عوام کے دل جیتنے کے لیے

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آگئے


Dr Tauseef Ahmed Khan December 31, 2016
[email protected]

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آگئے۔ 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کے صاحبزادے بلاول نواب شاہ اور لاڑکانہ سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے کر قومی اسمبلی میں پہنچ جائیں گے۔ انھوں نے اپنی اس تقریر میں وزیراعظم نواز شریف پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے، شہزادہ سلیم بننے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے دوستانہ رویہ رکھنے کا الزام لگایا۔

انھوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟ بلاول نے اپنی ماں کے قاتلوں کو سزا دلوانے اور اپنے چار مطالبات کے لیے کارکنوں کو لانگ مارچ کے لیے تیار ہونے کی اجازت دے دی۔ آصف علی زرداری نے دبئی سے کراچی پہنچنے پر جس خوش خبری کی پیشگوئی کی تھی وہ ضمنی انتخاب کی صورت میںسامنے آئی۔ آصف زرداری کے اس اعلان سے 2018ء کے متوقع انتخابات کے لیے مہم شروع ہوگئی۔

اب زرداری کے قومی اسمبلی میں جانے پر سید خورشید شاہ ہی قائد حزب اختلاف رہیں گے، زرداری اور بلاول ان کی معاونت کریں گے مگر قومی اسمبلی میں اگلے ایک سال کے دوران زرداری اور بلاول کی کارکردگی سے پنجاب، پختونخوا یا بلوچستان میں پیپلز پارٹی جڑیں پکڑے گی، سیاسی مبصرین اس ضمن میں زیادہ حوصلہ افزا رائے نہیں رکھتے ہیں۔ نواب شاہ اور لاڑکانہ کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ زرداری اور بلاول کے مقابلے پر مسلم لیگ فنکشنل اور قوم پرست جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کھڑے کریں گی مگر انتخابات یک طرفہ ہوں گے۔ زرداری اور بلاول قومی اسمبلی کے رکن بن جائیں گے تو دونوں رہنماؤں کی قیادت میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں سخت رویہ اختیار کرے گی۔

سینیٹ پاناما لیکس کے حوالے سے ایک بل کا مسودہ منظور کرچکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے 4 نکات میں سے ایک نکتہ اس بل کو قومی اسمبلی سے منظور کرانا ہے۔ مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ بل صرف میاں نواز شریف کو پاناما اسکینڈل میں تنہا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ حکمراں جماعت اس بل کے خلاف اکثریت کی طاقت کو استعمال کرے گی۔یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ پارلیمانی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے، اسی بنا پر وہ قومی اسمبلی سے مسلسل غائب ہیں۔ اس صورتحال میں آصف زرداری کو قومی اسمبلی میں چھا جانے کا موقع بھی مل جائے گا۔

بلاول کی لانگ مارچ کی کال کا مقصد خاص طور پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو 2018ء میں ہونے والے متوقع انتخابات سے قبل متحرک کرنا ہے۔ آصف زرداری اس طرح انتخابی مہم کی قیادت کرسکیں گے۔ آصف زرداری نے اپنی متوقع انتخابی مہم کے لیے میاں نواز شریف کی بھارت سے دوستی کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم مودی سے میاں صاحب کے تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پیروی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1965ء کی جنگ کے آرکیٹکٹ تھے۔

انھوں نے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے درمیان تاشقند میں ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لیے ہزار سال جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے معاہدہ تاشقند کی مخالفت کرکے ایک طرف تو امریکا کے عزائم کو تقویت دی تھی اور دوسری طرف پنجاب میں مقبولیت حاصل کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء میں بھارت دشمن پالیسی اختیار کی تھی۔ زرداری صاحب 2017ء میں اس پالیسی کی پیروی کرکے پنجاب میں اپنی جماعت کو جمانے کی کوشش کریں گے۔پیپلز پارٹی کی 50 سال تاریخ کا تجزیہ کرنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے صرف معاہدہ تاشقند کی مخالفت ہی پر تکیہ نہیں کیا تھا بلکہ پہلی دفعہ مظلوم طبقات کی آواز بن کر اپنی جماعت کو مقبول بنایا تھا۔ پنجاب میں آزادی سے پہلے کسان اور مزدور تنظیمیں متحرک تھیں۔ صحافیوں اور دانشوروں کی تنظیموں کی قیادت ترقی پسندوں کے پاس تھی۔

نیشنل عوامی پارٹی نے ان تنظیموں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اور روٹی، کپڑا اور مکان پیپلز پارٹی کا بنیادی نعرہ تھا۔ اس طرح پیپلز پارٹی بائیں بازو کی توجہ کا محور بن گئی۔ ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور اقتدار میں پنجاب کے مختلف شہروں میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے زبردست جدوجہد کی تھی۔ پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں زرعی، صنعتی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کے وعدے کیے تھے۔ پاکستان کے صحافیوں نے 1970 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت میں حالات کار کی بہتری کے لیے 10روز تک تاریخی ہڑتال کی تھی۔ پیپلز پارٹی اس ہڑتال میں صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔

جب جنرل یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خان کے حکم پر نیشنل پریس ٹرسٹ، اور اخبارات سے ترقی پسند صحافیوں کو برطرف کیا گیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے یہ تاریخی اعلان کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد ان صحافیوں کو ان کی ملازمتوں پر بحال کروائے گی۔ بھٹو صاحب نے لائل پور، ملتان اور لاہور کے مختلف کارخانوں سے برطرف ہونے والے مزدوروں کی بحالی کے لیے بھی اسی طرح کے اعلانات کیے، یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نہ صرف 70 کی دہائی میں مزدوروں، کسانوں، صحافیوں اور دانشوروں کی آواز بنی بلکہ 80 کی دہائی میں جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تو مظلوم طبقات نے فوجی حکومت کے اقتدار کے خاتمے کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔

آصف علی زرداری نے جب 2008ء میں پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی تو کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پی پی پی کو سیاسی جماعت کے بجائے کمپنی کے طور پر چلانا شروع کیا، جس کے نتیجے میں سیاسی کلچر ختم ہونا شروع ہوا۔ زرداری نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنے دوستوں کو پارٹی کے عہدے دینے شروع کیے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2008ء سے اپنی ساری توجہ لاہور پر دی اور لاہور میں بھی توجہ میٹرو بس پر رہی۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو انھوں نے مکمل طور پر نظر اندازکیا۔انتہاپسندوںنے مذہبی جنونیت کو پھیلایا۔ انتہا پسندوں نے مذہبی جنونیت کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں کی جانیں لی۔ پیپلز پارٹی نے اپنی روایت کو ترک کرکے مظلوم طبقات سے رشتہ کو کمزور کردیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مزدوروں، کسانوں، خواتین، اقلیتوں اور طلبا کے حقوق اور پولیس کے مظالم کے خلاف جدوجہد کے اصولوں کو ترک کردیا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے قائدین کی بدعنوانی کے قصے بچے بچے کی زبان پر عام ہوگئے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ملتان شہر میں اوورہیڈ برج، پل اور سڑکیں تعمیر کرا کر شہر کی ہیئت کو تبدیل کیا مگر پیپلز پارٹی کے پاس اپنے کارکن نہیں تھے جو اپنے وزیراعظم کے اس کارنامے کو عوام کے سامنے دہرا سکیں۔

اسی صورتحال کی وجہ سے 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو امیدوار نہیں مل سکے۔ پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی ناقص کارکردگی کا فائدہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اٹھایا۔ پختونخوا اور پنجاب میں تحریک انصاف نے متوسط اور امراء کے طبقہ میں اپنی جڑیں قائم کیں اور 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔ عمران خان کی سیاست سے اتفاق نہ کرنے والے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ انھوں نے جلسوں اور دھرنوں کے ذریعے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو مصروف رکھا۔ زرداری شاید سیاسی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے، اسی لیے وہ محدود نوعیت کے سمجھوتوں پر تیار ہوجاتے ہیں۔

اس کی حالیہ مثال اقلیتوں کے بچوں کے زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے تدارک کے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے پیپلز پارٹی کے حامیوں کو مایوسی ہوئی۔ بے نظیر بھٹو بھارت اور افغانستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک سے دوستی کی حامی تھیں۔ انھوں نے راجیو گاندھی کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دی تھی۔ آصف زرداری نے بھارت اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں صنعتی زون قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ میاں نواز شریف نے بے نظیر کی پالیسی کی پیروی کی تھی۔

اس پالیسی سے پیپلز پارٹی کا امیج بہتر ہوا تھا۔ محض مقتدرہ کو خوش کرنے کے لیے بھارت مخالف پالیسی سے پی پی پی کو مجموعی طور پر نقصان ہوگا۔ زرداری اگر سندھ کو ماڈل صوبہ بناتے ہوئے مزدوروں، کسانوں، طلبا، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کا فیصلہ کریں تو پنجاب اور پختونخوا میں ان کے لیے راہیں کھل سکتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں آصف زرداری اور بلاول کا جانا اچھا فیصلہ ہے، مگر عوام کے دل جیتنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔