بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ پر تحفظات
بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے ظلم و زیادتی کا جو سلسلہ سندھ کے عوام پر ایک عرصے سے جاری ہے
ISLAMABAD:
سندھ میں بجلی کے محکموں کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام کا درد بالآخر سندھ اسمبلی تک پہنچ ہی گیا ہے، اسی تناظر میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ ادارے سندھ کے عوام کو بجلی فراہم نہیں کرسکتے تو پھر اپنا بوریا بستر لپیٹیں اور چلے جائیں۔ واضح رہے بجلی فراہم کرنے کے یہ ادارے وفاق کے تحت کام کرتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے سندھ میں طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ پر بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ امر ایک حقیقت ہے کہ بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے ظلم و زیادتی کا جو سلسلہ سندھ کے عوام پر ایک عرصے سے جاری ہے اس سے دانستہ پہلوتہی برتی گئی، یہی وجہ ہے کہ زیادتیوں کا یہ سلسلہ طویل ہوتا گیا، پہلے انرجی کرائسز کا بہانہ بنا کر علانیہ لوڈشیڈنگ کی جاتی تھی لیکن پھر طویل تر غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ صارفین کو زائد بلنگ کے ناجائز بل بھی بھیجے جانے لگے۔ اس سلسلے میں صرف وفاقی اداروں کو ہی مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے بلکہ کراچی میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے جس طرح زائد بلنگ اور ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر زبردستی جرمانے وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس جانب بھی حکومتی زعما کو توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی بجلی فراہم کرنے والے وفاقی اداروں پر برہمی صائب ہے لیکن دیگر پرائیویٹ اداروں کی گوشمالی بھی ضروری ہے۔ اندرون سندھ کے اکثر علاقوں کی کیفیت یہ ہے کہ شہری علاقوں میں 8 سے 12 گھنٹے جب کہ گاؤں دیہات میں 16 تا 18گھنٹوں کی طویل ترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ بجلی کے نہ ہونے سے نہ صرف روزمرہ امور متاثر ہورہے ہیں بلکہ چھوٹے کاروباری حضرات اور صنعتوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
پروڈکشن کا عمل متاثر ہونے سے اکثر کاروباری حضرات اپنے آرڈرز کی بروقت تکمیل نہیں کرپاتے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جن وفاقی اداروں کا نام لیا وہ حیدرآباد ریجن اور سکھر ریجن میں بجلی فراہم کرنے پر مامور ہیں، لیکن ان وفاقی اداروں کے جانے کے بعد کیا سندھ حکومت کے پاس کوئی بہتر لائحہ عمل موجود ہے؟ صائب ہوگا کہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے، عوام مسائل کو مزید گنجلک بنانے کے بجائے اس طرح چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے کہ کوئی بھی ادارہ اپنی من مانی نہ کرسکے، نیز پرائیویٹ اداروں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے درد کا درماں کیے بغیر محض زبانی جمع خرچ سے بات نہیں بنے گی۔