ٹھٹھہ کی چاروں شوگر ملیں کاشتکاروں سے کٹوتی کرنے لگیں

50 سے 60من تک کٹوتی کی جارہی ہے، مٹھاس چیک کرنے کے آلات بھی نصب


Nama Nigar January 02, 2013
شوگر ملوں نے سیکٹر آفیسوں پر گنے کی مٹھاس پرکھنے والے آلات اور میٹر رکھ کر آبادگاروں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔ فوٹو: فائل

شوگر ملوں کی انتظامیہ نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاشتکاروںکے گنے کی ٹرالیوں سے 50 سے 60 من کٹوتی کرکے انہیں مشکل میں ڈال دیا جبکہ انتظامیہ نے مٹھاس چیک کرنیوالے آلات اور میٹر بھی نصب کر دیے ہیں۔

آبادگاروں کی جانب سے تنگ کرنے پر ملوں کی انتظامیہ کیخلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا، تفصیلات کے مطابق ضلع ٹھٹھہ کی چاروں شوگر ملوں دیوان شوگر مل، لاڑ شوگر مل، شاہ مراد شوگر مل اور عبداللہ شاہ غازی شوگر مل نے آبادگاروں کی جانب سے بھیجے جانے والے گنے کے ٹرکوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں سے 50 سے 60 من تک کٹوتی شروع کرتے ہوئے آبادگاروں کو شدید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ شوگر ملوں نے اس کے علاوہ سیکٹر آفیسوں پر گنے کی مٹھاس پرکھنے والے آلات اور میٹر رکھ کر آبادگاروں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔

02

اس سلسلے میں آبادگار ایکشن کمیٹی کے محمد ایوب ، سردار راجا، رمیزالحق، حبیب اللہ کٹی، محمد علی خواجہ، غلام علی خواجہ، رئیس گھنور خان چانڈیو اور دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ ایک تو شوگر ملز انتظامیہ نے دیر سے کرشنگ کا عمل شروع کرکے ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے اوپر سے 50 سے 60 من تک کٹوتی کرکے ہمیں پریشان کیا جارہا ہے جس کیخلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

مقبول خبریں