پاکستان پر بھی امریکی امیگریشن پابندی کا خدشہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے بھی سابق امریکی پالیسیوں کے برعکس موقف اپنایا ہے
لاہور:
امریکی وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف رائنس پریبس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مستقبل میں اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جائے جن پر امیگریشن کی پابندی عائد کی گئی ہے' ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پابندیوں کے لیے ان سات ملکوں کو چنا ہے جن کا کانگریس اور اوباما انتظامیہ نے انتخاب کیا' ان سات ممالک میں دہشت گردی کے خطرناک واقعات رونما ہوتے رہے ہیں' اب دوسرے ممالک کو بھی پوائنٹ آؤٹ کیا جا سکتا ہے جہاں اسی طرح کے مسائل ہیں جیسا کہ پاکستان اور دیگر ممالک' ہمیں اس فہرست کو وسیع کرنے کی ضرورت پڑے گی' فوری طور پر پاکستان جیسے ممالک کے شہریوں کو ویزے دیتے ہوئے کڑی جانچ پڑتال سے گزاریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سات مسلم ممالک ایران'عراق'لیبیا'سوڈان' یمن' شام اور صومالیہ کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی کے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے بعد ان ممالک سے امریکا پہنچنے والے متعدد مسلمانوں کو تمام تر قانونی کاغذات رکھنے کے باوجود ایئرپورٹس پر گرفتار کر لیا گیا تاہم امریکی شہر نیویارک کی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے پناہ گزینوں کو عارضی طور پر امریکا میں قیام کی اجازت دے دی۔
امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی نے عدالت کے اس فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کی تعمیل کی جائے گی تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر برقرار ہے جسے نافذ کرنے کے لیے کام جاری رہے گا' امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ مسلم تارکین وطن کی معمول سے زیادہ سیکیورٹی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے بھی سابق امریکی پالیسیوں کے برعکس موقف اپنایا ہے ان کا کہنا ہے کہ امریکا نیٹو کے اخراجات میں ستر فیصد ادا کرتا ہے جب کہ اس میں شامل اٹھائیس ممالک میں سے صرف پانچ اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں جب کہ دوسرے ممالک کچھ بھی ادا نہیں کر رہے اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے تو امریکا کو نیٹو ممبر ممالک کے تحفظ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے باعث یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک جانب امریکا اور یورپی ممالک ' جو ایک عرصے سے ایک دوسرے کے اتحادی چلے آ رہے ہیں' میں عالمی پالیسیوں کے حوالے سے نئی کشاکش شروع ہو چکی ہے تو دوسری جانب امریکا اور روس جو ایک دوسرے کے خلاف سرد جنگ میں مصروف عمل ہیں مسلم انتہا پسندوں کے خلاف یکساں موقف رکھنے کے باعث ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریات کے باعث نیٹو کی ممبر بالٹک ریاستوں اسٹیونیا' لیٹویا اور لیتھونیا جن کی سرحدیں روس سے ملتی ہیں، میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ' 2014ء میں روس کے یوکرین پر قبضے نے ان ریاستوں کو دہلا کر رکھ دیا چونکہ یہ چھوٹی ریاستیں اپنی بقا کے لیے مکمل طور پر نیٹو کی محتاج ہیں اگر نیٹو کمزور پڑتی یا تحلیل ہوتی ہے تو ان ریاستوں کی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ تارکین وطن پر پابندی کے امریکی فیصلے کے خلاف کینیڈا' برطانیہ' فرانس اور جرمنی نے احتجاج کیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے تو واضح کر دیا ہے کہ وہ اس امریکی فیصلے کی حمایت نہیں کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر پاکستان کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے تو اس کے پاکستانی شہریوں' پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکا پاکستان سے داخلی سطح پر موجود انتہا پسند اور سخت موقف رکھنے والی مذہبی تنظیموں جن میں جماعت الدعوۃ بھی شامل ہے' پر پابندی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اگر امریکا ایسی پالیسی اپناتا ہے تو اس سے مستقبل میں پاکستان کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کے امکان کے علاوہ پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر سرد مہری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
امریکا جنوبی ایشیا میں پاکستان کے بجائے بھارت کو اپنا مستقبل کا پارٹنر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے خوشگوار نہیں' پاکستانی پالیسی سازوں کو مستقبل میں پیش آنے والے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ابھی سے پیش بندی کر لینی چاہیے اگر اس سلسلے میں اونٹ کے کروٹ بیٹھنے کے انتظار میں روایتی تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا گیا تو اس سے دفاعی اور عالمی تجارت کے حوالے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا میں مقیم پاکستانی شہریوں کے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو امریکا سے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کوشش کرنا چاہیے کہ اس کو امیگریشن پر پابندی والی فہرست میں شامل نہ کیا جائے اور دہشت گردی کی عالمی جنگ میں اہم اتحادی ہونے کے ناطے اس سلسلے میں نیٹو ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔