2012ے تجارت کے بجائے بھتے کے فروغ کا سال رہا تاجر

جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں60سے زائد تاجر قتل ہوئے جبکہ200سے زائد اغوا،فکسڈ بھتے کی بنیاد رکھ دی گئی.


Ehtisham Mufti January 01, 2013
شہر بھتہ خوروں اور لینڈ مافیا کی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا،ادا کی گئیں رقومات ٹیکس محصولات سے زائد رہیں، ہنگامے اور ہڑتالوں کے نتیجے میں40 قیمتی کاروباری دن ضایع ہوگئے فوٹو: فائل

چھوٹے تاجروں نے سال 2012 کو کراچی کی تجارتی سرگرمیوں کا بدترین سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سال2012درحقیقت تجارت کے بجائے بھتے کے فروغ کاسال رہا ہے۔

کیونکہ کراچی کے تاجروں نے صرف بھتوں کی مد میں10ارب روپے سے زائدمالیت کی رقم کی ادائیگیاں کیں، سال 2012 میںجرائم پیشہ عناصر کو بھتہ، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کی مد میں ادا کی گئیں رقوم ٹیکس محصولات سے زائد رہیں، جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں60 سے زائد تاجر قتل ہوئے جبکہ200سے زائداغوا کیے گئے، کشیدگی، ہنگامہ آرائیوں اور ہڑتالوں کے نتیجے میں کراچی میں40قیمتی کاروباری دن ضائع ہوئے جس کی وجہ سے تاجروں کوسال2012 کے دوران مجموعی طور پر125ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

3

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اس ضمن میں بتایا کہ سال2012 میں یوں محسوس ہوتا رہا کہ رٹ قائم کرنے میں ناکامی کے بعد حکمرانوں نے عوام اور تاجروں کو مکمل طور پرجرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑدیا، تاجربرادری دہشت گردوں کی گولیوں اور بموں کا نشانہ بنتی رہی، عتیق میر نے بتایا کہ حکومتی یقین دہانیوں پر تاجر برادری پورے سال کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے منتظر رہے لیکن حقیقت میں ایسا ہو نہ سکا۔

انھوں نے بتایا کہ3 سال سے جاری بدامنی سے دلبرداشتہ ہوکر20ہزار سے زائد تاجرمایوس ہوکر بیرونِ ملک یادیگر شہروں میں منتقل ہوگئے، تجارتی مراکز میںدھمکی آمیز فون کالز، پرچیوں اور گولیوں کے بعد فکسڈ بھتے کی بنیاد رکھ دی گئی، شہر بھتہ خوروں اور لینڈ مافیا کی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا، انھوں نے کہا کہ زیرتبصرہ سال کے دوران کاروباری سرگرمیاں 60فیصد سے زائد متاثر رہیں ،40فیصد تاجر مالی مشکلات کا شکار ہوکر اپنی تجارتی حیثیت برقرار نہ رکھ سکے۔

4

ملکی تاریخ کا بدترین سی این جی بحران پیدا ہوا، ایف بی آرکی ناقص پالیسیوں کے سبب 70فیصد ٹیکس دہندگان نے گوشوارے داخل نہیں کیے جس کے نتیجے میں محصولات کے مقررہ اہداف پورے نہ ہو سکے اور ٹیکس نیٹ تباہ ہوگیا، انھوں نے کہا کہ تاجروں کو درپیش مشکلات میں کمی واقع ہونے کے بجائے نئے مسائل اور مصائب پیدا ہوتے رہے،انھوں نے کہا کہ نیا سال بھی 2012کے اثرات سے نہیں نکل سکے گا، 2012کے سورج نے ڈوبتے ڈوبتے مصائب و مشکلات کی مشعل2013کو تھمادی ہے جس کے باعث نئے سال میں بھی عوام اور تاجروں کی مشکلات میں کمی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

مقبول خبریں