منصفانہ فیصلے کی امید

پاناما کیس ملکی سیاسی تاریخ کا ایک تحیر خیز مقدمہ ہے جس کی سماعت کا شہرہ پوری دنیا میں ہے۔


Editorial January 25, 2017
پاناما کیس ملکی سیاسی تاریخ کا ایک تحیر خیز مقدمہ ہے جس کی سماعت کا شہرہ پوری دنیا میں ہے ۔ فوٹو: فائل

BRUSSELS: سپریم کورٹ نے گزشتہ روز پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران چند چشم کشا ریمارکس دیے ہیں جن کے پیش نظر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس کیس کے ہمہ جہتی پہلوؤں پر وکلا کے دلائل ، دقیق نکات پر بحث ، آئینی و قانونی نظائر و شواہد اور ٹھوس ثبوت یا قرائنی شہادتوں کے حوالے سے کس درجہ صبر وتحمل سے سنے جانے کے متقاضی تھے، اور عدلیہ نے کس ضبط اور تدبر سے تمام فریقین کو سنا اور ابھی کیس چل رہا ہے تاہم عدالت عظمیٰ نے یہ قراردے کر کیس پر غیر ضروری اور عدالت سے باہر تبصروں اورسیاسی و میڈیا ٹرائل کے سلسلے پر بند باندھ دیا اور کہا کہ ابھی تک سچ سامنے نہیں آیا، جھوٹ اس وقت ثابت ہوگا جب سچ سامنے آئے گا، سارے لوگ اپنی کمنٹری خود تک رکھیں، سڑکوں پر جو ہونا تھا ہو چکا، اب فیصلے کا انتظار کریں۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے جماعت اسلامی کے وکیل سے سماعت کے دوران کئی سوالات کیے۔ ججز کا کہنا تھا کہ فرض کرلیتے ہیں وزیر اعظم نے جھوٹ بولا، آپ بتادیں سچ کیا ہے؟ جھوٹ کو جانچنے کے لیے عدالت کہاں تک جاسکتی ہے، اس کے کچھ اصول وضع کرنا پڑیں گے۔

اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو پاناما کیس ایک قانونی جنگ ہے اور اس کی تعلق طرز حکمرانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، ذاتی ، حکومتی اور سیاسی ذرائع سے دولت کے ملک یا بیرون ملک ارتکاز، عمومی کرپشن، ہوس زر اور اشرافیہ کے لائف اسٹائل اور پر تعیش زندگی کے گہرے سربستہ رازوں کے افشا کیے جانے کی آئینی و قانونی مساعی و کوشش سے ہے جب کہ کئی حوالوں سے پاناما کیس عدالت عظمیٰ میں اب تک پیش کیے جانے والے مقدمات میں اس اعتبار سے منفرد حوالہ ہے کہ اس میں میڈیا کا بھی ایک اہم اور بلا واسطہ پر شور کردار ہے، پاناما کیس ملکی سیاسی تاریخ کا ایک تحیر خیز مقدمہ ہے جس کی سماعت کا شہرہ پوری دنیا میں ہے۔

اس میں سٹنگ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ فریق ہیں، پاناما لیکس نے آف شور کمپنیوں ، فلیٹوں اور دیگر کاروباری معاملات کے تناظر میں پاکستان کے ریاستی اور حکومتی سسٹم میں مضمر بعض انتظامی سقوم کو بے نقاب کیا ہے، طرز حکمرانی ایکسپوز ہورہا ہے اور جس بات پر عدالت عظمیٰ اصرار کررہی ہے وہ سچ کی تلاش ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کو اس مقدمے کے فیصلے کا سنجیدگی سے انتظار کرنا چاہیے وہ عدالت کے باہر کئی متوازی مناظرے ، مباحثے اور پریس کانفرنسیں منعقد کر رہی ہیں جن میں ایک طرف حکومتی وفد الزامات کی بوچھاڑ کرتا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اس کا تند تیز جواب دیتے نظر آتے ہیں، یوں قانونی حلقوں کے مطابق اس حشر بپائی کا مقصد محض عدالت پر اثر انداز ہونے یا اسے دباؤ میں لانے کی ایک غیر دانشمندانہ سیاسی کوشش ہے، تاہم سپریم کورٹ نے اس باب میں بھی جس کشادہ ظرفی کا ثبوت دیا ہے وہ مقدمے کی مسلسل سماعت سے عیاں ہے ، قبل ازیں توفیق آصف نے دلائل دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ گزشتہ سماعت کے سوالات سے میڈیا پر تاثر ملا جیسے عدالت فیصلہ کر چکی ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہم سوالات صرف سمجھنے کے لیے پوچھتے ہیں، یہ فیصلہ نہیں ہوتے،۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لگ رہا ہے آپ جان بوجھ کر سماعت ملتوی کروانا چاہتے ہیں، نئے دلائل دیں اور عدالت کا وقت ضایع نہ کریں۔ توفیق آصف نے کہا کہ وزیراعظم کے دفاع کے لیے وزرا عدالت آرہے ہیں، پوری حکومتی مشینری دفاع کر رہی ہے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے باہر جو کچھ کہا جا چکا بہت ہے، اب سب لوگ انتظار کریں، یہی وہ نکتہ ہے جس پر سن کو غور و فکر کرنا چاہیے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کسی کا بیان جھوٹا ثابت کرنے کے لیے سچ سامنے لانا ہوتا ہے ، جب سچ سامنے آجاتا ہے تو جھوٹ خود بخود ثابت ہوجاتا ہے۔ جھوٹ کو جانچنے کے لیے عدالت کو کچھ تو کرنا پڑے گا اور کچھ اصول وضع کرنا پڑیں گے، حقیقت یہ ہے ابھی تک سچ واضح نہیں ہوا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بے ایمانی حلف کی خلاف ورزی ہے لیکن یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ بے ایمانی ہوئی بھی ہے یا نہیں ۔ یہی نکتہ ہے جسے قانونی ماہرین پاناما کیس کا نچوڑ قرار دیتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ قانون مردہ الفاظ کا مجموعہ ہیں جب تک کہ عدلیہ ان میں تشریح اور معانی کی عملی روح نہ پھونک دے۔

ایک بنیادی حقیقت جو بلاکشان سیاست و حکومت کو اس جانب متوجہ کررہی ہے وہ جمہوری نظام میں آزا عدلیہ کے فراہمی انصاف کا شفاف معیار ہے ، یہ رد عمل اور الزام تراشیاں آمریت میں شجر مموعہ ہوتی ہیں، اس لیے فریقین مقدمہ صبر سے کام لیں، انصاف کے سامنے کسی چیز کو تقدم حاصل نہیں، یہاں انصاف میں تاخیر کا مسئلہ بھی نہیں، مشہور فلسفی ہوریس مان کا کہنا ہے کہ ناانصافی آسمانوں کے ستون تک گراسکتی ہے، چنانچہ سپریم کورٹ سے قوم کو ایک منصفانہ فیصلہ کی امید رکھنی چاہیے۔