مقبوضہ کشمیر میں 2016 تلخ یادیں چھوڑ گیا

8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی، 170دنوں تک ہڑتال


News Agencies January 02, 2017
2016 میں42 بچوں سمیت303 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں سال 2016 تلخ یادیں چھوڑ کررخصت ہوگیااور کشمیری عوام اورقابض حکمراں ان یادوں کوآسانی سے بھول نہیں پائیں گے۔

گزشتہ سال سب سے زیادہ ہنگامہ خیزتھا جس میں امن و امان کی مکمل تباہی کے بعد کئی اہم تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ 8 جولائی کوحزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر وانی اوران کے 2 ساتھیوں کی شہادت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی اور اب بھارت کے خلاف مزاحمتی تحریک نئے سال میں داخل ہو گئی۔

2016 میں وادی میں مجموی طور پر 170دنوں تک ہڑتال ہوئی جبکہ 8جولائی سے جاری بھارت مخالف ایجی ٹیشن کے187دنوں میں 19دن نرمی دی گئی جبکہ168دنوں تک مکمل ہڑتال ہوئی۔85 دنوں تک علانیہ و غیرعلانیہ کرفیو کے علاوہ پابندیاں جاری رہیں۔ مزاحمتی قیادت کی طرف سے جاری کیلنڈر کے تحت ہڑتال کی گئی۔

کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے سال 2016 میں 9خواتین اور42 کمسن بچوں سمیت303بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیا، ان میں سے39 افراد کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ان شہادتوں کی وجہ سے25خواتین بیوہ اور 58 بچے یتیم ہوئے۔

بھارت کی پیراملٹر ی فورسز اورپولیس اہلکاروں نے گھروں پر چھاپوں، کریک ڈاؤن، فائرنگ، پیلٹ، پاوا اور آنسو گیس کی شیلنگ کے دوران 19 ہزار11افراد کو زخمی کردیاجبکہ حریت رہنماؤں، کارکنوں، طلبا، نوجوانوں اور خواتین رہنماؤں سمیت12604 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا جبکہ ایک سال کے دوران بھارتی فورسز نے 658 خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں داعش اور پاکستانی جھنڈے لہرانے کا بھارتی وزارت داخلہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ روز بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ملک میں کسی کو بھی امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

مقبول خبریں