2016ء کی رخصتی کیا کھویا کیا پایا
گزشتہ برسوں کی نسبت سال 2016ء دہشت گردی اور امن و امان کی ناقص صورتحال کے مقابلے میں قدرے بہتر تھا
بالآخر عیسوی سال 2016ء بھی اچھی اور بری یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے تاریخ کا حصہ بن گیا۔ مجموعی طور پر اس سال جہاں کچھ بری خبروں نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا وہیں ملکی حالات اور امن و امان میں قدرے بہتری نے عوام کو ریلیف فراہم کیا۔
یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ برسوں کی نسبت سال 2016ء دہشت گردی اور امن و امان کی ناقص صورتحال کے مقابلے میں قدرے بہتر تھا، لیکن پھر بھی چند واقعات جو دہشتگردی کے پیش آئے انھوں نے عوام کو لرزا دیا۔ اس سال بھی پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی پر حملے ہوئے، انتہاپسندوں کی جانب سے کوئٹہ میں حفاظتی ٹیکوں کے مرکز پر خودکش حملہ، بلوچستان بار کونسل کے صدر کا قتل اور پھر وکلا پر خودکش حملہ، چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی پر حملہ، پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس، لاہور کے گلشن اقبال پارک، اور شاہ نورانی مزار پر دھماکا اور دیگر واقعات میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے۔
سال کے آخری ماہ پی آئی اے کے طیارہ حادثے میں 47 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سال کئی نامور ہستیاں ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئیں، جن میں ادیب انتظار حسین، ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا، اداکار حبیب، لاڈلا، آغا سلیم، عالمی شہرت یافتہ معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی، امجد صابری، نامور سیاستدان معراج محمد خان، جہانگیر بدر، عالمی شہرت یافتہ کرکٹر لٹل ماسٹر حنیف محمد، گلوکار اے نیر اور جنید جمشید شامل ہیں۔
ملکی سیاسی ماحول بھی گرم رہا، حکمران جماعت ن لیگ کو کئی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، پاناما لیکس کیس میں پاکستان کے کئی بڑے نام سامنے آئے، پی ٹی آئی دھرنا سیاست سے دوبارہ پارلیمنٹ کی طرف رجوع ہوئی، ایم کیو ایم کے بانی کی متنازعہ تقریر کے بعد متحدہ کی سیاست مدوجزر کا شکار ہوئی، پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری وطن واپس آئے۔
سب سے اچھی خبر سی پیک کے حوالے سے ملی، پاک چائنا راہداری یقیناً پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی، اس حوالے سے پڑوسی ملک کی شرانگیزیاں بھی جاری رہیں، بھارت نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور پاکستانی آبادی پر کئی بار اشتعال انگیز فائرنگ کر کے تعلقات کو کشیدہ کیے رکھا۔ بلوچستان میں بھارتی را کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو بھی پکڑا گیا۔
جنرل راحیل شریف کے راست اقدامات نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو صحیح ڈگر پر ڈالا، آپریشن ضرب عضب میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئیں، دہشتگرد عناصر کی بیخ کنی کے ساتھ افواج پاکستان نے سرحد پر بھارت کی انتہاپسندی کا منہ توڑ جواب دے کر ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیے رکھا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے رخصت ہوئے نیز نئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا عہدہ سنبھالا۔
کرکٹ ٹیم نشیب وفراز سے گزری۔ سال کے اختتام پر ایک اچھی خبر یہ سننے کو ملی کہ برطانوی جریدے کے مطابق پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ 3 سال پہلے تک پاکستان سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں سے ایک تھا، کراچی جرائم کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے نمبر پر تھا جو کہ اب 31 ویں نمبر پر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ 2017ء پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے امن و امان کا سال ثابت ہوگا۔