پنجاب میں اہم بلدیاتی و انتظامی اقدامات

صوبائی انتظامیہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور مالی وسائل مہیا کرے تو اس نظام سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں


Editorial December 31, 2016
فوٹو؛ فائل

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں پنجاب سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016ء کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت نئے نظام میں ڈی سی اوآفس کی جگہ ڈپٹی کمشنر آفس کام کرے گا۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام 2 جنوری2017ء سے نافذالعمل ہوگا اور اسی روز بلدیاتی حکومتیں معرض وجود میں آجائیں گی۔

وزیراعلیٰ نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنائیں گے اور مالیاتی خودمختاری بھی دیں گے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتیں پیر سے فعال اور ساتھ ہی ڈپٹی کمشنرز کا عہدہ بحال ہوگیا۔ اس انتظامی اقدام کو بعض ماہرین اور بلدیاتی مبصرین اختیارات کی تقسیم کے بلدیاتی میکنزم کی نفی قرار دیتے ہیں جب کہ بعض کا کہنا ہے کہ صوبائی انتظامیہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور مالی وسائل مہیا کرے تو اس نظام سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں تاہم شفافیت ناگزیر ہوگی جب کہ اختیارات کی کشمکش مسائل پیدا کریگی۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پورے ملک میں 20 انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں۔ وہ میئر کے بااختیار ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں جو بلاجواز نہیں ہے، کراچی کے نشترپارک میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت بلدیاتی اختیارات صوبوں سے ضلع ، تحصیل اور یونین کونسل تک فوری منتقل کیے جائیں۔

لازم ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ڈپٹی کمشنر نظام دوبارہ متعارف کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے قانون کو حتمی شکل بھی دی ہے وہ پنجاب بھر میں نافذ العمل ہوکر نتائج بھی دے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں اور جو قانونی حلقے اسے بلدیاتی اداروں کو بے اختیار کرنے کا اقدام قرار دے رہے ہیں صوبائی حکومت ان کے خدشہ کا ازالہ کرے اور شہریوں کو یقین دلائے کہ ڈپٹی کمشنرز کا عہدہ بحال ہونے سے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات پر ضرب نہیں لگے گی اور بنیادی جمہوری اداروں کو ضروری نمو ملے گی۔