فیصل آباد کے 6 کرکٹرز اچانک تبدیل کردیے گئے

مخصوص مفادات حاصل کرنے کیلیے نوجوان پلیئرز کے جذبات سے کھیلا گیا، ذرائع


Sports Reporter/Abbas Raza December 26, 2012
سلیکشن کمیٹی نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد ہی فہرست مرتب کی تھی، ماہرین فوٹو: فائل

قائد اعظم ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کیلیے فیصل آباد ریجن ٹیم کے 6 کھلاڑی اچانک تبدیل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ٹرائلز کے بعد سلیکشن کمیٹی کی طرف سے مرتب کی جانیوالی فہرست میں ردو بدل سے نوجوان کرکٹرز میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ تفصیلا ت کے مطابق ملک بھر میں 28 دسمبر سے شیڈول قائد اعظم ٹرافی ٹورنامنٹ کیلیے ٹیموں کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوا تو فیصل آباد میں بھی ڈومیسٹک ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ سے قبل ٹرائلز کرائے گئے،اقبال قاسم، فرح زمان اور شاہد نذیر پر مشتمل سلیکشن کمیٹی نے کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد اتفاق رائے سے 15 کھلاڑیوں کی فہرست مرتب کی، ڈپارٹمنٹس سے تعلق رکھنے والے 7کرکٹرز کی فہرست الگ سے تیار کی گئی۔

ریجن سے آصف علی، ذیشان بٹ، نوید لطیف، عبدالرئوف ، عامر محمود، محمد شاہد، عبدالرحمان، مرتضیٰ انیس، معظم حیات، فرحان آفتاب، غلام دستگیر، شعیب شاہ، رئوف نذیر، نصیر اکرم اور وقاص مقصود منتخب ہوئے، ٹرافی کیلیے پالیسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈپارٹمنٹس کے علی اسد، محمد طلحہٰ، سمیع اللہ نیازی، عمران خالد، علی وقاص، خرم شہزاد اور محمد سلمان کو بصورت دستیابی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حتمی فہرست پر سلیکٹرز نے دستخط بھی کردیے۔

2

مگر اقبال قاسم اور فرح زمان کے لاہور واپس آنے کے بعد 6ریجنل کھلاڑیوں کی جگہ نئی بھرتی کرلی گئی، آصف علی، عبدالرئوف، عامر محمود، محمد شاہد، شعیب شاہ اور رئوف نذیر کے نام غائب کرکے ان کی جگہ ذیشان الحق، مستنصر حسین، سمیع اللہ، بلال یوسف اور اکرام اللہ کو شامل کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں اتفاق رائے سے تیار کی جانے والی فہرست میں ردو بدل کے بعد اسکواڈ کا حصہ بنائے جانے والے کئی پلیئرز ٹرائلز میں ہی شریک نہیں تھے مگر راتوں رات کسی کرشمے نے کام کر دکھایا، منتخب ہونے کے باوجود ریجن کی نمائندگی سے محروم ہونے والے کرکٹرز اپنے اخراج پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بے بسی کی تصویر بن گئے لیکن لب کشائی کی جرات نہیں کرسکتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد ہی فہرست مرتب کی تھی، بعد ازاں ردو بدل ظاہر کرتا ہے کہ مخصوص مفادات حاصل کرنے کیلیے نوجوان کرکٹرز کے جذبات سے کھیلا گیا، آئندہ انتخابات میں اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کیلیے جھنگ اور بھکر سمیت مختلف حلقوں کے سفارشی پلیئرز کو شامل کیا گیا،کمزور ریجنل ٹیم کی کارکردگی خراب ہونے پر ذمہ داری کون قبول کریگا۔