مہنگائی باسمتی چاول کی برآمد 6 ماہ میں 53 فیصد کم

ایکسپورٹرزنے نرخوں میں کمی لانے کیلیے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈائون کا مطالبہ کردیا


Business Reporter January 03, 2013
گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 44 کروڑ ڈالر کا 5 لاکھ 6 ہزار 904 ٹن پاکستانی باسمتی چاول برآمد کیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پاکستان سے باسمتی چاول کی برآمد میں 53فیصد کمی کا سامنا ہے۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین جاوید علی غوری نے باسمتی چاول کی برآمدات میں کمی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت باسمتی چاول کی برآمدات میں اضافے کویقینی بنانے کیلیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاون کرے۔

انھوں نے بتایا کہ بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور توانائی بحران کے باعث باسمتی چاول کی قیمت میں صرف ایک ماہ کے دوران 15 فیصد اضافہ ہوچکاہے،رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ (یکم جولائی تا دسمبر 2012) باسمتی چاول کی برآمد 53 فیصد کمی سے2لاکھ 39 ہزار 764 ٹن رہی جس کی مالیت 23.3 کروڑ ڈالر ہے۔

4

گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں44 کروڑ ڈالر کا5 لاکھ 6ہزار904 ٹن پاکستانی باسمتی چاول برآمد کیا گیا تھا، اس دوران اچھی قیمت نہ ملنے کے باعث ایران کوزمینی راستے سے باسمتی چاول کی برآمدمیں 66 فیصد کمی ہوئی، دوسری جانب قطرنے سستے داموں دستیابی کے باعث 50 ہزار ٹن باسمتی چاول کا ٹینڈر بھارت کو دیدیا۔

جاوید علی غوری نے عمان، ابوظبی اوردوحہ سے ابھی تک باسمتی چاول کے نئے آڈرز نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاول کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرے تاکہ باسمتی چاول کی قیمتوںمیں اضافے میں کمی رونما ہو سکے۔ انہوں نے حکومت اور وزارت زراعت سے مطالبہ کیا کہ چاول کی ورائٹی PK-386 کو باسمتی چاول کا درجہ دے دیا جائے کیونکہ 20 سالہ پرانے سپر باسمتی چاول کے بیج سے باسمتی چاول کی پیداوار میں کمی رونما ہوئی اور چاول کے نئے بیج کی اقسام پر تحقیق نہ کرانے کے باعث بھی چاول کی برآمدات پر منفی اثرات نمودارہورہے ہیں۔

مقبول خبریں