ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کی نگرانی آئندہ ماہ سے شروع ہونے کا امکان

جانچ پڑتال کے دوران موبائل یونٹ کسی بھی غلط سرگرمی کے بارے میں تفتیش کرے گا۔


Ehtisham Mufti December 30, 2012
افغانستان کے لیے ٹرانزٹ و اتحادی افواج کے گارگو کی ترسیل کرنے والے وہیکلز کے لیے روٹس طے کردیے گئے ہیں اور اس روٹ پر محکمہ کسٹمز کے موبائل یونٹس باقاعدہ گشت کرتے ہوئے سخت نگرانی کریں گے۔ فوٹو: فائل

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائنمنٹس اوراتحادی افواج کے لیے مال بردار ٹرکوں اور کنٹینرز پر ٹریکرزکی تنصیب اورنگرانی کا عمل جنوری کے وسط میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

ایف بی آرکی جانب سے اس ضمن میں ٹریکنگ کرنے کی حامل کمپنیوں کو لائسنس کے اجرا کے رہنما اصول جاری کردیے گئے ہیں اور ایک کمپنی کو لائسنس جاری بھی کردیا گیا ہے، اس نظام کے نافذ ہونے سے قومی خزانے کو ہونے والے400 ارب روپے مالیت کے ریونیو کے نقصانات سے بچائو ممکن ہوسکے گا۔ واضح رہے کہ ہائیکورٹ میں مقدمات کے باعث افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی نگرانی کا عمل گزشتہ 6 ماہ سے تاخیر کا شکار ہے۔

محکمہ کسٹمز کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے گزشتہ ہفتے نیٹو، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ، ٹرانس شپمنٹ، اور افغانستان کو ٹیکس فری ایندھن فراہم کرنے والی وہیکلزاور کنٹینرز پرٹریکرزکی تنصیب سے متعلق مقدمات کا فیصلہ کردیا ہے اورٹریکنگ کے خلاف تمام اعتراضات مسترد کردیے ہیں، اس فیصلے کے نتیجے میں نئے تقویمی سال کے آغاز سے ہی ٹریکنگ کا کام شروع ہونے کی توقع ہے اور ایف بی آر کی متعلقہ کمیٹی معاملے کا جائزہ لینے کے بعدجنوری2013 کے وسط میں اس حوالے سے احکامات جاری کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 1200 وہیکلزپر ٹریکنگ سسٹم کی تنصیب کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں، متعلقہ ٹریکنگ کمپنی مزید8000 وہیکلز پر ٹریکر سسٹم نصب کرے گی۔

2

ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کے لیے ٹرانزٹ و اتحادی افواج کے گارگو کی ترسیل کرنے والے وہیکلز کے لیے روٹس طے کردیے گئے ہیں اور اس روٹ پر محکمہ کسٹمز کے موبائل یونٹس باقاعدہ گشت کرتے ہوئے سخت نگرانی کریں گے، ٹریکرسسٹم کی حامل کوئی بھی گاڑی خود سے اپنا روٹ تبدیل کرے گی یا کسی مقام پر وہ زیادہ دیرکے لیے رکی تو ٹریکر کمپنی فوری طور پراس کی اطلاع متعلقہ کسٹمزموبائل یونٹ کو ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے دے گی جس کے بعد کسٹم موبائل یونٹ موقع پر جاکر متعلقہ گاڑی کی جانچ پڑتال کرے گا، جانچ پڑتال کے دوران موبائل یونٹ کسی بھی غلط سرگرمی کے بارے میں تفتیش کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے گارگوکی ترسیل کرنے والے ٹرکوں کی نگرانی کے لیے ایف بی آر اور کسٹم کے دفاتر میں 8 مختلف مقامات پر کنٹرول یونٹس قائم کردیے گئے ہیں۔

ٹرکوں پرنصب کیے جانے والے ٹریکرز جی ایس ایم اور سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات پہنچائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے کارگوکی ترسیل کرنے والے8000 وہیکلز رجسٹرڈ ہیں اور مقررہ تاریخ کے بعد کوئی بھی ٹرک اگر افغانستان کا کارگو بغیر ٹریکر کے لے جانے کی کوشش کرے گا تو بندر گاہ کے دروازے پر اسے روک دیا جائے گا، ٹرکوں کے علاوہ افغانستان جانے والے کنٹینرز پر بھی ٹریکر نصب کیے جائیں گے اور اگر اس کنٹینر کی سیل بھی راستے میں توڑی گئی تو بھی ٹریکر اپنا مخصوص الارم آن کردے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی وفاقی ٹیکس محتسب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کو ٹرانزٹ کی سہولت سے قومی خزانے کو 400ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے تاہم مال بردار ٹرکوں پرٹریکر کے نظام کی تنصیب سے یہ نقصان تقریباً ختم ہوجائے گا۔

مقبول خبریں