پٹرولیم قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کبھی عوام کو منتقل نہیں کیا گیا
BULEDA, TURBAT:
ملک میں یوں تو کسی بھی چیز کی قیمت مستحکم نہیں لیکن جو جنس سب سے زیادہ قیمت کی تبدیلی کا شکار ہوتی ہے وہ پٹرولیم مصنوعات ہیں، جن کی قیمتوں میں ردوبدل بڑے پیمانے پر معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز بالائی سطح سے نچلی سطح تک کے کاروبار کے مزانیے متاثر ہوجاتے ہیں۔ لیکن نتائج سے بے پروا وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے، لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں برقرار رہیں گی جب کہ پٹرول 2.25 روپے اور ڈیزل 2.26 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔ اس پر مستزاد کہ یہ قیمتیں بھی صرف آیندہ 15روز کے لیے برقرار رہیں گی، یعنی قیمتوں میں اضافے کا یہ پیغام بھی مستحکم نہیں بلکہ آیندہ پندرہ دن بعد دوبارہ قیمتوں پر نظرثانی کی جائے گی۔
آخر ہماری دانشمند حکومت اور فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے والے بزرجمہر اس بات کا ادراک کیوں نہیں کرتے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا سارا نزلہ بے چارے عوام پر گرتا ہے جو نہ صرف ٹرانسپورٹ کی مد میں مہنگائی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اشیائے خور و نوش سے لے کر ہر چیز کی قیمتیں تاجر و دکاندار حضرات خودساختہ طور پر اس طرح بڑھا دیتے ہیں جیسے وہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کے ہی منتظر تھے، دوسری جانب گراں فروشی کو کنٹرول کرنے والے ادارے بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں، نتیجتاً ان لایعنی پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا اور حکومت نے کم اضافہ کیا جس کے باعث حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 4 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کبھی عوام کو منتقل نہیں کیا گیا، کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق پٹرول کی قیمتیں اب بھی عالمی مارکیٹ کے حوالے سے پاکستان میں کہیں زیادہ ہیں، تو پھر یہ کون سی سبسڈی ہے جو حکومت کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔