فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

مسلمان ممالک چاہتے تو اسرائیل کو بے دست وپا کرسکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا


Editorial February 01, 2017
۔ فوٹو:فائل

مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے، لیکن اسرائیل کی قابض ریاست کی ہٹ دھرمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے امریکا کی آشیر باد حاصل ہے۔ مشرقی وسطیٰ کے امن میں یہ مسئلہ رکاوٹ ہے، بالکل ایسے، جیسے مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ۔ پاکستان کی اولین دن سے یہ پالیسی رہی ہے کہ اس نے ہر فورم پر مسئلہ فلسطین کو اجاگرکیا ہے اورآج تک تمام ترعالمی دباؤکے باوجود ''اسرائیل''کو بحیثیت ملک تسلیم نہیں کیا ہے، جب کہ متعدد عرب ممالک اسے تسلیم کرچکے ہیں ۔فلسطین کے صدرمحمودعباس پاکستان تشریف لائے تو ان کی صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں ہوئیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد جوموقف سامنے آیا، اس کے مطابق پاکستان اورفلسطین نے بین الاقوامی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ مغربی کنارے سے اسرائیلی آبادیوں کے خاتمے کی متقاضی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراراداد2334 پر عملدرآمد کرائے۔ فلسطین،اسرائیل تنازعہ کے منصفانہ حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدارامن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعظم نوازشریف نے فلسطینی کازکے لیے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ہر فورم پر فلسطین کازکی حمایت جاری رکھے گا۔محمود عباس نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

دریں اثنافلسطین کے صدرمحمود عباس نے اپنے پاکستانی ہم منصب ممنون حسین سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے زوردیاکہ اسرائیل کوناجائز تعمیرات سے روکا جائے ۔ فلسطین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتاہے اور ہم فلسطین کی حمایت کرنے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ فلسطینیوں پر جو مظالم اسرائیل نے ڈھائے ہیں اور جس طرح ان کے حقوق غضب کرکے ان کی زمین پرناجائز قبضہ کرکے ایک ریاست بنائی ہے، جس میں دنیا بھر سے یہودی آکر آج تک آباد ہو رہے ہیں اس پر اقوام عالم کی تنظیم اقوام متحدہ کی بے بسی اس ادارے کے غیرفعال ہونے کی نشانی ہے۔جس کا معیاردہرا یعنی مسلمان ممالک کے لیے الگ اورغیرمسلم ممالک کے لیے الگ۔جہاں غیروں کی ریشہ دوانیاں ہیں وہیں اپنوں کی نااتفاقی بھی ہے ۔

مسلمان ممالک چاہتے تو اسرائیل کو بے دست وپا کرسکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ ، شام ، لبنان اوردیگر ممالک پر جارحیت کی، لبنان کی تو دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کے بعد اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔اسرائیل کا وجود مشرق وسطیٰ میں ایک دہشت گرد ریاست کا ہے جسے امریکا کی بھرپورتائید حاصل ہے، جس کی وجہ سے اس نے فلسطینیوں سمیت دیگر مسلم ممالک کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ فلسطینیوں کو اپنی قراردادوں کے مطابق ان کے حقوق دلوائے اور مسئلہ کشمیرکو بھی فراموش نہ کرے کیونکہ یہ عالمی امن کی کنجی ہیں۔

مقبول خبریں