ملکی آبی ذخائر ختم ہونے کا خدشہ
ملک کے طول وعرض میں موجود زرعی زمینیں پانی کی کمی کے باعث ناقابل کاشت ہوتی جا رہی ہے
پانی زندگی کا لازمی جزو ہے، جس کے بغیر انسانی حیات کا تصور ناممکن ہے، اسی ضمن میں انتہائی اہم خبراخبارکی زینت بنی ہے کہ ملک بھر میں بارشیں نہ ہونے کے باعث پانی کے ذخائر دو ماہ میں ختم ہوسکتے ہیں، پانی کے کمی کے مسئلے کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کسی بھی ملک کی بقا اور زندگی کا مسئلہ ہے،کیونکہ انسانی زندگی اور ملکی معاشی واقتصادی ترقی کا دارومدار پانی ہی پر ہے۔
اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ اورترقی پذیر ممالک نے آبی ذخائر تعمیرکیے ہیں، پڑوس میں بھارت اور چین کی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے لاتعداد ڈیمز تعمیر کرکے اپنے ممالک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، لیکن زراعت کی ترقی کے لیے ہم نے کوئی واضح واٹر پالیسی تشکیل نہیں دی، ملک کے طول وعرض میں موجود زرعی زمینیں پانی کی کمی کے باعث ناقابل کاشت ہوتی جا رہی ہے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد دو ڈیم تربیلا اورمنگلا ڈیم بنائے گئے جن سے انتہائی سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی رہی ہے، لیکن اس کے بعد نصف صدی گزری،کوئی بھی بڑا آبی ذخیرہ نہ بنا سکے،کالاباغ ڈیم پر بھی اتفاق رائے تاحال پیدا نہیں کیا جاسکا ۔بھاشا ڈیم کا معاملہ بھی ابھی کاغذوں تک محدود ہے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق تربیلا اور منگلا ڈیم میں 13لاکھ ایکڑ فٹ سے بھی کم پانی رہ گیا ہے، اگر فروری تک بارشوں کا سلسلہ شروع نہ ہوا تو ملک کے ڈیموں میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ جائے گی۔ دونوں ڈیم اپنی گنجائش سے بہت کم پانی ذخیرہ کرسکتے ہیںکیونکہ ان کی تہہ میں بے تحاشا مٹی جمع ہوچکی ہے۔پانی کی کمیابی کے باعث زرعی شعبے میں بھی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
وزارت پانی وبجلی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے قطبین پر برف پگھلنے کا سلسلہ تیزہوگیا ہے اور دنیا بھر کے درجہ حرارت میں کافی اضافہ بھی ہوا ہے،خدشہ ظاہرکیا جاتا ہے کہ آیندہ جنگیں پانی کے مسئلے پر ہوسکتی ہیں۔ ملک میں سیلابوں سے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے،لاکھوں،کروڑوں کیوسک پانی فصلیں اورانسانی بستیاں اجاڑتے ہوئے سمندر میں جاگرتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈیمزنہیں، ورنہ اس سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے ملک کو ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ بھارتی آبی جارحیت کا جواب پاکستان میں آبی ذخائر تعمیرکرکے دیں، ورنہ پاکستان کی زرعی زمینوں میں خاک اڑتی نظر آئے گی، ایسا توکوئی بھی پاکستانی نہیں چاہے گا۔