سیاسی افق اور نئی صورتحال
ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل سیاسی قائدین کی سیاسی بلوغت و بصیرت سے ہرگز محو نہیں ہونے چاہئیں
بینظیر بھٹو کی 9 ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اپنے خطاب کے ذریعہ ملک میں سیاسی گہما گہمی کا گویا گرین سگنل دے دیا ہے۔
گمان و یقیں کے بادل چھٹ گئے ہیں، سیاسی پنڈتوں کی اکثریت حیرت زدہ ہوگئی ہے کہ سوچا تھا کیا اور کیا ہوگیا، اپوزیشن جماعتوں کا گیس ورک اپنے اختتام کو پہنچا اور اب پیپلز پارٹی اور حکومت کے مابین شو ڈاؤن کے خدشات، پرامن بقائے باہمی کے روشن امکانات اور کھردرے زمینی حقائق کے سیاق وسباق میں کئی زاویے نمایاں ہوکر سامنے آئے ہیں۔
کچھ سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ دوطرفہ سیاسی کشمکش ، لانگ مارچ اور تحریک سمیت دیگر مفروضات کی دھند کم از کم صاف ہوگئی ہے ، یوں لگتا ہے کہ ملکی سیاست میں مسابقت ، رسہ کشی یا پھر مفاہمت بہ انداز دگر اپنے جلوے دکھائے گی ، غرض یہ کہ سیاسی محشر بپا ہونے کے خدشات کے تناظر میں مبصرین سیاسی ناقدین ، غیر ملکی سفارتی ذرایع ، پارلیمانی مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس سیاسی شو کے حوالہ سے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں ن لیگ کو شکست ہوگی، نوازشریف کے احتساب تک انصاف نہیں ملے گا۔ بنی گالامیں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہم پاناماکیس میں فیصلہ جب کہ لیگی وکیل تاریخ مانگ رہے ہیں۔ بیشتر کسی قسم کی رائے قائم کرنے کے بجائے ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی کے قائل ہیں، جیالوں کی دل شکستگی کے تذکرے بھی ہیں مگر پی پی کے اندرونی ذرایع کے مطابق جیالے آیندہ کی حکمت عملی پر نظر رکھیں گے اور بلاول کی طرف سے لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے حتمی کال کے منتظر ہونگے جب کہ بعض فہمیدہ حلقوں کے مطابق بینظیر بھٹو کی برسی پر زرداری اور بلاول بھٹو کا خطاب ''بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا'' کا حیران کن معرکہ ثابت ہوا جو معروضیت اور سیاسی عملیت پسندی پر مبنی تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست میں بلند بانگ دعوؤں، شعلہ بیانی اور پر شور نعروں کے ساتھ ساتھ دھرنوں اور احتجاجی جلسوں سے جس جارحانہ طرز کلام اور لاؤڈ خطابی کلچر نے نمو پائی ہے اور قوم اس کی عادی بھی ہوچکی ہے، اس اعتبار سے پی پی کے ڈائی ہارڈ کارکنوں سمیت تقریباً بیشتر سیاسی قائدین اور کارکنوں کو گڑھی خدا بخش سے ایک تہلکہ خیز سرپرائز کی توقع بے جا نہ تھی۔ تاہم ن لیگ اور پی پی کے مابین ماضی میں میثاق جمہوریت اور 2008 ء اور 2013 ء میں حکومت سازی کے مواقع پر جو مفاہمت اور اشتراک کے عہد و پیماں ہوئے تھے وہ حالیہ پیدا شدہ سنگین صورتحال کے باعث ایک نئی سیاسی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے لیے پی پی اصل مسئلہ نہیں بنے گی جب کہ تحریک انصاف حقیقی اپوزیشن کے لیے کھلا راستہ نکال لے گی۔ ادھر بتایا جاتا ہے کہ ن لیگی رہنما خاص طور پر وزیراعظم پی پی سمیت تمام اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی ایک محتاط گیم چینجنگ اسٹرٹیجی پر غور وفکر کر رہے ہیں جس کے ذریعے ٹھوس رابطوں اور ملاقاتوں کے نتیجہ میں کثیرالمقاصد مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ اور بلاول انتخابات میں حصہ لے کر ایک ساتھ موجودہ قومی اسمبلی میں جائیں گے، اب مقابلہ پارلیمنٹ میں ہو گا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چار مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر حکومت کے خلاف سیاسی لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اورجمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم نوازشریف سے الگ الگ ملاقات کی ہے، منگل کو وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم نوازشریف کو ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال اور کراچی آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا، ملاقات میں سیاسی امور پر بھی بات ہوئی ، اس سے قبل ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین آصف زرداری سے تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں،اس بات چیت میں گرینڈ الائنس کی تشکیل پر بھی غور کیا گیا۔
ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور آصف علی زرداری نے خورشید شاہ کو مذاکرات شروع کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔لیگی ذرایع کے مطابق حکومت اورپیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات میں مولانا فضل الرحمٰن اورسراج الحق معاونت کرسکتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان )کے 30دسمبر کو نشتر پارک میں جلسہ عام کے حوالے سے شہر قائد میں گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی۔
اب حالات سیاسی حرکیات کا کیا رخ متعین کرتے ہیں اس کا اندازہ جنوری میں پاناما لیکس کی از سر نو سماعت اور عدالتی فیصلہ سے ہوسکے گا۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا تبصرہ تھا کہ آصف زرداری نے اعلان کیا ہے کہ میں ایوان میں جاؤنگا میدان میں نہیں۔ بہرکیف سیاسی اتحاد یا مشترکہ جمہوری جدوجہد کا میدان کھلا ہے، تاہم ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل سیاسی قائدین کی سیاسی بلوغت و بصیرت سے ہرگز محو نہیں ہونے چاہئیں۔