ٹیکسٹائل پیکیج پر پیچیدہ و بے جا شرائط سے ایکسپورٹرز مشکل میں پڑ گئے

ایکسپورٹرز سے 10بھاری بھرکم دستاویزات کا پلندہ بھی طلب کیا جانے لگا


Ehtisham Mufti February 03, 2017
وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری غیرضروری ڈیٹاطلب اور نت نئی شرائط لگاکرروڑے نہ اٹکائے۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

وفاقی حکومت کے اعلان کردہ ٹیکسٹائل پیکیج میں بعض غیرضروری شرائط، بھاری بھرکم دستاویزات کی طلبی کے علاوہ زرمبادلہ کے فرق کی پالیسی متعارف نہ کرانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری نے اعلان کردہ ٹیکسٹائل پیکیج سے 16 جنوری 2017 تا 30 جون 2017 کے دوران کی جانے والی ٹیکسٹائل برآمدا ت پراستفادے کی سہولت نوٹیفائی کی ہے لیکن ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا موقف ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے ٹیکسٹائل پیکیج کے اعلان کے موقع پر واضح طور پریکم جنوری 2017 سے پیکیج کے موثربہ عمل ہونے کا اعلان کیا تھا لہٰذا وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری وزیراعظم کے احکامات کی پاسداری کرے۔

ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل کو بھیجے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل پیکیج سے حقیقی معنوں میں استفادے کی راہ میں وزارت نت نئی شرائط عائد کرکے روڑے نہ اٹکائے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدی یونٹوں سے غیرضروری ڈیٹا طلب کرنے سے گریز کرے اور اس ڈیٹا کی عدم فراہمی پر پیکیج کی ترغیبات سے محروم رکھنے کی دھمکیوں سے گریز کرے۔

دوسری جانب ٹی ایم اے کا موقف ہے کہ ملک میں برآمدات کے عوض پہنچنے والی زرمبادلہ میں برآمدی آمدنی پہلے دن ہی متعلقہ بینکس پاکستانی روپے میں تبدیل کردیتے ہیں لیکن وزارت نے ٹیکسٹائل پیکیج کے تحت زرمبادلہ میں برآمدی آمدنی کواسٹیٹ بینک کے وار ریٹ کے اجرا سے منسلک کردیا ہے اور اس وار ریٹ کو مدنظررکھتے ہوئے متعلقہ ایکسپورٹرکو پاکستان پہنچنے والی اس کی برآمدی آمدنی کے زرمبادلہ کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے گا جو غیرحقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔

واضح رہے کہ خط میں ٹیکسٹائل پیکیج سے استفادے کے لیے متعارف کرائے گئے طریقہ کار کو انتہائی پیچیدہ اور مشکل قراردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پیکیج کے اعلان سے قبل وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل اجلاس کے دوران یہ طے کیا تھا کہ جس دن زرمبادلہ میں برآمدی آمدنی متعلقہ بینکوں میں پہنچے گی اسی وقت ٹیکسٹائل پیکیج کے ترغیبی کلیموں کی ادائیگیاں بھی بینکوں میں کردی جائیں گی لیکن اس کے برعکس وزارت ٹیکسٹائل نے ٹیکسٹائل پیکیج سے استفادے کے لیے ہرایکسپورٹرکو وزارت ٹیکسٹائل میں آن لائن کلیمز داخل کرانے کی شرط عائد کردی ہے اور یہ کلیمز متعلقہ نمائندہ ایسوسی ایشن سے دستاویزی اور آن لائن تصدیق ہونے کی بھی شرط عائد کی گئی ہے جسے بعدازاں متعلقہ بینکوں میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ متعلقہ بینکس تصدیق درتصدیق دستاویزات کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے گا اورپھر اسٹیٹ بینک ان کلیموں پر ادائیگیوں کی وفاقی وزارت خزانہ کو تمام تر دستاویزات ارسال کرے گا۔

مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل پیکیج سے استفادے کے لیے مختلف نوعیت 10 بھاری بھرکم دستاویزات کا پلندہ بھی وزارت نے طلب کیا ہے جس پر ٹی ایم اے کا موقف ہے کہ جب ایکسپورٹ پروسیڈز کے ساتھ متعلقہ ایکسپورٹرز کوآن لائن پیمنٹ ہوجاتی ہے تو ان بھاری بھرکم اور غیرضروری دستاویزات کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے کیونکہ متعلقہ بینکوں کے پاس پہلے مذکورہ تمام دستاویزات موجود ہوتی ہیں۔

علاوہ ازیں ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت ٹیکسٹائل اس شعبے کی برآمدات بڑھانے اور اعلان کردہ پیکیج کونتیجہ خیز بنانے کے لیے برآمدکنندگان کی مشکلات بڑھانے کے بجائے انہیں سادہ اور آسان طریقہ کار کے ذریعے سہولتیں بہم پہنچائے۔