پتھر کے مجسمے

18 کروڑ انسان گوشت پوست کے زندہ انسانوں کے بجائے پتھروں کے بے جان مجسمے بن گئے ہیں


Zaheer Akhter Bedari January 01, 2013
[email protected]

لکھنے پڑھنے کی مصروفیات کے بعد میرا زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے میں صرف ہوتا ہے اور ٹی وی پر چلنے والی پٹیوں پر میری نظر ہوتی ہے کہ کتنے لوگ کہاں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے، کتنے بے گناہ، خوکش حملوں میں مارے گئے، کتنے بارودی گاڑیوں کے ذریعے بم دھماکوں کی نظر ہوگئے۔ 22 دسمبر کو میں ان ہی پٹیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا کہ بریکنگ نیوز میں بتایا گیا پشاور میں ایک دھماکا ہوا ہے۔

دھماکے کی جگہ کا تعین کیا جارہا ہے۔ پھر بتایا گیا کہ اے این پی کے جلسے کے قریب دھماکا ہوا ہے۔ اے این پی کے رہنما محفوظ ہیں۔ پھر بتایا گیا کہ کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں اور بتایا گیا کہ کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور بتایا گیا کہ اے این پی کے رہنما بشیر احمد بلور بھی زخمی ہوئے ہیں، پھر زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال لے جاتے ہوئے دکھایا گیا، پھر بتایا گیا کہ بشیر بلور شدید زخمی ہوئے ہیں، پھر بتایا گیا کہ بشیر بلور کا آپریشن ہورہا ہے، ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے بشیر بلور کی حالت کو تشویشناک بتایا۔

میں سمجھ گیا کہ بشیر بلور اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ ان کے رخصت ہونے کی خبر کو بوجوہ آہستہ آہستہ عوام کے سامنے لایا جارہا تھا۔ میں ٹی وی اسکرین پر جس خبر کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا آخر وہ خبر آہی گئی، بشیر احمد بلور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس قاتلانہ خودکش حملے میں بشیر بلور کے ساتھ ان کے سیکریٹری سمیت 9 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ یہ خودکش حملہ پشاور کے گنجان آباد علاقے ڈھکی نعلبندی میں کیا گیا جہاں بشیر بلور ایک جلسے سے خطاب کے بعد واپس ہورہے تھے۔

بشیر احمد بلور کا قتل اس قتل عام ہی کا ایک حصہ ہے جو برسوں سے خیبر پختونخوا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جاری ہے۔ بشیر بلور دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے لیکن مرحوم نے نہ موت کے خوف سے ادھر ادھر چھپنے کی کوشش کی نہ اپنے ساتھ لمبی چوڑی سیکیورٹی لگائی وہ بے خوفی کے ساتھ ہر جگہ آتے جاتے رہے ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ بشیر بلور ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ ''جو رات قبر میں ہوگی وہ رات قبر سے باہر نہیں گزار سکتا۔'' یعنی موت کا ایک دن معین ہے ، جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔

میں جس وقت یہ کالم لکھ رہا ہوں اس وقت بھی ٹی وی پر کراچی کے مختلف علاقوں میں 9 افراد کے ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے کی پٹیاں چل رہی ہیں۔ میں ہر روز یہ پٹیاں انتہائی بے حسی کے ساتھ دیکھتا رہتا ہوں اور دکھی ہوتا رہتا ہوں۔ بشیر بلور کی موت کی خبر، ان کی نماز جنازہ کا منظر، ان کی تدفین کے مناظر ٹی وی اسکرین پر دکھائے جاتے رہے، ان کے اہل خانہ کی گریہ و زاری کے مناظر بھی ٹی وی کے ناظرین دیکھتے رہے اور ہر روز اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام یہ مناظر دیکھ رہے ہیں۔

لیکن ایسا کچھ محسوس ہورہا ہے کہ 18 کروڑ انسان گوشت پوست کے زندہ انسانوں کے بجائے پتھروں کے بے جان مجسمے بن گئے ہیں ان میں اس قتل عام، اس وحشت و بربریت کے خلاف کوئی ردعمل، کوئی ہلچل، کوئی غم و غصہ، کوئی طوفان اٹھتا دکھائی نہیں دے رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ 18 کروڑ عوام اپنی باریوں کا انتظار کر رہے ہیں اور جن کی باریاں آرہی ہیں وہ بڑے سکون کے ساتھ اپنی قبروں میں جا سو رہے ہیں، ان کے پسماندگان میں بھی کوئی ردعمل، کوئی اشتعال، کوئی طوفان اٹھتا نظر نہیں آرہا ہے۔ جس قوم کی قیادت اتنی مردار ہو اس قوم کا بے حس ہوجانا کوئی حیرانی کی بات نہیں۔

بشیر بلور کی شہادت پر صدر و وزیر اعظم سمیت ملک کے تمام سیاستدانوں نے قاتلوں کی مذمت کی اور دکھ و افسوس کے اظہار کے ساتھ بشیر بلور کی بہادری کی تعریف کی۔ ملک بھر میں یہ قتل و غارت بڑے منظم انداز میں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ہورہی ہے۔اب تک ہزاروں بے گناہ انسان اس بہیمانہ دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور کراچی خاص طور پر اس ''بلائے عظیم'' کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ کوئی اتفاقی حادثات ہیں نہ چند شرپسندوں کی کارستانی، یہ ایک منظم انتہائی مربوط منصوبہ بند اور بامقصد قتل و غارت ہے۔

اگر یہ المناک اور منصوبہ بند قتل و غارت دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتی تو حکومت اور عوام اسے ختم کرنے تک کھانا پینا اپنے اوپر حرام کرلیتے، لیکن ہماری حکومت، ہمارے سیاستدان، ہماری قوم لائق مبارکباد ہے کہ وہ نہ صرف اس قتل و غارت کو روز کا معمول سمجھ کر فراخدلی سے برداشت کر رہی ہے بلکہ اپنے روز مرہ کے کاموں، انتخابی جوڑ توڑ، آنے والے انتخابات کی تیاریوں میں دل و جان سے مصروف ہے۔ اسے ہم اپنی اجتماعی بے حسی کا نام دیں یا اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں سے غداری کا نام دیں؟

اس بے حسی، اس قتل و غارت گری کا تعلق صرف پاکستان ہی سے نہیں بلکہ اس کا سلسلہ مشرق وسطیٰ افریقہ کے مسلم ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس کے محرکات مختلف نظر آتے ہیں لیکن خون کی ارزانی ہر جگہ یکساں نظر آتی ہے۔ سیاستدانوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور محسوس یہ ہورہا ہے کہ دہشت گردی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں، لیکن جس دہشت گردی کو وہ آج روٹین کا مسئلہ سمجھ کر اپنی سیاست میں مصروف ہیں وہ دہشت گردی سیاست، جمہوریت، حکومت، اپوزیشن سب کو واجب القتل سمجھتی ہے، کیا اس ذہنیت کے حضرات ہمارے محترم حکمران معزز اپوزیشن کی سمجھ سے باہر ہیں یا سیاسی مفادات نے ان کی عقل پر پردہ ڈال دیا ہے۔ ٹی وی کے دانشور اس مسئلے کا ذکر سرسری انداز سے کرتے ہیں ان کی دانشوری کا مرکز ملک کی سیاست، آنے والے انتخابات، اس کے ممکنہ نتائج بنے ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کا پہلا ہدف خیبر پختونخوا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام بڑے بہادر ہیں، ان کی پوری تاریخ جرأت و بے باکی کی تاریخ ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ اس خطے میں وہ جہل سر اٹھائے کھڑا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، مسئلہ صرف چند ہزار پختونوں کے خون کا نہیں ہے، مسئلہ پوری پختون برادری کے مستقبل کا ہے، کیا اس صوبے کے عوام دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں یا ماضی کے اندھیروں میں چلتے ہوئے پتھر کے دور میں پہنچنا چاہتے ہیں۔ یہ نہ کوئی چھوٹا موٹا ریاضی کا سوال ہے نہ کوئی وقتی مسئلہ ہے، یہ پختون کمیونٹی کی آنے والی نسلوں کے بہتر یا بدتر مستقبل کا انتہائی اہم اور پوری توجہ کا طالب مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کی ذمے داری حکومت، اپوزیشن اور اٹھارہ کروڑ عوام پر بھی آتی ہے کہ یہ عفریت صرف خیبر پختونخوا کے سر پر ہی نہیں سارے ملک کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

لیکن چونکہ اس کا ہیڈ کوارٹر خیبر پختونخوا بنا ہوا ہے اور یہیں سے یہ بلائے عظیم سارے ملک میں پھیل رہی ہے، اس لیے اس کو ختم کرنے کی ذمے داری خیبر پختونخوا پر زیادہ آتی ہے۔ دہشت گرد آسمان سے اچانک نہیں اترتے، وہ ان ہی بستیوں میں رہتے ہیں، یہیں دہشت گرد حملوں کی تیاری کرتے ہیں اور ان ہی بستیوں سے نکل کر باہر اپنے اہداف تک آتے ہیں، ان کی روک تھام میں انتظامیہ، خفیہ ایجنسی کی ذمے داری ہے، لیکن سب سے زیادہ ذمے داری ان بستیوں کے رہنے والوں کی ہے جن میں دہشت گرد رہتے ہیں اور اپنی ساری سرگرمیاں آزادی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کراچی دہشت گردوں کا دوسرا بڑا ہدف ہے۔ دہشت گرد جو مختلف سیاسی جماعتوں میں بھی شامل ہیں کراچی کے عوام کو اس قدر خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی قوت مزاحمت مفلوج ہوجائے، دہشت گرد حکومت کو اس قدر بے بس کردینا چاہتے ہیں کہ عوام اس کی کارکردگی سے بدظن اور مایوس ہوجائیں، دہشت گردوں نے اپنے مجاہدین ہر طرف پھیلا دیے ہیں، وہ کسی مخصوص وقت پر باہر نکلیں گے اور اپنے اس مقصد کے حصول کی طرف بڑھیں گے۔

جس کا اظہار وہ بار بار کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومت پر قبضہ کرکے یہاں اپنا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، دہشت گرد خواہ وہ موٹر سائیکلوں پر نکلتے ہوں یا بارودی گاڑیوں میں یا خودکش حملوں کے لیے، وہ رہتے تو ہماری آبادیوں میں ہی ہیں۔ کیا ان آبادیوں میں رہنے والوں کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ نئے لوگوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھیں، کیا ہماری کوئیلیشن صوبائی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ ہر آبادی میں اپنے کارکنوں کو فعال کریں اور علاقے کے رہائشیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انھیں اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیں؟

بشیر بلور کا یہ کہنا درست ہے کہ جو رات قبر میں لکھی گئی ہے کوئی وہ رات قبر سے باہر نہیں گزار سکتا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاتلوں سے حساب لینا کس کی ذمے داری ہے ؟خدا نے قاتلوں کا سر قلم کردینے کی سزا مقرر کررکھی ہے۔کیا ریاست کا فرض نہیں کہ وہ قاتلوں کو سزا دے۔

مقبول خبریں