پہنچنا جناب زرداری کا بمقام پاکستان

ہمیں معلوم ہے کہ زرداری صاحب کے پاس خدا کا دیا ہوا اور اپنا حاصل کیا ہوا بہت کچھ ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq January 06, 2017
[email protected]

یہ تو ہر کسی کو ''لگ پتہ'' گیا ہو گا کہ تھا جس کا انتظار... یعنی زرداری صاحب پہنچ چکے ہیں بلکہ ہمارے خیال میں کچھ زیادہ ہی پہنچ چکے ہیں، پہنچے ہوئے تو وہ پہلے سے بھی تھے بلکہ ہم ایک طرح سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اپنی زندگی میں وہ کہاں کہاں، کتنے کتنے اور کیسے کیسے نہیں پہنچے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کے پہنچنے کی جو خبریں ہم تک پہنچی ہیں وہ پہلے والی تمام ''پہنچوں'' سے زیادہ ''پہنچی'' ہوئی لگ رہی ہیں۔

اس سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اپنے بیرونی یاترا یعنی ملکوں ملکوں شہروں شہروں پہنچ کر نہ صرف وہ اپنی ''صدارتی تھکان اتار کر ... بلکہ خوب اچھی طرح چارج'' ہو کر پہنچے ہیں کیوں کہ پہنچتے ہی انھوں نے ایک تو فوری طور پر اپنے فرزند ارجمند کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر عوام اور کیمروں کو دکھایا... اور پھر میاں صاحب پر بھی فوراً پل پڑے بلکہ ایک طرح سے پہنچایا کہ تم بلاول کو بچہ سمجھ کر ستاتے رہے لیکن اب اس کا ''بابا'' آگیا ... ذرا باہر تو نکول ... ان کے جو بیانات اوپر تلے آرہے ہیں۔

ان کے مطابق وہ نہ صرف ملک پہنچے ہیں بلکہ اپنے فرزند دلبند کو ساتھ لے کر پارلیمنٹ بھی پہنچیں گے اور وہاں سے پھر میاں صاحب کو زک پہنچائیں گے بلکہ مغل بادشاہ کے تحت پر باقاعدہ نظر رکھیں گے ... کیونکہ اس نے ''ہماری جمہوریت'' کا خانہ خراب کیا ہے، ان بیانات میں جو باقی اونچے لیول کی باتیں ہیں ان پر تو ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان پر الیکٹرانک سقراط بقراط اور دیما قراط ... یعنی ''اینقراط'' لیول کے لوگ یا بھوت دانشور ہی کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن ان بیانات میں ایک بات ایسی ہے جو ہماری محققانہ طبیعت کو مہمیز کرتی ہے ''بھوت دانشوروں'' کی اصطلاح شاید آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہو کیوں کہ یہ میڈیا کی جنرل اصلاح نہیں بلکہ سو فیصد ہماری ہوم میڈ پروڈکٹ ہے۔

یہ لوگ بڑی اونچی سطح کی باتیں کرتے ہیں جو سننے والوں کے سر سے تقریباً ہوائی جہاز اتنے فاصلے پر گزرتی ہیں جن میں مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ ایک گھنٹہ بولنے کے بعد بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ کیا بولے ہیں، اس لیے ہم بھی زرداری صاحب کی شان نزول انداز نزول اور گہری باتیں ان ہی کے لیے چھوڑتے ہیں اور صرف اپنی سطح کی بات کریں گے جیسا کہ ہم نے ایک یہ بات ان میں چنی اور سنی ہے کہ میاں صاحب نے ''ہماری جمہوریت'' کا خانہ خراب کر دیا ہے، ظاہر ہے کہ اس معاملے میں اب ہمیں پتہ کرنا ہو گا کہ ''ان کی جمہوریت'' تھی کہاں اور میاں صاحب نے اپنی جمہوریت کے بجائے ان کی جمہوریت کا خانہ کیسے کہاں اور کب خراب کیا ہے۔

یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ زرداری صاحب کے پاس خدا کا دیا ہوا اور اپنا حاصل کیا ہوا بہت کچھ ہے جن میں دنیا بھر کے بینکوں کا سرمایہ، بڑی بڑی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں محل دومحلے شامل ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سنا کہ جمہوریت بھی ان کی محلوکات میں شامل ہے۔ اس میں سراسر قصور تو ہمارا اپنا ہے کہ یہ نہیں جان پائے لیکن زیادہ قصور ہمارے پیارے میڈیا کا ہے جو یہاں وہاں کی طرح طرح کی کوڑیاں تو لاتا رہتا ہے اور یہ اتنی بڑی بات ابھی تک نہیں بتائی کہ زرداری صاحب محلوکات میں جمہوریت بھی شامل ہے جو ان کے بیانات کے مطابق وہ میاں نواز شریف کو استعمال کے لیے دے گئے تھے ورنہ مسلم لیگ ن والوں کی کہاں اوقات ... وہ تو ہم ذرا تھک گئے تھے اس لیے برضا و رغبت اپنی جمہوریت ان کو دے گئے تھے۔

لیکن میاں صاحب نے ''ہماری جمہوریت'' کا خانہ خراب کر ڈالا جس کا حساب باپ بیٹے پارلیمنٹ میں لے کر رہیں گے... درمیان میں انھوں نے کچھ ''مغل بادشاہ'' کو انجام تک پہنچانے کی بات کی ہے لیکن اس پر بعد میں الگ سے تحقیق کریں گے کیوں کہ ہمارے خیال میں تو مغل بادشاہت کا خاتمہ بہادر شاہ ظفر پر ہو گیا تھا پھریہ مغل بادشاہ کہاں سے آگئے، اگرآنا ہی تھا تو اپنے آبائی لال قلعے یا قلعہ آگرہ میں آتے ۔ اس ''ہماری جمہوریت'' پر ہم نے بہت غور کیا تو بہت ساری باتیں ایسی نکل آئیں جو زرداری صاحب کے حق میں جاتی ہیں کیوں کہ ہم نے جب موجودہ رائج الوقت جمہوریت کو خوب ٹھوک بجا کر دیکھا، اس کا پرزہ پرزہ کھول کر غور سے معائنہ کیا اور اس کا لیبارٹری انالائیس کروایا تو اسے ہر لحاظ سے ''زرداری جمہوریت'' پایا، مطلب یہ کہ زرداری صاحب کا دعویٰ سچا اور حق فائق ہے۔

اس وقت جو جمہوریت پاکستان میں چل رہی ہے اس میں زرداری کا عمل دخل اتنا ہے کہ اگرکسی مذہبی اقلیت کی کسی نشست پر کوئی شخص اکیلا بھی انتخاب لڑ رہا ہو تو بھی اس کے لیے زردار ہونا ضروری ہے،ٹکٹ کے لیے اور ''ادھر ادھر'' کے اخراجات کے لیے کسی غیر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج کل کے نرخوں کا تو پتہ نہیں لیکن محترمہ کے دور میں قومی اسمبلی کی سیٹ ایک کروڑ کی ہوتی تھی، سیٹ نہیں بلکہ صرف ٹکٹ اس کے بعد کے معاملات زر اور مطالبات زر امیدوار کے اپنے ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے جو اگلے وقتوں کا تھا پوچھا ٹکٹ کے لیے پارٹیاں یہ کروڑوں روپے کس چیزکا لیتی ہیں کون سی چیز امیدوار کے ہاتھ بیچتی ہے۔ اس پر ہم نے اس شخص کو خوب لتاڑا کہ اسے علم ہی نہ تھا کہ پاکستان میں ''بیچنے خریدنے'' کی تو صرف ایک ہی چیز ہے اور اس سے بھی واقف نہیں بعد میں اس نے آئینہ دیکھا تو سمجھ گیا کہ پارٹیاں ایک کروڑ میں کیا بیچتی ہیں۔

مطلب یہ کہ سارے حالات واقعات اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ فیصلہ دیتے ہیں کہ جناب زرداری کا دعویٰ بالکل درست ہے یہ میاں صاحب کے زیر استعمال جو جمہوریت ہے کہ زرداری ہی کی ہے اوران کا ہماری جمہوریت کہنا بالکل صحیح اور کاغذات مال کے عین مطابق ہے، جہاں تک ''مغل بادشاہ'' کا معاملہ ہے اسے ہم ابھی تک نہیں سمجھ پائے اگر اشارہ نواز شریف کی طرف ہے تو وہ تو ٹیکنیکلی وزیراعظم ہیں اور اصولی طورپر بادشاہ کا خطاب اگر کسی کو جا سکتا ہے تو وہ صدر ہوتا ہے لیکن یہاں تو ... ہاں البتہ زرداری صاحب جیسا صدر ہو تو ... ؟ ویسے یہاں ایک عجیب سی الجھن ہے وہی کرسی ہے وہی عہدہ وہی پریذیڈنٹ ہاؤس ہے لیکن جناب فضل الٰہی بھی صدر تھے، ضیاء الحق بھی جنرل مشرف بھی ... اور پھر زرداری صاحب بھی ... اور اب ممنون حسین صاحب بھی ۔