بھارت کا المیہ یہی ہے

کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر الزام تراشی سے خطہ میں امن کے نصب العین میں مدد نہیں ملے گی


Editorial February 03, 2017
، فوٹو؛ فائل

وزارت داخلہ کے ترجمان کا حافظ محمد سعید کی نظربندی کے حوالہ سے بھارت کی وزارت خارجہ امور کے بیان پر ردعمل بر وقت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ اقدامات پر پاکستان کو بھارت سے کسی سرٹیفکیٹ یا توثیق کی ضرورت نہیں جب کہ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ دنیا کو باور کروا دیا ہے کہ امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے جماعت الدعوۃ کے بارے میں دسمبر 2008ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کی روشنی میں اپنی ذمے داریاں پوری کی ہیں، متعلقہ قرارداد کے تحت ہتھیاروں و سفرپرپابندی اور اثاثے منجمد کرنے جیسے مختلف اقدامات اٹھائے جانے تھے تاہم سابقہ حکومتوں کی جانب سے بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ کیا گیا۔

تاہم بھارتی حکام اور میڈیا نے پاکستان کے ایک داخلی اقدام کو اپنے شر انگیز پروپیگنڈہ کا حصہ بناتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے سربراہ اور ان کے رفقا کی نظر بندی کے تانے بانے خطے کی سیاسی صورتحال سے ماورا کہانیوںسے جوڑ دیے ہیں۔ روزنامہ ''ہندوستان ٹائمز'' نے ایک تجزیہ میں کہا ہے کہ حافظ سعید کی محض نظربندی سے حاصل فائدہ معمولی ہے ، اخبار نے وزیراعظم نواز شریف کو اپنی دانست میں مفید مشورہ دیا ہے کہ وہ طویل المدتی سوچ اپنائیں اور بین الاقوامی حدت سے بچنے کے لیے نظر بندی پر انحصار نہ کریں بلکہ دہشتگردی کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کوشش کریں، جب کہ بھارت اس احسان کو بھی یاد نہیں رکھتا کہ خطے کو نائن الیون کے بعد جس ہولناک تباہی اور دہشتگردی کا سامنا ہوا اس میں پاکستان ہی فرنٹ لائن ریاست کی حیثیت میں دہشتگردوں کے خلاف سینہ سپر رہا ، بھارت نے سوائے الزام تراشی اورپاکستان سے دشمنی چکانے کے کوئی معرکہ سر نہیں کیا۔ ایک اور تجزیہ کار سنیل شرن نے لکھا کہ حافظ سعید کی نظر بندی پر بھارت بغلیں نہ بجائے۔

انھوں نے پاک بھارت دائمی کشیدگی کو اپنے تجزیہ کا کلیدی نکتہ بناتے ہوئے یہ فلسفہ بگھارا کہ پاکستان افغانستان کا کنٹرول چاہتا ہے، بھارتی حملہ کے خلاف افغانستان کو اسٹرٹیجک ڈیپتھ مہیا کرنے کا خواہاں ہے، ادھر امریکا اس بات سے پریشان ہے کہ پاک افغان سرحد پر طالبان سرحد پار دہشتگردی کے مرکز ی کردار ہیں، پاک امریکا صورتحال پر ان کا کہنا ہے کہ ہلیری کو تو ایک ہما عابدین جیسی طاقتور لابیسٹ ملی مگر بیچارے ٹرمپ کے پاس کوئی ''ہما'' نہیں، بھارتی میڈیا یہ تاثر بھی دے رہا ہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی ٹرمپ کو ایک اشارہ کہ پاکستان امریکا سے معاملہ فہمی کو تیار ہے جب کہ ایسی سفارتی کج فہمی کا بھی مظاہرہ ہوتا ہے کہ پاکستان ٹرمپ کو جب کہ ٹرمپ پاکستان کو ہینڈل کرنے کی واردات میں مصروف ہیں، غالباً یہی وجہ ہے کہ بھارتی سفارت کاری اور میڈیائی پینترے بازیوں کا شستہ جواب وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے آیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر انڈیا اپنے الزامات کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرے جنھیں پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی قانون کی عدالت میں پیش کیا جا سکے۔

کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر الزام تراشی سے خطہ میں امن کے نصب العین میں مدد نہیں ملے گی۔پاکستان بھارت سے ابھی تک اس بارے میں وضاحت اور جواز کا منتظر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر بم حملہ جس میں 68پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، میں ملوث تمام ملزمان کس طرح رہا ہو گئے؟جہاں تک حکومتی اقدامات کا تعلق ہے اس کی سمت قومی مفاد کے سیاق و سباق میں بتائی جاتی ہے، وزارت داخلہ نے حافظ سعید سمیت 38 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیے ہیں ، ای سی ایل میں شامل تمام افراد کا تعلق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سے ہے، وفاقی حکومت نے تمام متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں کو اس بارے میں آگاہ کر دیا۔ بہر کیف حکومت زمینی حقائق پر بھی نظر رکھے، امن و امان کو یقینی بنائے۔

حکومتی اقدام کے حوالہ سے امیر جماعت الدعوۃ حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں دوسرے روز بھی مظاہرے ہوئے اور آل پارٹیز کانفرنسز منعقد کی گئیں، جمعہ کو بھی ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی ہے، الرٹ رہنے کا وقت ہے، بھارت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے نت نئے ہتھکنڈے تلاش کررہا ہے ،اس کے جنگی جنون کی پالیسی برقرار ہے، بھارتی وزیر خزانہ نے بدھ کو پارلیمان میں 214کھرب 70ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرتے ہوئے فوجی اخراجات میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے 500 اور ایک ہزار روپے کے نوٹ ختم کرنے کے فیصلے کو حکومت کا ''جراتمندانہ اور دلیرانہ'' قدم قرار دیا تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ قلیل مدت تک اس کے جزوی اثرات نظر آسکتے ہیں، ادھر بھارتی میڈیا نے بجٹ کو مایوس کن قراردیا اور کہا ہے اس میں کسانوں اور جوانوں کے لیے کچھ بھی نہیں، عام آدمی سڑک پر پڑا مر رہا ہے ۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی سرکار خطے میں امن و استحکام اور پاک بھارت دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں، جو کسی المیہ سے کم نہیں۔