نیا سال ترکی و عراق میں دہشتگردی
ترکی کے ارباب اختیار کو بھی داخلی امن کے لیے حزب اختلاف سے خیر سگالی کے جذبات پیدا کرنے کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں
ایک جانب تو دنیا بھر میں نئے سال کی آمد پرخوشیاں منائی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب دہشتگردی کے واقعات بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ تسلسل کے ساتھ عراق اور ترکی میں ہونیوالے خودکش حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کثیر تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ایک المیے سے کم نہیں۔
پہلی خبرکے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد میں تین بم دھماکے ہوئے جس میں 29 جاں بحق اور 53 سے زائد زخمی ہوگئے، دودھماکے بغدادکی وسطی مارکیٹ میں ہوئے، تیسرے دھماکے میں منی بس میں موجود بارود کودھماکے سے اڑایا گیا، داعش نے دھماکوں کی ذمے داری قبول کی۔عراق ایک دہائی سے زائد عرصے سے طویل خانہ جنگی کاشکار ہے اورلاکھوں کی تعداد میں عراقی باشندے جاں بحق ہوچکے ہیں۔
امریکا اور اس کے ساتھی جوعراق کو ایک آمر سے عوام کو نجات دلانے کا دعویٰ کرکے وہاں گئے تھے،ابھی تک امن کو عراقی عوام ترس رہے ہیں۔ ترکی بھی نئے سال کی خوشیوں میں شریک تھاکہ ایک مسلح شخص نے نائٹ کلب میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 39 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے،جن میں 16 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
وزیراعظم نوازشریف نے واقعے کی پرزورمذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہماری مشترکہ دشمن ہے اور پوری دنیا کو مل کر اس کے خلاف لڑنا ہوگا۔ ترکی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ، پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے، لیکن کچھ شدت پسند عناصر غیروں کے آلہ کار بن کر اس عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔
ترکی کے ارباب اختیار کو بھی داخلی امن کے لیے حزب اختلاف سے خیر سگالی کے جذبات پیدا کرنے کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ نئے سال میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دوعملی ترک کرکے اقوام عالم کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا، کیونکہ کرہ ارض کے باسی پرامن طور پر رہنا چاہتے ہیں۔