آرمی چیف کا افغان سول و فوجی قیادت سے رابطہ

جنرل صاحب کے اقدامات ملک کے وسیع تر مفاد میں ہیں


Editorial January 02, 2017
، فوٹو؛ فائل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ اور افغان ہم منصب جنرل قدام شاہ رحیم سے ٹیلیفونک رابطے میں نئے سال کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور خطے میں امن کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جنرل باجوہ خطے میں امن و امان کے استحکام اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے اپنے پیشرو جنرل راحیل شریف کی طرح بین الاقوامی دورے اور دیگر ملکوں کی اعلیٰ قیادتوں کے ساتھ رابطے بڑھا رہے ہیں۔

گزشتہ روز صدر مملکت ممنون حسین نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نشان امتیاز ملٹری بھی عطا کیا۔ جنرل صاحب کے اقدامات ملک کے وسیع تر مفاد میں ہیں، کیونکہ ملک دشمن عناصر نہ صرف دہشت گردی اور شرپسندی سے ملکی مفادات کو زک پہنچانے کی تگ و دو میں ہیں بلکہ پڑوسی حریف ملک بھی اپنی شرانگیزیوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے قائم سہ فریقی ورکنگ گروپ نے طے کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ''امن فارمولا'' مشاورت سے طے کرایا جائے گا، اس امن فارمولے کے 3 آپشنز میں سیز فائر، مذاکرات اور امن معاہدہ شامل ہیں۔

پاکستان عرصے سے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے سرگرداں ہے لیکن عاقبت نااندیش افغان قیادت بھارت کی مفاد پرستانہ دوستی میں پاکستان کی پرخلوص کاوشوں کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے۔ افغان حکومت کو باور رہنا چاہیے کہ افغانستان میں امن عمل کے لیے پاکستان کس قدر فعال کردار ادا کررہا ہے۔ افغان امن عمل میں طالبان رہنماؤں اور افغان قیادت کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان سہ فریقی ورکنگ گروپ کا حصہ اور افغانستان میں مکمل امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے ہر آڑے وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا ہے اور لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین پر سائبان فراہم کیا ہے۔

دوسری جانب یہ امر بھی واضح ہے کہ بھارت جو ہر سطح پر پاکستان دشمنی کا ثبوت فراہم کرتا ہے وہ افغانستان میں بھی پاکستان مخالف لابی پیدا کررہا ہے۔ افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت اس کا محض استعمال کررہا ہے، بھارتی لابی کے زیر اثر پاکستان جیسے مخلص دوست سے مخاصمانہ رویہ رکھنا اور لایعنی الزامات تراشنا خود افغانستان کے مفاد میں بہتر ثابت نہیں ہوگا۔ آرمی چیف نے افغان رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ دونوں ممالک میں امن خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ افغان قیادت گزشتہ دور میں پاک افغان تعلقات میں در آنے والی کشیدگی کو یکسر دور کرنے کے لیے مکمل سعی کرے گی نیز افغانستان کو ملکی حالات بہتر بنانے کے ساتھ ان مطلوب افراد کو پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے جن کا مطالبہ پاکستانی حکومت کئی بار کرچکی ہے۔ خطے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے یہ ایک لازمی اقدام ہے۔ صائب ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں افغان قیادت پاکستان کا ساتھ دے۔