زمینوں پر قبضے کیخلاف کوہستان بچاؤ کمیٹی کا سپر ہائی وے پر دھرنا

غیر ملکی افراد علاقہ چھوڑنے کے لیے ہراساں کر رہے ہیں، اپنے آبائو اجداد کی زمین پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے ،مظاہرین


Nama Nigar December 27, 2012
کوہستان بچاو کمیٹی کی جانب سے زمینوں پر سرکاری قبضے کے خلاف سپر ہائی وے پر لونی کوٹ کے قریب احتجاج کیا جا رہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

سپر ہائی وے لونی کوٹ کے قریب ٹھٹھہ جامشورو کے علاقے میں رہائش پذیر قدیمی کھوسو برادری، برفت برادری، دل برادری سمیت دیگر برادریوں کی بڑی تعداد نے کوہستان بچائو کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔

اس موقع پر انہوں نے بینرز اور پینا فلیکس اٹھا رکھے تھے اور اپنے مطالبات کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین میں شامل ارباب امیر بخش، صابو شورو، عبدالجبار برفت، علی دوست کھوسو، علی محمد شورو دیگر نے بتایا کہ وہ ٹھٹھہ جامشورو کے کوہستانی علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے آبائو اجداد بھی کئی صدیوں سے یہاںآباد تھے، لیکن پی پی حکومت نے یہاں دراوٹ ڈیم بنانے کے اعلان کے بعد ان کی 48 ہزار ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور انہیں وہاں سے بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے اس زمین کو استعمال میں لانے کے بجائے غیر ملکی با اثر افراد کو فروخت کر دیا ہے۔

01

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد ان کی زمین پر آ کر انہیں یہاں سے چلے جانے کے لیے ہراساں کر رہے ہیں۔ یہاں 25 سے زائد گوٹھوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی صورت اپنی زمین خالی نہیں کریں گے، اگر حکومت نے ہماری زمین واپس نہیں کی تو سپر ہائی وے بلاک کر دیں گے۔ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور صدر پاکستان سے بھی اپیل کی کہ انہیں ان کی زمین واپس دلائی جائے۔

مقبول خبریں