سنیما گھروں میں ڈیجیٹل پراجیکٹر نصب ہونے لگے جدید ٹیکنالوجی کی فلمیں دیکھ سکیں گے

فلم شفاف دکھائی دیتی ہے، سائونڈ کا رزلٹ بھی بہترین ہے،کئی سینمامالکان کی جانب سے ڈیجیٹل پراجیکٹر امپورٹ کرنےکی تیاریاں


Qaiser Iftikhar January 01, 2013
دنیا بھر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جگہ بنالی ہے، ندیم مانڈوی والہ، فلم میکرز کو بھی جدید ٹیکنالوجی میں فلم بنانا ہوگی، نادر منہاس فوٹو: فائل

ہالی وڈ اوربالی وڈ میں ڈیجیٹل پراجیکٹرکی کامیابی کے بعد پاکستان میں جدید سینما گھروں نے نئے سال 2013ء میں مسائل سے بچنے کے لیے اپنے سینما گھروں میں ڈیجیٹل پراجیکٹرنصب کروانے شروع کردیے ہیں۔

لاہور، کراچی، اسلام آباد کے جدید سینما گھروں نے ڈیجیٹل پراجیکٹرنصب کروالیے ہیں، جس کی وجہ سے سکرین پرفلم شفاف دکھائی دیتی ہے جب کہ سائونڈ کا رزلٹ بھی بہترین ہے۔ دوسری جانب بہت سے سینمامالکان نے ڈیجیٹل پراجیکٹر امپورٹ کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ جدید پراجیکٹرز کی مدد سے فلم بین ہالی وڈاوربالی وڈ میںبننے والی جدید ٹیکنالوجی کی فلمیں دیکھ سکیں گے جب کہ مونو اورسٹریوسسٹم پرچلنے والے سینما جدید ٹیکنالوجی سے بنی فلموںکی نمائش نہیں کرپائیں گے۔

پاکستان میں فلم بنانے کے لیے استعمال کی جانیوالی ٹیکنالوجی کوبھی اگراپ گریڈ نہ کیا گیا توپاکستانی فلمیں جدید سینما گھروں میں نہیں پیش کی جاسکیں گی۔ ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2013ء میں پاکستان میں بننے والے جدید سینما گھروں اورپہلے سے کام کرنیوالے سینما گھروں کے منتظمین نے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں سینما گھروں میںہونے والی تبدیلی کے پیش نظرڈیجیٹل پراجیکٹرسسٹم امپورٹ کرنے کے لیے امریکہ اوربھارت کی مختلف کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے۔

امریکہ میں استعمال ہونے والا ڈیجیٹل پراجیکٹر کی لاگت 1 کروڑ جب کہ بھارت میں ہلکی کوالٹی کا پراجیکٹر 40 لاکھ روپے کا ہے۔ امریکی پراجیکٹرمیں ایک سروراور 3ڈی فلٹربھی شامل ہوتا ہے جب کہ بھارتی پراجیکٹرکے ساتھ 3ڈی فلٹرنہیں ہوتا۔ نئے سال میں پاکستان فلم اورسینما انڈسٹری کودرپیش مسائل کے بارے میں معروف ڈسٹری بیوٹراورسینما اونرندیم مانڈوی والہ نے ''ایکسپریس'' کوبتایا کہ ہالی وڈ اوربالی وڈ سمیت دنیا کی تمام بڑی فلم انڈسٹریوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جگہ بنالی ہے۔

3

لوگ جدیدٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی اس پرکام کیاجارہاہے جو خوش آیند بات ہے۔ فلم بینوںکو بہترکوالٹی کی فلم دیکھنے کوملے گی۔ ویسے بھی ہمارے ہاں زیادہ بالی وڈ اسٹارزکی امپورٹ شدہ فلمیںنمائش کے لیے پیش کی جاتی ہیں توسینما گھرمیں ڈیجیٹل پراجیکٹر بہت ضروری ہیں۔ دوسری جانب سینما اونر نادر منہاس نے کہا کہ ہمارے ہاں اب فلم میکرز کو جدید ٹیکنالوجی میںفلم بنانا ہوگی۔ ڈیجیٹل کمیروں میں بننے والی فلمیں ڈیجیٹل پراجیکٹرکے لیے ضروری ہونگی۔

ہم نے بھی اس سلسلہ میں اپنے سینما کواپ گریڈ کرنے کافیصلہ کیا اورجلدہی ڈیجیٹل پراجیکٹرنصب کروایا جائے گا۔ جہاں تک پاکستانی فلموںکی نمائش کا تعلق ہے توجدید ٹیکنالوجی متعارف ہوجانے کے بعد مونوسسٹم پر چلنے والے سینما گھروں کو بھی اپ گریڈ ہوناپڑے گا ۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، روالپنڈی، پشاور اور دیگرشہروں میں کام کرنیوالے سینما گھروں کے منتظمین کواس بارے میں سنجیدگی سے سوچناہوگا۔ جب کہ فلم انڈسٹری کے کرتا دھرتائوں کوبھی اپنی فلموں کامعیار بہتر کرنے کے لیے جدیدٹیکنالوجی پرکام کرناپڑے گا اگرایسا نہ ہوا تو پھر پاکستانی فلموں کے لیے سینما گھر دستیاب نہیں ہو نگے۔

مقبول خبریں