بھارت باز نہ آیا تو

چین ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے


Zaheer Akhter Bedari January 20, 2017
[email protected]

چین پاکستان کے ایسے دوستوں میں سے ایک ہے جو ہر ضرورت کے وقت مصلحتوں سے بالاتر ہوکر اور نفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر مدد کرتا رہا، چین کا پاکستان کے ساتھ یہ مثبت دوستانہ رویہ اس وقت سے ہے جب چین میں سوشلسٹ نظام موجود تھا اور اب جب کہ چین منڈی کی معیشت اختیار کرچکا ہے تو بھی پاکستان کے ساتھ اس کے دوستانہ تعلقات پہلے کی طرح برقرار ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے ساتھ اس کے حساس سرحدی تنازعات موجود ہیں لیکن چین بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول پر کارفرما ہے۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بڑی طاقتیں عملاً غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن چین نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی، جس کی وجہ سے بھارت چین سے ناراض رہا لیکن چین نے کبھی بھارت کی ناراضی کی پروا نہیں کی۔

چین ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ چین جس تیزی سے صنعتی ترقی کررہا ہے، اس کی بھی یہی ضرورت ہے کہ چین کے دنیا کے ساتھ تعلقات پرامن ہوں۔ بھارت کا حکمران طبقہ خطے کے منی سپر پاور بننے کے جنون میں جدید ہتھیاروں کی تیاری اور خریداری میں مصروف ہے۔ بھارت خطے کے ممالک کو زد میں رکھنے والے میزائلوں سے تو لیس ہے لیکن بھارت کی عاقبت نااندیش اور جنگ پسند قیادت ساری دنیا کو اپنی زد میں لینے والے بین البراعظمی میزائل کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔ بین البراعظمی میزائل چین کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ چونکہ بھارت کے تعلقات سخت کشیدگی کا شکار ہیں، لہٰذا فطری طور پر پاکستان کو بھارت کے بین البراعظمی میزائل سے خطرہ ہے اور ایک دوست ملک کی حیثیت سے چین کو اس خطرے کا احساس ہے۔

اس حوالے سے چین نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے بین البراعظمی میزائل بنانے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو بیجنگ بھی اسلام آباد کو اسی قسم کے میزائل کی تیاری میں مدد فراہم کرے گا۔ چین کے سرکاری جریدے گلوبل ٹائمز کے ایک حالیہ اداریے میں کہا گیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل کو بھارت کے آئی سی بی ایم بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو پھر ٹھیک ہے، دنیا پاکستان کے جوہری میزائل کی پہنچ میں اضافہ بھی دیکھے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چین کا یہ بیان واضح اشارہ ہے کہ اگر بھارت نے بین البراعظمی میزائل بنانے کا سلسلہ جاری رکھا تو بیجنگ بھی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کو اسی طرح کے میزائل بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔ چین کا کہناہے کہ اگر مغربی ممالک بھارت کو ایک نیوکلیئر ریاست تسلیم کرتے ہیں اور پاک بھارت جوہری دوڑ کے معاملے میں بے حسی کا شکار ہیں تو ایسی صورتحال میں چین یہ ضروری نہیں سمجھتا کہ عالمی جوہری قوانین کی پاسداری کرتا رہے۔

چین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو بھی جوہری ترقی کے ضمن میں ایسی ہی مراعات حاصل ہونی چاہئیں جیسی بھارت کو حاصل ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی جوہری صلاحیتوں سے بالکل مطمئن نہیں ہے اور ایسے بین البراعظمی بلیسٹک میزائل بنانا چاہتا ہے جو دنیا میں کہیں بھی اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکیں۔ چین کا کہنا ہے کہ چین کو بھارت کی جانب سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائل کا تجربہ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر بھارت حد سے آگے بڑھتا ہے تو چین بھی آرام سے نہیں بیٹھے گا۔ بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدہ بازی میں اس کے بیجنگ سے تعلقات خراب ہوئے تو نئی دلی کو اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔

چین اور بھارت کا شمار دنیا کے بڑے ملکوں میں ہوتا ہے۔ چین نے بین البراعظمی بلیسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کی مدد کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اسے ہم چین پاک دوستی کے اخلاص کا مظاہرہ سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے چین کا موقف اصولی بھی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی پھیلاؤ سے خواہ وہ کتنا ہی منصفانہ اور اصولی کیوں نہ ہو، دنیا کے لیے جوہری ہتھیاروں کا خطرہ بڑھتا جائے گا اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے اس مقابلے سے دنیا کا جوہری جنگوں کی طرف سے پیش رفت کرنا ایک فطری بات ہے۔ بدقسمتی سے ہتھیاروں خصوصاً ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو روکنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ نے کبھی اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں بلکہ اس حوالے سے امریکا کا کردار ہمیشہ جانبدارانہ رہا ہے جس کا لازمی نتیجہ جوہری ہتھیاروں کے انبار کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

بھارت اور پاکستان دو دنیا کے انتہائی پسماندہ ملک ہیں جہاں کے 50 فیصد سے زیادہ انسان غربت کی لے کر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا ان ملکوں کی قیادت کو یہ احساس نہیں کہ ان ملکوں کی ضرورت روٹی ہے، بین البراعظمی بلیسٹک میزائل نہیں ہیں۔ چین ہمارا ایک مخلص دوست ہے وہ خلوص کی وجہ سے پاکستان کو بین البراعظمی بلیسٹک میزائل بنانے میں جو مدد دینے کا اعلان کررہا ہے، اس کے خلوص سے انکار نہیں لیکن چین کی اس برادرانہ مدد سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی جو دوڑ شروع ہوگی چین کو اس کا خیال بھی کرنا ہوگا۔ چین کی پرامن پالیسی کا تقاضا ہے کہ وہ دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے حوالے سے موثر کردار ادا کرے۔

مقبول خبریں