مردم شماری میں سمندر پار پاکستانیوں کا شمار

مردم شماری ایک حساس معاملہ ہے


Editorial February 03, 2017
، فوٹو؛ فائل

KARACHI: مردم شماری کے حوالے سے چیف آف شماریات کا ایک بیان سامنے آیاہے جس کے مطابق آیندہ ماہ (مارچ)سے شروع ہونے والی مردم شماری 2017 میں سمندر پار پاکستانی شامل نہیں ہوں گے۔ زمینی تناظر میں یہ فیصلہ منفی نتائج کا حامل ہوگا جس پر غوروخوض کی ضرورت ہے۔پریس کانفرنس کے دوران چیف شماریات نے بتایا کہ 18 مارچ مردم شماری کا ریفرنس ڈے اور چھ ماہ ریفرنس مدت ہوگی، مردم شماری آپریشن مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا، مردم شماری کے لیے ایک لاکھ 68 ہزار بلاکس بنائے گئے ہیں۔

22مقامات پر مردم شماری سے متعلق فوج کو ٹریننگ دی جارہی ہے، ہر شمار کنندہ کے ساتھ ایک فوجی جوان سیکیورٹی پر مامور ہوگا، جب کہ جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں کا نادرا کے تعاون سے ڈیٹا حاصل کرکے غیر ملکی کے طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو مردم شماری فارم میں کوڈ تھری سے شامل کیا جائے گا جب کہ مردم شماری میں پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں، سفارتکاروں اور افغان مہاجرین کو غیر ملکی شمار کیا جائے گا۔

خواجہ سراؤں کو بھی یکساں شہری حقوق دینے کے لیے مردم شماری میں شامل کیا جانا لائق تحسین ہے لیکن سمندر پار پاکستانیوں اور چھ ماہ تک بیرون ملک رہنے والوں کے حوالے سے مشتہر کیا جانے والا فیصلہ نہایت مبہم ہے، جس پر عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے کئی ہونہار طالب علم اور اعلی تعلیم کے خواہاں سول سوسائٹی کے لائق حضرات ملک و قوم کی خدمت کی غرض سے قلیل مدت کے لیے تعلیم کے حصول اور دیگر عوامل کے باعث بیرون ملک مقیم ہیں، جب کہ روزگار کے لیے بھی عارضی طور پر لاکھوں جوان بیرون ملک اپنی توانائیاں صرف کرکے ملک کے لیے زر مبادلہ کما رہے ہیں۔

ان میں سے اکثر حضرات سال، دو سال میں اپنی تعلیم مکمل کرکے اور کاروباری حضرات ایک مخصوص عرصہ گزارنے کے بعد لامحالہ ملک واپس لوٹیں گے۔ کیا مذکورہ فیصلہ لیتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا ہے کہ آیندہ مردم شماری دس سال بعد ہی منعقد ہوگی، تب تک ان واپس آنے والے ''سمندر پار'' پاکستانیوں کا شمار کس گنتی اور کھاتے میں کیا جائے گا؟ صائب ہوتا کہ مذکورہ فیصلے لینے سے پہلے مشاورت کی جاتی اور اس کے مضمرات پر دھیان دیا جاتا۔ مردم شماری ایک حساس معاملہ ہے، اسے خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچانا ہی قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔