آرکیالوجی پولیس …اور خالص دودھ
قصہ تو آپ نے یقیناً سنا ہو گا بڑا مشہور قصہ ہے بلکہ ممکن ہے خود آپ پر یا آپ کے اردگرد یہ قصہ وقوع پذیر ہوا بھی ہو
قصہ تو آپ نے یقیناً سنا ہو گا بڑا مشہور قصہ ہے بلکہ ممکن ہے خود آپ پر یا آپ کے اردگرد یہ قصہ وقوع پذیر ہوا بھی ہو، بلکہ یہ جو سامنے ہماری سرکار، سرکاری محکمے اور محکموں کے اہل کار ہیں سب اس کہانی کے کردار ہیں، کہتے ہیں ایک شخص نے خالص دودھ کے لیے بھینس خریدی، اس احمق کو یہ پتہ ہی نہیں کہ خالص دودھ صرف کٹے یا بچھڑے ہی ہضم کر سکتے ہیں اور یہ انھی کا نصیبہ ہوتا ہے جو انسان ان سے چھین لیتا ہے اب چھینی ہوئی چیز میں خالص اور ناخالص کیا، لیکن اس شخص نے یہ سعی لاحاصل کی۔
اس کے بعد کی کہانی ہر کسی کو معلوم ہے کہ خالص دودھ کے شوق میں اسے تین چار نوکر بھی رکھنا پڑے اور دودھ پتلا ہوتے ہوتے خالص پانی ہو گیا، ویسے تو تازہ ترین خبر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو محکمہ آثار قدیمہ نے ایک ''آرکیالوجیکل'' پولیس قائم کرنے کی تجویز دی ہے کیونکہ آثار قدیمہ کی نوادرات کی چوری بہت زیادہ ہونے لگی ہے یہ آرکیالوجیکل پولیس کیسی ہو گی یہ بھی ہمیں خوب پتہ ہے کہ یہ پولیس کرے گی کیا؟
وہی کرے گی جو خالص دودھ والے کے ملازمین کرتے تھے، سوال اب یہ ہے کہ کیا آثار قدیمہ والوں کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ اگر ایسا ہو گا تو پھر کیا ہو گا کیسا ہو گا اور کتنا ہو گا یہ تو سیدھی سیدھی حصہ دار بنانے والی بات ہے، کیا آثار قدیمہ والے اتنے بھولے اور معصوم ہیں کیا ان کو ملک کے ہر سرکاری اسٹیج پر یہ دودھ والا ڈرامہ اسٹیج ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا؟ خیر یہ تو دیکھیں گے لیکن پہلے ایک پرانی کہانی ... جنرل ضیاء کا دور حق تھا اور صوبے میں ایک اسمبلی شروع ہوئی تھی جو نان پارٹی الیکشن کے تحت وجود میں آئی تھی۔
ایک دن اس اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اب اس ممبر نے اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ صوبے میں نکلنے والی آثار قدیمہ کو وسیع پیمانے پر بیچا جا رہا ہے اور اس کی نقلیں تیار کر کے ان کی جگہ رکھی جاتی ہیں، زیادہ تر قیمتی اشیاء کی جگہ نقلی اشیاء پڑی ہیں اور اصلی نوادرات بیرون ملک بیچی جا چکی ہیں، حکومت اس قومی ورثے کی حفاظت کے لیے کچھ کرے اس پر اچانک ایک دینی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبر کی رگ پھڑکی اپنی قراقلی سر پر رکھی اور بول پڑے... یہ آثار قدیمہ وغیرہ ہمارا قومی ورثہ نہیں ہے یہ کفر کی نشانیاں ہیں ہمارا ورثہ اسلام ہے ... اسلامی، اسلامی، اسلامی ... اور پھر ساری بات ہی اسلامی ہو کر ختم ہو گئی۔
دیر سے تعلق رکھنے والے اس ڈاکٹر ممبر کی وجہ سے گویا اس چوری کو کھلی چھٹی مل گئی، اب معلوم نہیں کہ واقعی وہ اسلامی جذبے سے سرشار تھے یا کہیں خود بھی اس معاملے میں شامل تھے لیکن اتنا ہوا کہ بات آئی گئی ہو گئی ... اور اب یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے لیے الگ سے پولیس رکھنے کی بات ہو رہی ہے جو اس سے بھی بڑی غلطی ہو گی بھلا کبھی بلیوں نے بھی گوشت کی چوکیداری کی ہے ... کہ اس پولیس میں کسی باہر کے ملکوں سے لوگ بھرتی کیے جائیں، انھی وزیروں، کونسلروں اور افسروں کے لوگ ہی بھرتی ہوں گے، ایک اور بات یاد آ رہی ہے بلکہ بہت بڑی تاریخ بھی ہے۔
خلیفہ مامون الرشید نے جب بغداد میں دارالخلافہ قائم کیا بڑے بڑے عالم جمع کیے اور علم کی ہر جہت پر تحقیق تدقیق کا کام شروع ہوا تو یونانی کتابوں کے تراجم بھی ہونے لگے، مسئلہ ان قدیم علمی یونانی کتابوں کا حصول تھا چنانچہ مامون نے بازنطینی بادشاہ کو خط لکھا کہ یونانی کتب فراہم کرے کیونکہ اس وقت یونان بازنطینی سلطنت میں شامل تھا، کتابوں کی جستجو ہوئی کہ عیسائی پادریوں نے ان کتابوں کو بڑے پیمانے پر جلایا ہے۔
بازنطینی بادشاہ کو تشویش ہوئی کہ اگر میں یہ کام نہ کر سکا تو بڑی سبکی کی بات ہو گی چنانچہ اس نے یونانی کتابوں کے لیے انعام کا اعلان کیا اس پر ایک بوڑھے پادری نے سراغ دیا کہ فلاں گرجے کے تہہ خانے میں یونانی کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، واقعی ایسا ہی تھا لیکن اب یہ سوال اٹھا کہ یہ کتابیں مسلمانوں کو دی جائیں یا نہیں آخر پادریوں نے فیصلہ کیا کہ یہ ''کفری کتابیں'' ہیں بہتر ہے کہ مسلمانوں کو دی جائیں تا کہ ان کا دین بھرشٹ ہو جائے، اس طرح یونان کا بے مثل علمی خزانہ ''بدنیتی'' سے مسلمانوں کو دے دیا گیا۔
بیت الحکمت میں ان کے ترجمے ہوئے شرحیں لکھی گئیں اور یوں مسلمان اس علمی دور زرین کے مالک ہو گئے کہ دنیا کے علوم کا مرکز بغداد بن گیا، بڑے بڑے فلسفی سائنس دان، کیمیا دان، طبیب، ماہرین فلکیات پیدا ہوئے، یہ وہی دور زرین ہے جسے یاد کر کر کے مسلمان آج بھی روتے ہیں کیونکہ مسلمانوں میں جب دین مسجد تک رہ گیا تو وہ سارا علمی خزانہ یورپ منتقل ہوا اور وہاں موجودہ نشاۃ ثانیہ کا باعث بنا۔
آج ہم اس دور کے نوحے پڑھ پڑھ امید لگائے بیھٹے ہیں کہ پھر کوئی آئے گا اور ایک انگلی کے اشارے پر وہ ہماری کھوئی ہوئی عظمت رفتہ ہماری جھولی میں ڈال دے گا اور ہم پھرذرا بھی انگلی ہلائے پسینہ بہائے اور علم و عمل کے بغیر پھر ساری دنیا پر چھا جائیں گے یا علامہ اقبال کے مرد مومن نسیم حجازی کے مجاہد تلوار سونت کر ساری دنیا کو کان پکڑوا دیں تمام کفرستانی شہزادیاں اسلامی مجاہدوں کا انتظار کریں گی کہ کب وہ آئے اور وہ اپنی زیورات کی پوٹلی باندھ اس کے پیچھے گھوڑے پر سوار ہو جائیں گی اور اس مرد مجاہد کے دست حق پرست پرمشرف بہ اسلام ہو کر ان کے حبالہ عقد میں جا کر جلوہ کثرت فرزندان اسلام دکھانا شروع کر دیں گی۔
ایسے تمام لوگوں کے لیے ہمارے پاس ایک خبر ہے کہ بیٹھے رہیئے تصور جانان کیے ہوئے یا اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں کی کہانی سنتے سناتے رہیئے یا ایک دوسرے کو گلے سے پکڑیئے، اسلام کے دائرے سے نکالیے بلکہ دنیا ہی سے دفع دور کر دیجیے تو حوران خوش ادا اور غلمان خوش نما ملنے کی بھی امید ہے،بلکہ ہمیں تو شبہ ہے کہ شاید یہ جو راہداریاں بن رہی ہیں یہ اسی مجاہدکی آمد کی تیاریاں ہوں۔ آرکیالوجی پولیس کے فوائد پتہ نہیں کتنے کتنے اور کہاں تک ہوں گے لیکن خبر میں دو بہت بڑے بڑے فوائد بتائے گئے ہیں ایک تو یہ کہ تاریخی مقامات کی حفاظت اور غیر قانونی کھدائی بند ہو جائے گی اور نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ ختم ہو جائے گی، اور یہ بات ایک سو چار فیصد درست ہے کیونکہ یہ کام پھر ''قانون'' کے سائے میں اچھے خاصے اطمینان سے ہوں گے۔
منطقی بات ہے جو کام پولیس کی نگرانی میں ہو گا وہ سو فیصد قانونی ہو گا جن میں چوری کھدائی اور اسمگلنگ سبھی کام شامل ہیں، بلکہ ہمارا تو خیال بلکہ یقین ہے کہ اب یہ جو چھپ چھپا کر یہ کام کیے جاتے ہیں بڑے سست رفتار ہیں پھر اس میں باقاعدگی اور اچھا خاصا اضافہ ہو جائے گا، کیجیے بلکہ جتنی جلد ہو سکے یہ کام کر لیجیے تاکہ چوری کا کوئی ''کٹھکا'' ہی نہ رہے اور دن کو لٹنے والے رات کو آرام سے اور رہزن کو دعائیں دیتے ہوئے سونا شروع کر دیں۔
جہاں پولیس اور قانون آجائے پھر تو وہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے بھلا قانون اور پولیس کے سائے میں جو کام ہو گا وہ ناجائز اور غلط کیسے ہو سکتا ہے اور پھر اس شدید بیروزگاری کے عالم میں وزیروں،کونسلروں اور سرکاریوں کے پاس ڈھیر ساری افرادی بلکہ انتخابی قوت بھی موجود ہے الیکشن بھی قریب آرہا ہے ایسے میں کسی نئے ''وسیلے'' کی دستیابی نہایت ہی کامیابی کی راہ ہے، ''خالص دودھ'' تو کٹوں اور بچھڑوں کا نصیبہ ہوتا ہے انسان کیسے خالص دودھ ہضم کر سکتا ہے۔