مزدورکسان راج

سلاطینی دور میں عوام کو رعایا کہا جاتا تھا


Zaheer Akhter Bedari January 28, 2017
[email protected]

سلاطینی دور میں عوام کو رعایا کہا جاتا تھا۔ رعایا کو سوائے بادشاہ کی اطاعت کے اور کوئی حق نہ تھا۔ سلاطینی دور کو گزرے لگ بھگ دو سو سال ہو رہے ہیں۔ اس دور میں چونکہ بادشاہ عوام کے منتخب نہیں ہوتے تھے لہٰذا انھیں یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ رعایا ان کے خلاف بغاوت نہ کر دے۔ عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک طریقہ یہ اپنایا گیا کہ ایک طبقہ امرا پیدا کیا گیا جس کا کام رعایا کوکنٹرول کرنا ہوتا تھا۔

بادشاہ اس طبقے کو بڑی بڑی جاگیریں دے کر عوام کے سروں پر مسلط رکھتے تھے، انھیں معاشرے میں اعلیٰ مقام دے کر رعایا کو نفسیاتی طور پر ان کا غلام بنا دیا جاتا تھا۔ رعایا کو قابو میں رکھنے کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ عبادت گاہوں میں بادشاہوں کے خطبے پڑھے جاتے تھے اور رعایا کو باور کرایا جاتا تھا کہ بادشاہ زمین پر خدا کا نائب ہے اور رعایا پر اس کی اطاعت فرض ہے۔ اقتدار کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لیے بادشاہوں نے ولی عہدی نظام قائم کیا۔ رعایا میں مستقبل کے حکمرانوں کے طور پر شہزادے شہزادیوں کو متعارف کرایا جاتا تھا۔

جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے بعد دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام قائم کیا گیا اور اس کو جمہوریت کا خوبصورت لباس پہنا کر عوام کو یہ باورکرانے کی کوشش کی گئی کہ اس نظام میں اقتدارعوام کی ملکیت ہوتا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے انسانی حقوق متعارف کرائے گئے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لیبر لاز بنائے گئے لیکن عملاً مزدور طبقہ سلاطینی دورکی رعایا ہی بنا رہا۔

دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں توکسی حد تک مزدور قوانین پر عمل ہوتا ہے لیکن پسماندہ ملکوں میں آج اکیسویں صدی میں بھی مزدوروں کا حال اٹھارہویں صدی کے غلاموں جیسا ہی ہے۔ 1789ء میں مزدوروں پرجو ظلم روا رکھا گیا تھا اس کے ردعمل میں انقلاب فرانس برپا ہوا۔ اس دور میں نہ مزدوروں کے کوئی حقوق تھے نہ کام کے اوقات متعین تھے۔ مزدوروں سے دن میں 18-18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ انقلاب فرانس کوگزرے اب لگ بھگ ڈھائی سو سال کا عرصہ ہو رہا ہے اور آج کا مزدور 1789ء کے مزدور سے بدتر حالات میں زندگی گزار رہا ہے، لیبر لاز صرف کتابوں میں ہیں عملاً مزدور صنعتی غلاموں کی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں مزدور اور کسان کا تعلق بچھڑے ہوئے طبقات میں ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی تشکیل میں چونکہ مزدور، کسان دوست شامل تھے سو انھوں نے پاکستان میں مزدورکسان راج کا نعرہ متعارف کرایا۔ یہ نعرہ مقبول بھی ہوا اور مزدوروں کسانوں کو اپنے حقوق اور معاشرے میں اپنی طاقت کا احساس بھی ہوا لیکن جلد مزدورکسان راج کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور مزدور ریاستی تشدد کا اس طرح شکار ہوا کہ پاکستان میں ٹریڈ یونین کا ہی خاتمہ ہو گیا۔ مزدوروں کے قانونی حقوق میں یونین سازی کا حق اور حق ہڑتال سرفہرست ہیں۔ لیکن ان حقوق کا عالم یہ ہے کہ اگرکوئی مزدور یونین کا نام لیتا ہے تو اسے ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مزدور ہڑتال کی بات کرتا ہے تو اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

صنعتی علاقوں میں ٹھیکیداری نظام قائم ہے اس نظام میں مزدورکارخانوں ملوں کا مزدور نہیں ہوتا بلکہ ٹھیکیدار کا مزدور ہوتا ہے جس کے کوئی حقوق نہیں ہوتے جس سے 18-18، 20-20 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں تو مل مالکان نے اپنی ملوں میں پرائیویٹ جیلیں بنا رکھی تھیں جہاں مالکان مزدوروں کو سزا دے کر رکھتے تھے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کسانوں کا حال یہ ہے کہ وڈیروں نے پرائیویٹ جیلیں بنا رکھی ہیں جہاں کسان خاندانوں کو رکھ کر ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے جس کی خبریں آئے دن اخباروں میں آتی ہیں جب انھیں بازیاب کروا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے تو عدالت انھیں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق دے کر گھر بھجوا دیتی ہے۔ پرائیویٹ جیلوں کے مالک وڈیروں کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کی خبر میڈیا میں نہیں آتی۔ کیا آج کے مزدور کسان کی حالت سلاطینی دور کی رعایا سے مختلف ہے؟

کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے جہاں مختلف ملوں اور کارخانوں میں لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں۔ اس ترقی یافتہ شہر میں کسی مل یا کارخانے کے مزدور کی یہ ہمت نہیں کہ وہ ٹریڈ یونین بنانے کی جرأت کرے۔ اگر کسی ادارے کے مزدور اپنے حق کے لیے ہڑتال کرتے ہیں تو انھیں لاٹھی، گولی اورجیلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مالکان نے مزدوروں کو ان کے حقوق دینے سے بچنے کے لیے ٹھیکیداری نظام قائم کر رکھا ہے۔ ٹھیکیدارکے مزدور کو کوئی قانونی حقوق حاصل نہیں ہوتے بلکہ بعض ملوں میں تو انھیں ایک طرح سے قیدی بناکر رکھا گیا ہے ان کے رہنے کا انتظام ملوں کے اندر ہی کیا جاتا ہے سونا، کھانا، پینا سب ملوں کے اندر ہی ہوتا ہے یوں ملک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر میں مزدور غلاموں کی زندگی گزار رہا ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے پیپلز پارٹی کے بانی نے مزدور کسان راج کا وعدہ کیا تھا اور عوام کو قوت کا سرچشمہ قرار دیا تھا۔ یہ وعدے تو پورے نہ ہو سکے لیکن پیپلز پارٹی کی مزدور دوست حکومت اتنا تو کر سکتی ہے کہ لیبر لاز پر عملدرآمد کے لیے مالکان کو مجبورکرے اور مزدوروں کو اپنے اداروں میں آزادی کے ساتھ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر یونین سازی کا حق دلائے اور ہڑتال اور سوداکاری کے حق کو غیر مشروط طور پر مزدوروں کو دلائے۔

اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ خود پیپلز پارٹی کے رہنما مزدوروں کی حق تلفی کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ حبیب جنیدی کا شمار پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا ہے جو عشروں سے لیبر فرنٹ پر کام کر رہے ہیں۔ حبیب جنیدی حکومت سے مزدوروں کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مزدوروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی مسلسل نشان دہی کر رہے ہیں۔ پی پی حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے مزدور کو سلاطینی دورکی حقوق سے محروم رعایا نہ بننے دے انھیں قانون کے مطابق حاصل حقوق دلوائے۔

مقبول خبریں