سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا جائے

سابقہ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے الٹی میٹم دیا کہ 30 دن میں کراچی کے مسائل حل کیے جائیں


Editorial January 30, 2017
فوٹو: محمد ثاقب/ ایکسپریس

ISLAMABAD: شہر قائد میں اتوار کو پاک سرزمین پارٹی نے اپنے سیاسی وژن اور طاقت کے اظہار کے لیے جلسہ کا انعقاد کرکے طالع آزما قوتوں کو صاف پیغام دیا ہے کہ کراچی اور اس کے رہائشی لاوارث نہیں ہیں، اس لیے یہاں کے مسائل سے چشم پوشی عوام کے جذبات میں ابال کا باعث ہوگی۔ یہ امر ایک حقیقت ہے کہ ملک کے معاشی ہب کو دانستہ نظر انداز کیا گیا، آج شہری مسائل اس قدر گنجلک ہوچکے ہیں کہ اس کے حل کا سرا ڈھونڈنا بھی ناممکن نظر آتا ہے۔ تبت سینٹر پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے الٹی میٹم دیا کہ 30 دن میں کراچی کے مسائل حل کیے جائیں۔

پی ایس پی کے قائد کا کہنا تھا کہ اردو بولنے والوں پر را کے ایجنٹ ہونے کا الزام نہ لگایا جائے، کراچی کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا جائے اور شہر میں 4 کیڈٹ کالج کھولے جائیں، لاپتہ، اسیر نوجوانوں کے لیے فاٹا اور بلوچستان کی طرز کا پیکیج دیا جائے۔ انھوں نے شہر کا صحیح نوحہ بیان کیا کہ آج اس شہر میں پانی وبجلی نہیں ہے، کچرا اٹھانے والا نہیں ہے، تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی اورنگی میں پریس بریفنگ کے دوران اس اندیشے کا اظہار کیا کہ سندھ کے شہری آبادی کے سیاسی و معاشی مستقبل پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھوں نے شہری علاقوں کے عوام کو انصاف، کوٹہ سسٹم اور اس کی باقیات کا خاتمہ، بلدیاتی اختیارات اور شفاف مردم شماری کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی سیاست کے نئے منظرنامے میں ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی اردو بولنے والے مہاجرین کی دو بڑی نمایندہ جماعتوں کی صورت سامنے آئی ہیں۔ شہر قائد کے رہائشیوں کو دونوں جماعتوں کے قائدین سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔

یقیناً یہ بریک تھرو ہوگا کہ دونوں ہی جماعتیں فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی اور رکیک الزامات عائد کرنے کے بجائے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں عمل پیرا ہوں۔ کراچی کے شہری پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، صفائی ستھرائی، ٹرانسپورٹ، خستہ حال سڑکوں، طبی سہولتوں اور تعلیمی اداروں کے فقدان کا شکار ہیں۔ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور منی پاکستان ہے، اس کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کو استحکام پاکستان کے لیے ہر حال میں یقینی بنائے جانے کے لیے ضروری ہے کہ شہر کی نمایندہ جماعتیں سیاسی رواداری کا مظاہرہ کریں۔