سیاست دان نہیں سودا گر
سیاست اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے
PESHAWAR:
سیاست اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے، جس طرح کی سیاست ہو گی اسی طرح کی جمہوریت ہو گی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں چونکہ جمہوریت نے ایک طویل فاصلہ طے کیا ہے اس لیے وہاں جمہوریت اور سیاست میں شائستگی آ گئی ہے، خاص طور پر ان ملکوں میں الزامات اور جوابی الزامات کا وہ کلچر موجود نہیں جو پسماندہ ملکوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
پسماندہ ملکوں میں الزامی سیاست اس قدر بے لگام ہو گئی ہے کہ عام آدمی بھی اس سے متنفر ہو رہا ہے۔ جمہوری معاشروں میں حکمران طبقات کی غلطیوں کو روکنے کے لیے حزب اختلاف موجود ہوتی ہے۔ حزب اختلاف ہوتی ہی اس لیے ہے کہ حزب اقتدار کو پٹڑی سے اترنے سے روکے اور بروقت حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی کر کے حکمرانوں کو غلطیوں کی اصلاح پر مجبور کرے۔ لیکن پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی محاذ آرائیوں سے بھری ہوئی ہے۔
اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فریق الزام اور جوابی الزام کی کوششوں میں اخلاقیات کا کباڑا کر دیتے ہیں۔ الزام اور جوابی الزام کی سیاست کی گہرائی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نیک کام کے لیے دونوں فریقوں نے ماہرین کی ٹیمیں تیار کر رکھی ہیں، جو میڈیا میں اپنی مہارت کے جوہر دکھاتی ہیں۔
ایک خاندان میں اگر ماں باپ کو بچوں کے مستقبل کا خیال ہوتا ہے تو وہ اپنے بچوں کی باضابطہ تربیت کرتے ہیں۔ انھیں گفتگو کا سلیقہ سکھاتے ہیں، بڑوں کی عزت و احترام سے آگاہ کرتے ہیں، جن خاندانوں میں بچوں کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے ان خاندانوں کے بچوں میں رکھ رکھاؤ، نشست و برخاست کے طریقے بڑوں کا احترام اس طرح رچ بس جاتا ہے کہ دیکھنے اور سننے والے ان تربیت یافتہ بچوں کے حسن اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ خاندان چونکہ معاشرے کی اکائی ہوتا ہے، اس لیے یہ اکائیاں مل کر معاشرے کی اخلاقیات کا تعین کرتی ہیں۔ یہی حال ہماری سیاست اور جمہوریت کا ہے، چونکہ سیاست اور جمہوریت میں بے راہ روی عام ہے، لہٰذا مجموعی طور پر ہماری سیاست اور جمہوریت اخلاقیات سے محروم دکھائی دیتی ہے۔
ہماری جمہوری تاریخ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان لڑائی جھگڑے اور بدزبانی عام رہے ہیں، بلکہ اکثر اوقات ہاتھا پائی بھی ہوتی رہتی ہے، اس کلچر کا اثر عام آدمی پر پڑتا ہے اور وہ غیر محسوس طریقے سے اس کلچر کا اتباع کرنے لگ جاتا ہے۔ ہماری سیاست پر چونکہ جاگیردارانہ کلچر ہمیشہ حاوی رہا ہے اور جاگیردارانہ کلچر میں اختیارات کی برتری اور مخالفین کی تضحیک روز کا معمول ہے، چونکہ قیام پاکستان کے بعد ہی سے ہماری سیاست اور جمہوریت پر جاگیردار طبقے کی بالادستی قائم ہے لہٰذا سیاست اور جمہوریت میں اس کے مضر اثرات ناگزیر ہیں۔
ویسے تو ہماری سیاست میں الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ بڑا پرانا ہے لیکن 2014ء کے بعد سے یہ سلسلہ اس تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ سیاست گالی بن کر رہ گئی ہے۔ بلاشبہ ہماری جمہوریت ابھی نوآموز ہے اور اخلاقی ضابطوں سے نابلد ہے لیکن اس نازیبا کلچر کو اسی طرح فروغ ملتا رہا اور اسے اخلاقی حدود کے اندر لانے کی کوشش نہ کی گئی تو 'اوئے، تو، ابے تبے' کا یہ کلچر اس قدر مستحکم ہو جائے گا کہ سیاست بذات خود ایک گالی بن جائے گی۔ یہ کلچر صرف پاکستان ہی میں موجود نہیں بلکہ دیگر ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں میں بھی اس کے مظاہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔
میں روزنامہ ایکسپریس کا مطالعہ کر رہا تھا تو میری نظر ایک خبر پر پڑی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے پنجاب کے مختلف علاقوں کے دورے کے دوران کہاکہ ''کرپشن کے ریکارڈ بنانے والی پارٹی ہی کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے، چوہدری نثار صاحب نے فرمایا کہ مخالفین کے پاس جھوٹے وعدے، الزامات ہیں، ہوا کے جھونکوں کے ساتھ پارٹیاں بدلنے والے سیاست دان نہیں سوداگر ہیں''۔
چوہدری صاحب نے فرمایا کہ ''اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کرپشن کے ریکارڈ بنانے اور حلال و حرام کی تمیز ختم کر دینے والی پارٹی (پی پی پی) کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے، جن لوگوں نے پاکستان میں کسی چیز کو ثابت و سالم نہیں چھوڑا وہی لوگ کرپشن کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں''۔
کرپشن پاکستان کی قومی زندگی میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ یہ مسئلہ نہ کسی ایک سیاست دان کا ہے، نہ کسی ایک سیاسی پارٹی کا، بلکہ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو قومی جسم کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ اس ناسور کے خلاف اجتماعی جدوجہد کے بجائے الزام اور جوابی الزام کی سیاست سے یہ بیماری پورے قومی جسم میں سرائیت کرتی جا رہی ہے۔ کرپشن ویسے تو ہماری قومی زندگی کا ایک حصہ بنی ہوئی ہے لیکن پاناما اسکینڈل نے ہماری قومی زندگی کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ پاناما کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں قانون اور انصاف کے اداروں پر عوام کا اعتماد ہوتا ہے وہاں عوام اور خواص عدلیہ کے فیصلوں کا انتظار کرتے ہیں۔ عدلیہ میں زیر سماعت کیسوں پر رائے زنی نہیں کرتے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس مسئلے کے فریقین اس پر کھل کر سیاست کر رہے ہیں اور الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے۔
یہ کس قدر دلچسپ بات ہے کہ پیپلزپارٹی پر اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کرپشن کے ریکارڈ توڑنے کا الزام لگانے والوں کی پارٹی کو یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ اسی کی حمایت کی وجہ سے پیپلزپارٹی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر سکی۔ یہ ایسے تلخ حقائق ہیں جو ہمارے ملک میں سیاسی اخلاقیات کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ ہماری نیم دروں، نیم بروں جمہوریت میں پارٹیاں بدلنا ایک منافع بخش کاروبار بنا ہوا ہے۔ ہر پارٹی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ مخالف پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو اپنی پارٹی میں شامل کرے اور شمولیت کے موقع پر اعلیٰ سطح کے رہنما بھی موجود ہوتے ہیں۔
ایسے کلچر میں یہ کہنا کہ ''ہوا کے جھونکوں کے ساتھ پارٹیاں بدلنے والے سیاست دان نہیں سوداگر ہیں'' کس حد تک درست ہے۔ ہم نے ایک خاندان میں بچوں کی تربیت اور اخلاقیات کے حوالے سے کالم کی ابتدا کی تھی، جس کا دائرہ سیاست اور جمہوریت تک وسیع ہوتا ہے، اگر ہمارے سیاست دان سیاست میں اخلاقیات کا خیال رکھیں تو سیاست کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔