امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے
واشنگٹن میں دولاکھ خواتین نے ریلی نکالی جس میں معروف فنکاروں نے بھی شرکت کی
نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعے کو حلف اٹھانے کے موقع پر شروع ہونے والے مظاہرے گزشتہ روز ہفتے کو بھی جاری رہے۔ ہفتے کو واشنگٹن سمیت دنیا کے دیگر ممالک لندن، آسڑیلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، فلپائن، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، اٹلی اور تھائی لینڈ میں بھی نئے امریکی صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ٹوکیو میں سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا جن میں امریکی تارکین وطن بھی شامل تھے۔ لندن میں ہزاروں خواتین اور مردوں نے مارچ کیا۔
واشنگٹن میں دولاکھ خواتین نے ریلی نکالی جس میں معروف فنکاروں نے بھی شرکت کی۔ بی بی سی کے مطابق امریکا کی مختلف ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جنھیں روکنے کے لیے پولیس نے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ واشنگٹن میں مشتعل مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کرتے ہوئے متعدد دکانوں کے شیشے توڑ دیے اور پولیس سے جھڑپوں کے دوران 6 اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر موجود رہے۔
مظاہرین کی جانب سے ٹرمپ کے اعزاز میں نکالی گئی صدارتی پریڈ کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور انتظامات کیے گئے اور جب وائٹ ہاؤس کے باہر پولیس کی جانب سے ریلی نکالی گئی تو مشتعل افراد نے پتھراؤ شروع کردیا جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ منیلا میں امریکی سفارتخانے کے سامنے فلپائن کے ایک قوم پرست گروپ کے مظاہرین نے ریلی نکالی۔ خواتین کا کہنا تھا کہ تعصب، نسل پرستی اور خواتین کے حقوق کی نفی کرنے والی سیاست ناقابل قبول ہے۔
انتخابات میں ٹرمپ کی فتح کا اعلان ہوتے ہی امریکا سمیت پوری دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، امریکا میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ٹرمپ کی فتح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا' بعدازاں ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ ٹرمپ کی جیت میں روسی ایجنسیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعے کو صدر کا حلف اٹھانے کے موقع پر پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا۔
امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی ہے اور ٹرمپ کے نظریات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں' اس طرح امریکی عوام کی بڑی تعداد دو واضح گروہوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ بیان دے رہے ہیں کہ دنیا کو انتہا پسندی سے شدید خطرات لاحق ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کو ختم کرنا ہو گا۔ ٹرمپ انتہا پسندی کے نظریے کو مسلسل مسلمانوں کے ساتھ نتھی کر رہے ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان بھی تناؤ شروع ہو گیا ہے' امریکی میڈیا ٹرمپ کی افتتاحی تقریر کو غیر واضح اور مایوس کن قرار دے رہا ہے' نیویارک ٹائمز نے تو یہاں تک کہہ ڈالا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے مخالفین پر تنقید کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا' سوشل میڈیا پر بیانات کے ساتھ ٹرمپ جن خبروں کا حوالہ دیتے تھے وہ سچ پر مبنی نہیں ہوتی تھیں۔ ٹرمپ بھی میڈیا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اس کے خلاف اعلان جنگ کیے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے لوگ سب سے زیادہ بددیانت ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دوسرے ملکوں کی جنگ نہیں لڑے گا اور اس حوالے سے اپنا کردار محدود کر لے گا۔ بعض تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ اگر عالمی سطح پر امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے اپنا کردار محدود کرتے ہیں تو وہ امریکا کے لیے گورباچوف ثابت ہو سکتے ہیں۔
گورباچوف نے بھی پراسٹرائیکا اور گلاسناٹ اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ سوویت یونین کمیونزم کی حفاظت کے لیے دوسرے ممالک میں جنگیں نہیں لڑے گا' یہی وجہ تھی کہ انھوں نے افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کیا۔ گورباچوف کی ان اصلاحات کے نتیجے میں سوویت یونین (آزاد ریاستوں کی یونین) کی متعدد ریاستیں آزاد ہو گئیں اور وہ محدود ہو کر رشیئن فیڈریشن کے نئے نام سے دنیا کے سامنے آیا۔
سینئر بش جن کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا انھوں نے نیو ورلڈ آرڈر کی پالیسی کا اعلان کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اب امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور دنیا میں اسی کا نافذ کردہ نظام چلے گا' بش جونیئر نے کروسیڈ کا اعلان کیا۔ ریپلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہی ٹرمپ نے اس کے برعکس موقف اپنایا ہے اور امریکی کردار کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔اگر ٹرمپ کے خلاف امریکی عوام کے مظاہرے جاری رہتے ہیں تو ان کا پورا دور اقتدار سیاسی بے چینی کی نذر ہو سکتا ہے۔