نئے امریکی صدرکے ابتدائی اقدام

امریکی مفادات اور امریکا کی قومی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ایک مذموم کھیل کی تیاری نظرآرہی ہے۔


Editorial January 25, 2017
امریکی مفادات اور امریکا کی قومی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ایک مذموم کھیل کی تیاری نظرآرہی ہے ۔ فوٹو : فائل

FAISALABAD: ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو جارحانہ رویہ اپنایا تھا وہ صرف انتخابی مہم جیتنے کے لیے نہیں تھابلکہ وہ اس کو عملی جامہ بھی پہنانا چاہتے تھے۔ جس کاآغاز انھوں نے کردیا ہے۔ ایک ایگزیکٹو آرڈرکے تحت بحرالکاہل کے12 ملکوں کی تجارتی تنظیم ''ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ'' (ٹی ٹی پی) سے نہ صرف علیحدگی کا اعلان منظرعام پر آیا ہے بلکہ اپنے اس اقدام کوامریکی ورکرزکے لیے بہترین قرار دے ڈالا اورکہا کہ امریکا اپنی مصنوعات دوسرے ممالک میں نہیں امریکا میں ہی بنائے گا۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے، تمام ممالک معاشی واقتصادی طور پرایک دوسرے سے جڑے ہیں، امریکی صدرکا یہ اقدام عالمی تجارت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا، برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی اور اس کے نقصان دہ اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ یہی کچھ امریکی صدر بھی کررہے ہیں۔ جو امریکا کو تنہا کرنے کا سبب بنے گا ۔کئی ممالک کی معیشتیں تباہ بھی ہوسکتی ہیں، ان کے اس اقدام سے ۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے داعش اور دیگر انتہا پسند اسلامی دہشتگردگروپوں کی شکست کو اولین ترجیح قراردیتے ہوئے کہاکہ اس مقصد کے لیے جہاں ضروری ہواجارحانہ اوراتحادیوں سے مل کر مشترکہ فوجی کارروائیاں کریںگے۔

اس محسوس ہوتا ہے کہ بش جونیئرکی روح ٹرمپ میں حلول کرگئی ہے، انھوں نے بھی ''پیشگی حملہ'' کی اصطلاح ایجاد کی اور اس پر عمل کر کے عالمی امن کو تہہ وبالا کیا ، عراق ،افغانستان کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ٹرمپ یہ کیوں بھول گئے کہ امریکا نے ہی اسلامی دہشتگرد گروہوں کو تخلیق کیا اور ان کو پروان چڑھایا ۔ امریکی مفادات اور امریکا کی قومی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ایک مذموم کھیل کی تیاری نظرآرہی ہے ۔ اہم ترین خبر یہ ہے کہ امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمین نیتن یاہو کو دورہ امریکاکی دعوت بھی دیدی۔ وائٹ ہاؤ س کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے حوالے سے بات چیت شروع ہوگئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر کے صدر کو بھی فون کیا ہے، وہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے، مظلوم فلسطینیوں پر مزید مظالم ڈھانے کے لیے امریکا،اسرائیل نیا گٹھ جوڑعالم اسلام اور عالم انسانیت کے سینے پر خنجر پیوست کرنے کے مترادف ہے۔ٹرمپ کے مندرجہ بالا جارحانہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی نسلی تفاخر اور تعصبانہ نظریات کے پرچار کے لیے عالمی امن اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔