ایمان کا حصہ
دہشتگردی کا بڑا دورانیہ جمہوری ادوار کا ہی رہا ہے
لاہور:
ہمارے وزیراعظم کو عوام کے اور قومی مسائل سے کس درجہ کا درد اور خیال ہے اس کا اندازہ وزیراعظم کے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے 40 ویں ایکسپورٹ ایوارڈز کے موقع پر کی جانے والی ان کی تقریر سے ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ''دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ میرے ایمان کا حصہ ہے، دہشتگردی کے فتنے کو کچل ڈالنا چاہیے کیونکہ فتنہ و فساد کرنے والوں کو ختم کرنا ثواب کا کام ہے، ہم 2018ء میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیں گے''۔
وزیراعظم نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ہم اقتدار سنبھالنے کے بعد ماضی کی غلطیاں ٹھیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ نواز شریف نے یہ دلچسپ اور حیرت انگیز انکشاف بھی کیا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے کرپشن کا ایک اسکینڈل بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
لوڈشیڈنگ بلاشبہ عوام کے لیے سب سے بڑا عذاب ہے، لیکن اس عذاب کو عوام پر نازل کرنے کی ذمے داری کس پر عاید ہوتی ہے، اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ 1988ء سے سوائے مشرف کے دس سالہ دور کے یا تو مسلم لیگ ن کی حکومت رہی ہے یا پھر پی پی پی برسر اقتدار رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر لوڈشیڈنگ جمہوری ادوار کا عطیہ ہے تو اس عذاب سے عوام کو نجات دلانے کے لیے جمہوری حکومتوں نے کیا کیا؟ اگر کچھ نہیں کیا تو اس کی ذمے داری کس پر عاید ہو گی، کیونکہ فوجی حکومتوں کی نااہلی اور ناقص کارکردگی سے تو یہ امید ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ قومی مسائل کے حل میں دلچسپی لیں۔
پچھلی طویل جمہوری حکومتوں کو تو چھوڑیے' 2008ء سے یا تو پی پی پی برسر اقتدار رہی یا پھر مسلم لیگ ن۔ کیا یہ عرصہ اس قدر مختصر تھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہ ہوتا؟ 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اگرچہ شریف برادران مہینوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کراتے رہے لیکن یہ دعوے صدا بہ صحرا ثابت ہوئے، اب چونکہ لوڈشیڈنگ کم یا ختم کرنے کے لیے عوامی دباؤ اس قدر شدید تھا کہ حکومت کو 2018ء تک لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنی پڑی۔
اس حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ 2018ء الیکشن کا سال ہے اور الیکشن لڑنے اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دینا ضروری ہے۔ سو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا کارنامہ 2018ء سے پہلے انجام دینا بہت ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے دہشتگردی کے خاتمے کو بھی اپنے ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ دہشتگردی بلاشبہ ہمارا ایک انتہائی اہم اور خطرناک مسئلہ ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے لیکن دہشتگردی کیا آج کا مسئلہ ہے؟
اس عفریت کا آغاز تو روس کے خلاف جہاد ہی سے شروع ہوا اور 9/11 کے بعد اس میں شدت بھی آئی اور پھیلاؤ بھی آیا۔ دہشتگردی کا بڑا دورانیہ جمہوری ادوار کا ہی رہا ہے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اس دہشتگردی میں 60،50 ہزار پاکستانی مسلمان شہید ہوئے۔ بلاشبہ دہشتگردی کے گڑھ شمالی وزیرستان سے دہشتگردوں کو نکال باہر کیا گیا لیکن اس کا کریڈٹ بھی ہماری فوجی قیادت ہی کو دیا جا رہا ہے۔
دہشتگردی کی ذمے داری سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن نے جمہوری حکومتوں خاص طور پر ہمارے وزیر داخلہ پر عائد کی ہے۔ کمیشن کی 110 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں دہشتگردوں سے تعلقات اور سہولت کاری کے الزامات جن وزراء پر ڈالے گئے ہیں بدقسمتی سے وہ وزیراعظم کے دست راست سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایسی ناگوار حقیقتیں ہیں جن سے نہ صرف حکومت کی نیک نامی پر اثر پڑ رہا ہے اور یہ تاثر مل رہا ہے کہ جن کالعدم تنظیموں کو سیاسی سرگرمیوں سے یکسر روکا جانا چاہیے تھا وہ حکومت کی ناک کے نیچے دھڑلے سے جلسے جلوس کر رہی ہیں۔
اگر کالعدم تنظیمیں بے قصور ہیں تو پہلے تو انھیں کالعدم قرار نہیں دیا جانا چاہیے تھا اگر کالعدم قرار دیا گیا تھا تو کوئٹہ کے حوالے سے بننے والے ایک رکنی کمیشن کی رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کو حکومت کی طرف سے سہولتیں ملنے کے الزام کا جواب کون دے گا؟
کرپشن نہ صرف ہمارے ملک، ہماری معیشت کو گھن کی طرح کھا رہی ہے، بلکہ عوام کی غربت اور بد حالی کی بڑی حد تک ذمے داری بھی کرپشن کلچر پر عاید ہوتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ 69 سال سے اس بدنصیب ملک پر اشرافیہ ہی قابض ہے۔ سیاست اور اقتدار پر اس اشرافیہ کا قبضہ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ کسی خوف کے بغیر اربوں روپوں کی کرپشن کا ارتکاب دھڑلے سے کر رہی ہے۔
اشرافیہ کرپشن کے ذریعے ملک اور ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ ہمارے ملک میں ویسے تو بڑے بڑے سیاسی اکابرین اربوں کی کرپشن کے الزامات اٹھائے پھر رہے ہیں لیکن کرپشن کی بے پناہی کا اندازہ ان خبروں سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سابق وزیر محترم 462 ارب کی کرپشن کے الزام میں گرفتار ہیں، ادارہ جاتی کرپشن اربوں تک جا پہنچی ہے اور یہ سب پچھلے ڈیڑھ دو سال کے دوران کی باتیں ہیں۔
وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ ''جب سے ہماری حکومت آئی ہے کرپشن کا ایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، یہ عوام کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ اب ہمارا ملک کرپشن سے پاک ہو گیا ہے''۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہماری 69 سالہ تاریخ میں پاناما اسکینڈل کو کرپشن کا سب سے بڑا اسکینڈل کہا جا رہا ہے، یہی نہیں بلکہ ظالم اور حکومت دشمن لوگ اس اسکینڈل میں نواز فیملی کو ملوث کر رہے ہیں۔
ہماری سیاسی جماعتوں نے اس اسکینڈل کو خوب اچھالا اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے، قانون اور انصاف کی عظمت عوام میں بے توقیر ہوئی، عوام نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں اور ایک ننگا دوسرے کا احتساب نہیں کر سکتا۔ پاناما کیس تازہ اسکینڈل ہے، جس میں ایک نہ دو، چار سو اشرافیائی اکابرین ملوث ہیں۔