عوام کی حمایت بھی حاصل تھی۔ ان کے پاس ہوائی جہاز اور جنگی جہاز تک تھے۔ ان کے جنگجو بہترین تربیت یافتہ بھی تھے۔ یہ ایسی مسلح شورش تھی جس میں سیاسی مکالمہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لہٰذا 22 سال بعد آخر وہ دن بھی آگیا جب انسانی تاریخ کی اس سب سے بڑی شورش کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ آج سری لنکا کا تامل علاقہ بھی جمہوری عمل میں شریک ہے اور امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
اس تجربے سے سبق یہ ملتا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی مسائل حل نہیں کرتے بلکہ ایسا کرنے والے رفتہ رفتہ اپنی تھوڑی یا زیادہ حمایت بھی کھونے لگتے ہیں اور بالآخر انھیں پسپا ہونے پڑتا ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں جمہوری عمل جاری رہے۔ لوگ کھل کر اظہار رائے کرتے رہیں، عدلیہ آزاد رہے، لوگوں کو انصاف ملنے کی امید قائم رہے، سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے جواب دہ رہیں اور عوام میں اعتماد پیدا ہوکہ تبدیلی تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے نہیں بلکہ پرامن جمہوری انداز میں بھی لائی جاسکتی ہے۔
بشیر بلور کی شہادت کا پیغام یہی ہے کہ تمام جمہوری اور سیاسی قوتیں متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کریں، جمہوریت اور جمہوری عمل پر لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے سیاسی منافقتوں اور مصلحتوں سے باز رہا جائے۔
باچا خان نے بہت دنوں پہلے کہا تھا :
میری ایک ہی آرزو ہے میں اپنے نرم مزاج، جرأت مند اور وفا شعار لوگوں کو غیر ملکیوں کے شکنجے سے آزاد کرانا چاہتاہوں جنہوں نے ان کی تذلیل اور توہین کی۔
میں ان کے لیے ایک آزاد دنیا کی خواہش رکھتا ہوں۔ جہاں وہ حالت امن میں رہ سکیں۔ قہقہے لگائیں اور خوش رہیں۔
میں اس زمین کو چوم لینا چاہتاہوں ، جہاں کبھی ان کے گھر ہوتے تھے جنھیں وحشی اجنبیوں نے خاک میںملادیا۔
میں ایک جھاڑو لے کر ان تباہ حال گلیوں اور بازاروں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرنا چاہتا ہوں۔
میں ان کے لباس پر لگے ہوئے خون کے دھبوں کو اپنے ہاتھوں سے دھونا چاہتا ہوں۔
میں پہاڑوں پر رہنے والے ان لوگوں کا اصلی چہرہ لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں اور دنیا والوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا تم نے کبھی اتنے نرم دل، شائستہ اور مہذب لوگ کہیں اور دیکھے ہیں۔
اسی آرزو کا چراغ بشیر احمد بلور اور ان کے ساتھیوں کے دلوں میں روشن تھا، اسی آرزو کی تلاش میں بشیر احمد بلور ایک شیر کی شان سے رخصت ہوئے۔