قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کا افسوسناک واقعہ
ملک میں غیرجمہوری قوتیں آتی ہیں توجمہوریت کے قیام کے لیے سب سے زیادہ شور سیاستدان ہی مچاتے ہیں
QUETTA:
قومی اسمبلی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا' ارکان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کو اہم مقام حاصل ہے' اس کے وقار اور تقدس کا ہر صورت خیال رکھا جاتا ہے اور کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ پارلیمنٹ کے تقدس کو مجروح کرے' گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا اسے کسی بھی صورت جمہوری اقدار کا آئینہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عوام اپنے نمایندے منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ عوام اور ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے پالیسیاں تشکیل دیں اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
اگر یہ منتخب نمایندے ملکی مسائل حل کرنے کے بجائے ایوان کا تقدس اور وقار مجروح کریں اور اسے اکھاڑا بنا لیں تو اس سے ابھرنے والا منفی تاثر عوام میں مایوسی پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان حکومت کی پالیسیاں بیان کرتے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
ایسی صورت میں اگر اپوزیشن کو حکومتی پالیسیوں پر اعتراض ہو تو وہ ایک مہذب انداز میں اسے تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ اس طرح پارلیمنٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اگر یہ نوک جھونک بڑھتے بڑھتے غیرمہذب اور ناشائستہ الفاظ کے استعمال اور ہاتھا پائی تک جا پہنچے تو اس کا ذمے دار حکومتی اور اپوزیشن دونوں ارکان کو قرار دیا جائے گا۔1995ء میں پیپلز پارٹی کے دور میں جب فاروق لغاری صدر مملکت کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو ایوان میں اس وقت کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے احتجاج کیا تھا' اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس کے بعد جمعرات کو قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان لڑائی جھگڑے کا دوسرا واقعہ ہے۔
جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کام حکومت کو عوامی مسائل سے آگاہ کرنا اور کسی ایسی پالیسی کی تشکیل سے روکنے کی کوشش کرنا ہے جو اس کے نقطہ نظر میں ملک اور عوام کے مفاد میں نہ ہو۔ عموماً بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن ارکان حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے، اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم بحث اور تنقید کے واقعات معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں' لیکن اگر ارکان اسمبلی ایک دوسرے پر تنقید کرتے کرتے تہذیب اور شائستگی کی تمام حدود کو پار کر جائیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں تو اسے کسی بھی صورت خوش آیند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ غلطی خواہ حکومتی ارکان کی ہو یا اپوزیشن ارکان کی' عوام دونوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ایوان کے تقدس کو مجروح کرنے کا ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ اگر ارکان اسمبلی خود ہی ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیں گے تو پھر غیرجمہوری قوتوں سے ایوان کے تقدس کا خیال رکھنے کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے۔
اسمبلی میں پہنچنے والا رکن خواہ اس کا تعلق حکومتی پارٹی سے ہو یا اپوزیشن سے عوام کا منتخب نمایندہ ہوتا ہے اور اس پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ جس مقصد کے لیے اس کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس کو ہر صورت پیش نظر رکھے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کو حکومتی پالیسیوں سے اختلاف اور تنقید کا بھرپور حق حاصل ہے لیکن پارلیمانی پریکٹس کا تقاضا یہ ہے کہ ارکان اسمبلی تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے پر تنقید کریں اور اپوزیشن ارکان کو اگر حکومتی پالیسیوں سے اختلاف ہے تو وہ مدلل اور ٹھوس نکات کی بنیاد پر اسے مسترد کر سکتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی کسی بھی بحث کے دوران ایک دوسرے کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ نعرے بازی اور ہلڑ بازی پر اتر آتے ہیں۔
جمعرات کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ارکان کے درمیان جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا' اس کی تہہ میں پاناما لیکس کا معاملہ ہے' اس ایشو پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور نوبت قومی اسمبلی میں دھینگا مشتی تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین اسے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی مایوسی سے تعبیر کرتے ہیں' خواہ سیاسی مایوسی کتنی ہی کیوں نہ بڑھ جائے ارکان اسمبلی کو ایوان کے تقدس کو کسی بھی صورت مجروح نہیں کرنا چاہیے اور پارلیمانی روایات کے اندر رہتے ہوئے اختلافات کا اظہار کیا جائے تو یہ سب سے بہتر جمہوری رویہ ہے۔جب ملک میں غیرجمہوری قوتیں آتی ہیں تو جمہوریت کے قیام کے لیے سب سے زیادہ شور سیاستدان ہی مچاتے ہیں مگر جب جمہوریت آجاتی ہے تو وہ غیرجمہوری انداز میں پارلیمنٹ کا تقدس مجروح کر کے خود ہی جمہوری روایات توڑتے ہیں۔جمہوری اقدار اور روایات کا سب سے زیادہ احترام ارکان پارلیمنٹ ہی پر عائد ہوتا ہے۔