مذہبی جماعتوں کا مثبت کردار

اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ بھارت کےمقابلے میں پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اکثریت کا سلوک زیادہ بہتر اور برادرانہ ہے


Zaheer Akhter Bedari January 02, 2017
[email protected]

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اکثریت کا سلوک زیادہ بہتر اور برادرانہ ہے، اگرچہ کہ سندھ کے کچھ دیہی علاقوں میں اقلیتوں خصوصاً ہندو کمیونٹی کے ساتھ زیادتیوں کی خبریں میڈیا میں رپورٹ ہوتی رہتی ہیں لیکن مجموعی طور پر پاکستان میں اقلیت مطمئن زندگی گزار رہی ہیں۔ سندھ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ اعلیٰ عہدوں پر ہی کام نہیں کررہے ہیں بلکہ کابینہ میں بھی شامل ہیں۔

عموماً مذہبی جماعتوں پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ عوام میں فرقہ وارانہ تعصبات پھیلاتی ہیں لیکن پچھلے کچھ عرصے سے مذہبی جماعتیں مذہبی یکجہتی کا مثبت مظاہرہ کررہی ہیں۔ اقلیتوں کی مذہبی تقریبات میں مذہبی اکابرین کی شرکت اب ایک مثبت روایت بنتی جا رہی ہے جس کا مظاہرہ ہولی، دیوالی، کرسمس اور گڈ فرائڈے کے مواقع پر پاکستان کے مذہبی رہنماؤں کی علامتی شرکت سے کیا جاسکتا ہے، اسی طرح مذہبی اقلیتوں کے رہنما بھی مسلمانوں کی عیدین کی خوشیوں میں شرکت کرکے مذہبی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، جو ایک خوش آئند بات ہے۔

اقلیتوںسے برے سلوک کی وجہ بعض جذباتی اور انتہا پسند عناصر کی طرف سے مذہبی تفریق پھیلانے اور تعصبات کو فروغ دینے کی ذہنیت کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس قسم کے جذبات کے فروغ کی ایک وجہ برصغیر کا درسی نصاب خصوصاً تاریخی کتابیں اور ناول ہیں، جو فریق مخالف پر اپنی برتری کے مواد پر مبنی ہوتی ہیں۔ ہم آج جس دنیا میں زندہ ہیں اس دنیا میں آئی ٹی کے انقلاب نے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب دنیا بھر کے انسانوں میں رشتۂ انسانیت مستحکم ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے عوام میں یہ رشتہ مضبوط اور مستحکم ہوتا جا رہا ہے، جو دنیا کے عوام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

انسانوں کے درمیان مختلف حوالوں سے تعصبات اور تقسیم کی ایک بڑی وجہ حکمران طبقات کے مفادات بھی رہے ہیں، حکمرانوں خصوصاً شخصی حکمرانوں کے دور میں بادشاہوں کے مفادات کا تقاضا یہ ہوتا تھا کہ وہ عوام کو تقسیم کرکے رکھیں تاکہ عوام متحد ہوکر ریاستی جبر کے خلاف بغاوت نہ کرسکیں، اگرچہ طبقاتی تقسیم کسی نہ کسی شکل میں انسانی تاریخ کا حصہ بنی رہی ہے لیکن جب سے سرمایہ دارانہ نظام وجود میں آیا ہے، اس کی اولین ضرورت انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم رہا ہے، خاص طور پر مذہب کے حوالے سے انسانوں کو تقسیم کرنا اور ان کے درمیان نفرتوں کی آبیاری کرنا سرمایہ دارانہ نظام کی اولین ضرورت رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام اقتصادی ناانصافیوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرکے غریب کو غریب کے ساتھ برسر پیکار کردیتا ہے۔ اس حوالے سے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں نے سوشلزم کو لادینیت کا نام دے کر مسلمانوں میں سوشلزم کے خلاف جو جذبات بھڑکائے وہ ہماری تاریخ کا ایک بدنام ترین باب ہے اور آج تک مسلمان قوم اس نفرت سے باہر نہ آسکی۔

اگرچہ اب سوشلسٹ بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے لیکن سوشلزم کا خوف سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں پر اس طرح حاوی ہے کہ وہ عوام کو طبقاتی بنیادوں پر متحد ہونے سے روکنے کے لیے مذہب سمیت مختلف حوالوں سے عوام کو تقسیم کرکے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکا سمیت مغربی ملکوں کے نام نہاد اداروں کی جانب سے مذہبی جماعتوں کو معیاری فنڈنگ کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ مخصوص مذہبی جماعتیں بیرونی فنڈنگ سے عوام میں مذہبی تقسیم کو گہرا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن سادہ لوح مذہبی قیادت اپنی کم علمی کی وجہ سے بھی مذہبی تفریق کو گہرا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ برصغیر میں سیکولرزم کا حامی ملک بھارت اب مذہبی منافرت کا گڑھ بنتا جارہا ہے، پاکستان کے فنکاروں، گلوکاروں کے خلاف ہندو مذہب کے جنونی جس تعصب کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ خود بھارت کے مستقبل کے لیے ایک خطرے کی علامت بنتا جا رہا ہے، اس کی بڑی وجہ بھارت میں مذہبی انتہا پسند جماعت بی جے پی کا وہ منشور ہے جس میں بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کا پروگرام سر فہرست ہے۔

بھارت میں اس قسم کے تعصبات کی وجہ سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسند حلقے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی آزادانہ کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ یہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں مختلف ناموں سے عوام میں متحرک ہیں اور آزادی سے بڑے بڑے جلسے جلوس کرکے عوام میں آزادی کے ساتھ مذہبی تعصبات کو فروغ دے رہی ہیں۔ میڈیا میں یہ خبریں مسلسل آرہی ہیں کہ پنجاب میں یہ کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے اور مذہبی انتہا پسند جماعتوں کی سیاسی مفادات کے حوالے سے سرپرستی کی جارہی ہے۔

دنیا کے ہر مذہب میں یہ روایت عام ہے کہ دنیا کے سارے انسانوں خواہ اس کا کسی مذہبی و ملت سے تعلق ہو آدم کی اولاد ہے، اس رشتے سے ہر انسان ایک دوسرے کا ساتھ خونی رشتے میں بندھا ہوا ہے، ترقی یافتہ ملکوں میں عوام اس رشتے میں بندھتے جارہے ہیں لیکن پسماندہ ملکوں میں مذہب کے حوالے سے تقسیم اور منافرت کا کاروبار کرنے والے متحرک بھی ہیں اور تعصبات کو فروغ دینے کی خدمات بھرپور طریقے سے انجام بھی دے رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ریاست کی نظریاتی بے سمتی ہے۔

بانی پاکستان کے نظریات کے خلاف بانی پاکستان کی تقاریر کو غلط اور منفی انداز میں پیش کرکے اس ملک کے نظریات، اساس کو مشکوک بنایا جا رہا ہے اور عوام میں ایسا نظریاتی عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے جو خود اس ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں