ٹنڈو باگو پولیس کا نوجوان پر بدترین تشدد ہڈیاں توڑ دیں

ایک آنکھ ضائع ،تعلقہ اسپتال کے ڈاکٹر کا پولیس لیٹر کے بغیر علاج سے انکار ، پٹیشن دائر


Nama Nigar December 31, 2012
زخمی نوجوان کی ماں جونجو کوہلی کی قیادت میں کوہلی برادری کے افراد نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ فوٹو: فائل

ٹنڈو باگو پولیس آپے سے باہر ہوگئی، نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناکر ہڈیاں توڑ دیں۔

تفصیلات کے مطابق وارڈنمبر7 نو آباد کے رہائشی 30 سالہ جیئو ھمیرو کوہلی کو ٹنڈو باگو تھانے کے 3 پولیس اہلکاروں علی احمد عرف بابو کاتیار، نظیر چا ھنیوں اور غلام مصطفی خاصخیلی نے مبینہ طور پر دیسی شراب فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے تھانے لے جاکر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ بعد میں پولیس اہلکار نوجوان کو بے ہوشی کی حالت میں اس کے گھر کے سامنے پھینک کر چلے گئے، اطلاع ملنے پر زخمی نوجوان کو ورثا نے تعلقہ اسپتال ٹنڈو باگو پہنچایا جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے پولیس لیٹر کے بغیر علاج کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد نوجوان کو ایک نجی اسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

05

پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف سندھ ہندو سجاگ تحریک کے رہنمائوں آلو کوہلی، زخمی نوجوان کی ماں جونجو کوہلی کی قیادت میں کوہلی برادری کے افراد نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ اس موقع پر نوجوان کے والد ھمیرو کوہلی نے بتایا کہ اس کا بیٹا بھینس فروخت کرکے ٹنڈو باگو آرہا تھا کہ چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں نے تلاشی کے دوران اس کی جیب سے 64 ہزار روپے نکال کر تھانے لے گئے جہاں اس کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، دوسری جانب پولیس تشدد سے زخمی نوجوان کی والدہ کی مدعیت میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میںپولیس اہلکاروں کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی گئی۔

مقبول خبریں