پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا آخری مرحلہ مکمل

مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے صوبہ بھر کی 11میونسپل کارپوریشن میں سو فیصد کامیابی حاصل کرتے ہوئے 11نشستیں جیت لیں


Editorial December 23, 2016
۔ فوٹو: فائل

پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے سربراہان کا انتخاب بھی مکمل ہو گیا' بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کے تحت ہونے والے میئرز' ڈپٹی میئرز' چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع کونسل کی 33نشستوں میں سے مسلم لیگ ن نے 25نشستیں جیت لیں جب کہ دیگر 7نشستیں آزاد امیدواروں اور ایک مسلم لیگ ق کے حصے میں آئی' تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو کوئی نشست نہیں ملی۔

مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے صوبہ بھر کی 11میونسپل کارپوریشن میں سو فیصد کامیابی حاصل کرتے ہوئے 11نشستیں جیت لیں' ان میں لاہور' گوجرانوالہ' فیصل آباد' سرگودھا' راولپنڈی' سیالکوٹ' گجرات' ساہیوال' ملتان اور ڈی جی خان کے میئرز اور ڈپٹی میئرز کی تمام نشستیں شامل ہیں۔ اٹک میں ضلع کونسل کی نشست پر چوہدری شجاعت کی بھانجی نے چوہدری نثار کے بھانجے کو شکست دے دی جب کہ گجرات میں چوہدری شجاعت کی ہمشیرہ الیکشن ہار گئیں' رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما سید مخدوم احمد محمود کے بیٹے سید علی محمود ن لیگ کے امیدوار سے مات کھا گئے جب کہ ضلع کونسل میانوالی میں تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

فیصل آباد میونسپل کارپوریشن میں مسلم لیگ ن ہی کے دو گروپوں شیر علی اور رانا ثناء اللہ گروپ کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں رانا ثناء اللہ گروپ نے میدان مارا لیا۔ فیصل آباد میں تحریک انصاف سے وابستہ میئر اور ڈپٹی میئر کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں' 19ووٹ ہونے کے باوجود امیدواروں کو ایک بھی ووٹ نہ ملا' امیدواروں نے خود کو بھی ووٹ تک نہیں ڈالا۔ خبروں کے مطابق فیصل آباد میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے رانا ثناء اللہ گروپ کو ووٹ دیا' اس صورت حال کا علم ہونے پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ن لیگ سے اتحاد کرنے والے رہنماؤں کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آخری مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کو ریاستی مشینری استعمال کر کے جائز اور ناجائز طور پر ہائی جیک کیا گیا خصوصاً رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی کی واضح اکثریت کو انجینئرڈ شکست میں بدل دیا گیا۔ ہر الیکشن میں منتخب سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کے درمیان سیاسی جوڑ توڑ انتخابات کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور ہر سیاسی جماعت انتخابات جیتنے کے لیے اس کھیل میں حصہ لینا اپنا حق سمجھتی ہے۔ قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والے انتخابات میں رگنگ کے الزامات سامنے آتے ہیں مگر بلدیاتی انتخابات میں رگنگ کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ کا اہم کردار ہوتا ہے۔

انتخابات میں ہارنے والی پارٹیوں کی جانب سے سرکاری مشینری اور فنڈ کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی عام ہیں۔ اب آنے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت بائیو میٹرک نظام کو رائج کرے اور الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر خود مختار بنایا جائے تاکہ سرکاری مشینری اور فنڈ کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔ بہرحال بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کی تکمیل کے بعد پنجاب میں جمہوری عمل مکمل ہو گیا ہے۔ اب بلدیاتی اداروں کو اختیارات تفویض کیے جائیں تاکہ وہ عوامی مسائل خوش اسلوبی سے حل کر سکیں۔