پاک افغان مفاہمتی عملامن کی نوید

پاکستان نے امریکا کو افغانستان میں تربیت پانے والے تین سو دہشت گردوں کی فہرست مع دستاویز ثبوت کے پیش کیے ہیں


Editorial January 02, 2013
افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے طالبان رہنماؤں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے. فوٹو: فائل

PUNJAB: کفرٹوٹا خدا خدا کر کے! پاک افغان مفاہمتی عمل شروع ہوگیا ہے اور پاکستان نے طالبان دورکے وزیرانصاف ملانورالدین ترابی سمیت مزید چارطالبان قیدیوں کو رہا کردیا ہے ۔ پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل میں مدد کے تحت گزشتہ ماہ نو افغان طالبان کو رہا کیا تھا ،جب کہ مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کے بھی امکانات واضح نظر آرہے ہیں ۔

افغان حکومت نے طالبان رہنمائوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے ۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے بعد دو اچھے پڑوسیوں کے درمیان تعلقات تسلسل سے کشیدہ چلے آرہے ہیں، پاکستان کی تمام ترکاوشوں کو افغان حکومت شک کی نگاہ سے نہ صرف دیکھتی رہی ہے بلکہ سرحد پار دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیاجاتا رہا ہے ۔ افغانستان سے 2014ء میں امریکی افواج کے انخلا اورخطے میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا خطاب پاکستان کو بہت مہنگا پڑا ہے ۔ جس کی قیمت ہزاروں قیمتی جانوں، مالی و معاشی بدحالی کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔مسئلے کا ایک اہم فریق امریکا بھی ہے ۔

پاکستان کو سہ جہتی خارجی اور داخلی مسائل کا سامنا ہے ۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق امریکا کو طورخم اور چمن سے اسلحہ افغانستان لے جانے کی اجازت دی گئی ہے تاہم کیمیائی اور ایٹمی مواد یا پرزہ جات پر پابندی ہوگی ۔ دوسری طرف پاکستان نے امریکی حکام کو افغانستان میں تربیت پانے والے تین سو دہشت گردوں کی فہرست مع دستاویز ثبوت کے پیش کیے ہیں جس کے مطابق افغانستان میں تربیت پانے والے تین سو افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے ،واشنگٹن میں پاکستانی انٹیلی جنس اور سی آئی اے حکام کے درمیان ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے ایک خفیہ فہرست امریکا کے حوالے کی ہے ان نوجوانوں کو تین سو ڈالر ماہانہ تنخواہ بھی دی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں افغانستان کو ایسے عناصر کی سرپرستی سے پرہیز کرنا چاہیے تب ہی یہ بیل منڈھے چڑھ سکتی ہے ۔

چونکہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اسی لیے چاہتا ہے کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کا خاتمہ ہو تاکہ ملک دوبارہ امن کا گہوارہ بن جائے اسی سلسلے میں حکومت نے کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے حکومت سے مذاکرات کے لیے شرائط نہیں رکھی ہیں اس لیے حکومت بھی کوئی شرط نہ رکھے ۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق ہم حکومت سے مذاکرات چاہتے ہیں اور اپنی پیشکش پر حکومتی جواب کے منتظر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رحمان ملک ان مذاکرات میں قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ وہ غیر سنجیدہ آدمی ہیں۔حکومت پاکستان ان کے سوا کسی کو بھی مذاکرات کے لیے سامنے لائے۔ وسیع تر قومی مفاد کی خاطر تمام افغانوں کو متحد اور بالٓاخر جنگجوئوں کو بھی سیاسی عمل میں شریک ہونا پڑے گا ۔افغان حکومت کی سوچ میں مثبت سمت میں تبدیلی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ گیارہ سال سے جاری جنگ کے بعد مذاکرات کے عمل سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آئیں گے اور اس سلسلے میں پاکستان مثبت اقدامات عملی طور پر اٹھا رہا ہے ۔پاکستان افغانستان میں امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔کابل حکومت امید رکھتی ہے کہ اس طرح طالبان کو سیاسی عمل میں شریک کیا جاسکے گا ۔

افغان حکومت کی یہ شدید خواہش ہے کہ نیٹو فورسز کے جانے سے قبل طالبان مذاکراتی عمل کے ذریعے ہتھیار ڈال کر سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں ۔افغان حکومت کی خواہشات برحق ہیں لیکن عملی طور پر خلوص نیت سے افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ اپنے ملک سے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپوں کا خاتمہ فوری طور پر کرے ۔ تاکہ اعتماد کی فضا بحال ہو اور خطے میں امن کا بول بالا ہو ۔ بہرحال پاک افغان مذاکراتی عمل سے دہشت گردی کی کالی رات چھٹ جائے گی اور ایک نیا سویرا طلوع ہوگا جو امن کی نوید دے گا۔