بلوچ نوجوان اور قومی دھارا

صدیوں سے بلوچ اپنے تشخص کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan January 04, 2017
[email protected]

TEHRAN: بلوچستان عجیب صوبہ ہے۔ صدیوں سے بلوچ اپنے تشخص کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ بیرونی حملہ آوروں کے لیے یہ خطہ ہمیشہ کٹھن رہا ہے۔ بلوچوں نے انگریزوں کے خلاف بڑی مزاحمت کی تھی۔ پھر ریاست قلات کی اسمبلی پاکستان سے الحاق کے لیے تیار نہیں تھی، گزشتہ 70 برسوں کے دوران بلوچستان میں 5 بڑے آپریشن ہوئے۔

پہلی دفعہ بلوچوں کی نمایندہ جماعت نیشنل عوامی پارٹی نے 70ء کی دہائی میں بلوچستان حکومت بنائی مگر اس حکومت کو ایک سال پورا کرنے کا موقع نہیں ملا اور بلوچوں کی قومی قیادت پابند سلاسل ہوئی۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ آپریشن ختم ہوا۔ بلوچ رہنما میر غوث بخش بزنجو، سردارخیربخش مری اور عطاء اﷲ مینگل وغیرہ جیل سے رہا ہوئے تو بلوچ آبادی والے علاقوں میں نئے تضادات ابھرآئے۔طاقتور حلقوں کی جانب سے مدارس کا جال بچھایا گیا، اسمگلروں اورٹھیکیداروں کی قومی سیاست میں سرپرستی کی گئی،قبائلی جھگڑوں کو ابھارا گیا اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں سرداراکبر بگٹی ایک آپریشن میں ہلاک کر دیے گئے۔

بلوچستان مزاحمتی تحریک میں مبتلا ہوا۔ برسوں بعد گرینڈ جرگہ ہوا، سارے سردار جرگے میں شریک ہوئے۔ خان آف قلات اس جرگے کے بعد جلاوطن ہوگئے۔ پھر دیگر صوبوں سے آکر آباد ہونے والے افراد کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ اس ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ اساتذہ، ڈاکٹر، صحافی، وکلاء، خواتین اور دیگر کارکن بنے۔ اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سے اساتذہ بلوچستان چھوڑ کر چلے گئے۔ سیاسی کارکنوں کے اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ شروع ہوا۔

2013ء میں پہلی دفعہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹرعبدالمالک وزیر اعلیٰ بنے۔انھوں نے سول انتظامیہ کی بحالی، لاپتہ افراد کی بازیابی اور جلاوطن رہنماؤں کی وطن واپسی کے لیے کوششیں شروع کیں۔ انھوں نے تعلیم کا بجٹ 10 فیصد بڑھا دیا۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یونیورسٹیاں اور میڈیکل وانجنیئرنگ کالجوں کی تعمیرکا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک طرف تویہ سب کچھ ہورہا تھا تو دوسری طرف بلوچ طلبا میں علم حاصل کرنے کی نئی جستجو پیدا ہوئی۔ نوجوانوں نے جن میں خواتین بھی شامل ہیں میڈیکل ،انجنیئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے علاوہ سماجی علوم میں بھی دلچسپی لینا شروع کی۔ نوجوانوں نے تاریخ، فلسفہ، نفسیات، سیاسیات، ابلاغ عامہ اور معاشیات کی کتب کے مطالعہ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ۔فارسی کے استاد ڈاکٹر رمضان بامری کا کہنا ہے کہ بلوچوں میں ترقی پسند ادب کے مطالعے کی روایت خاصی پرانی ہے۔

مکران ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر تربت سے تعلق رکھنے والے نوجوان امین ضامن بلوچ نے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں داخلہ لیا۔ اسی شعبے سے میر غوث بخش بزنجو کے صاحبزادے میر حاصل بزنجو بھی فارغ التحصیل ہیں۔امین بلوچ نے امتیازی نمبروں سے فلسفے میں پوسٹ گریجویشن کیا اورکتابوں کی تصنیف کا کام شروع کردیا اور تدریس کے شعبے کا انتخاب کیا۔ امین بلوچ نے تاریخ، فلسفہ اور دیگر سماجی علوم کے مضامین کی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو وہ عظیم تاریخ دان ڈاکٹرمبارک علی سے متاثر ہوئے۔

تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تدریس اورکتابوں کی تصنیف میں گزارا۔ انھوں نے سندھ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ عامہ سے ایم اے کی ڈگری لی تھی۔ جرمنی سے مغل دربارکے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ۔ ڈاکٹر مبارک علی نے اردو میں عوامی تاریخ لکھنے کی روایت ڈالی۔ روشن خیالی، سیکیولرازم اور سوشلزم کے بارے میں سید سبط حسن، علی عباس جلال پوری وغیرہ نے معرکتہ الآراء کتابیں تحریرکیں، خاص طور پر سبط حسن نے سماج کے ارتقاء اور تبدیلیوں پر خوبصورت کتابیں تحریر کی تھیں مگر ڈاکٹر مبارک علی نے عوامی تاریخ لکھنے اور تاریخ کے مادی تصور پر جو کچھ تحریرکیا وہ پڑھنے والوں کے ذہنوں کو جلادینے کے مترادف تھا۔ جس طرح ڈاکٹر مبارک علی نے غیر جانبداری سے تاریخ کا تجزیہ کیا اور ہیرو ازم کے تصورکو عریاں کیا اس نے بلوچوں، سندھیوں اور پٹھانوں کو سوچنے کے نئے زاویے دیے۔

امین بلوچ نے فلسفے کی کتابوں کے ساتھ ڈاکٹر مبارک علی کی کتابوں اورمضامین کے بلوچی زبان میں ترجمے کیے۔ امین کی اب تک کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر مبارک علی، پیٹر برگ، اسٹیورٹ ہال اور دیگر بین الاقوامی دانشوروں کے مضامین کے ترجمے کیے۔ان کی ایک اردوکی اور تین بلوچی کتابیں اس سال شایع ہونگی۔ ایک کتابی سلسلہ کی اشاعت فروری 2017ء میں متوقع ہے۔ امین کے والدین کراچی میں آباد ہیں مگر امین کو تربت سے عشق ہے۔ وہ اپنے عشق کی خاطر تربت چلے گئے۔ پہلے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین تربت میں اعانتی لیکچرار رہے، پھرگورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج بوائز میں اعانتی استاد کے فرائض انجام دیے۔ تربت یونیورسٹی میں تدریس شروع ہوئی تو امین بلوچ وہاں اعناتی استادکے فرائض انجام دینے لگے۔ تربت یونیورسٹی کے قیام کو بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا مگر تربت میں ایک زمانے میں جنگجو بہت طاقتور تھے۔

جنگجو نوجوانوں کی مہم جوئی اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں علاقے میں حالات بہت خراب ہوئے۔ بہت سے نوجوان لاپتہ ہوئے اور غیر مقامی افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنگجو نوجوان اچانک تربت کے بازار پر دھاوا بول دیتے، بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا، پھر سیکیورٹی فورسز جوابی کارروائی کرتیں۔اس ساری صورتحال کا نقصان تربت کے نوجوانوں کو ہوا۔ اس صورتحال کا شکار تربت یونیورسٹی بھی ہوئی مگر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کی کوششوں سے یونیورسٹی میں تدریس بھی شروع ہوئی اور نئے کیمپس کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع ہوا، تربت یونیورسٹی میں خواتین کی تعداد حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی۔

تعلیم اور انگریزی کے شعبوں میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہوئی۔ اس تعلیمی ماحول میں امین بلوچ کو تدریس کا موقع ملا۔ وہ مختلف شعبوں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں مگر ان کی ملازمت کی نوعیت بالکل عارضی ہے۔ ہر سمسٹر پر امین کو تدریس کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی پیشکش کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیونکہ تربت یونیورسٹی میں فلسفہ کا شعبہ ابھی تک قائم نہیں ہوا یوں امین کو مستقل ملازمت نہیں مل سکتی۔ امین بلوچ کے لیے کراچی یونیورسٹی سمیت مختلف سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں ملازمت کے مواقعے موجود ہیں۔ بعض یونیورسٹیوں میں ان کے جونیئر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ امین بلوچ نے کراچی میں ایک اخبار میں رپورٹر کے فرائض بھی انجام دیے ہیں، یوں کراچی کے میڈیا میں ان کے شناسا موجود ہیں جو انھیں کراچی آنے اور تدریس کا شعبہ چھوڑ کر میڈیا میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔

امین کے لیے سول سروس میں جانے کے بھی روشن امکانات ہیں۔ پھر ان کے کئی ساتھی جنگجوؤں کے بریگیڈ میں شامل ہیں۔ یہ لوگ امین بلوچ سمیت نوجوانوں کو آزادی کے دلکش نعرے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر امین مارکسزم کے طالب علم ہیں، نئی صدی میں ہونے والی سائنس و ٹیکنالوجی کی نئی تبدیلیوں اور جیولوجیکل صورتحال کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم کے ذریعے بلوچوں کے حالات کار تبدیل ہوسکتے ہیں اور بلوچوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سی پیک گیم چینجر ہے۔ سی پیک کا محور مکران ڈویژن ہے۔ مکران ڈویژن کے لوگوں کو شکایت ہے کہ مقامی افرا دکو سی پیک کے منصوبوں میں ملازمتیں نہیں دی جارہیں اور باہر سے آنے والوں کی وجہ سے وہ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔

اسٹیبلشمنٹ بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کرے تو بلوچوں کے خدشات ختم ہوجائیں گے۔ تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور حکومت بلوچستان کے اکابرین کو امین بلوچ اور دیگر باصلاحیت نوجوانوں کی سرپرستی کرنی چاہیے۔