ایشیا میں ٹرمپ کی پالیسیاں

امریکا دنیا کی واحد سپرپاور ہے اگرچہ اب دنیا تیزی سے یونی پولر کے حصار سے نکل کر ملٹی پولر بنتی جا رہی ہے۔


Zaheer Akhter Bedari February 04, 2017
[email protected]

امریکا کے نئے صدر ٹرمپ نے پرانے ہونے سے پہلے ہی ساری دنیا میں اپنے بیانات، اپنے ارادوں، اپنی ممکنہ پالیسیوں سے ایک ایسی ہلچل مچا دی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ تشویش میں بدلتی جا رہی ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے تارکین وطن کے حوالے سے جو سخت بیانات دیے۔ اس کی وجہ امریکا میں مقیم لاکھوں تارکین وطن میں سخت تشویش اور ناراضگی پھیل گئی۔

صنف نازک کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے غیر محتاط رویہ اپنایا، جس کی وجہ سے خواتین میں ناراضگی پیدا ہونا فطری بات تھی، جس کا اظہار 2 لاکھ امریکی خواتین نے ٹرمپ کی رسم حلف برداری کے موقعے پر واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے سے کیا۔ ٹرمپ ایک منہ پھٹ صدر مانے جا رہے ہیں اور ہماری رائج الوقت سیاست میں ملک کے سربراہ کو زبان سے کوئی لفظ نکالتے ہوئے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سربراہ مملکت کے گرد مشیروں اور تھنکرزکی ایک دیوار کھڑی رہتی ہے جو سربراہ مملکت کو بتاتی ہے کہ انھیں کیا کہنا ہے کیا نہیں کہنا ہے اورکس موقعے پرکیا کہنا ہے۔ اس احتیاط سے ٹرمپ آزاد نظر آتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ 7 مسلم ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسی حوالے سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے بھارت کو امریکا کا حقیقی دوست قرار دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم کو امریکا آنے کی دعوت دی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اسی سال امریکا کا دورہ کریں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے فون پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان شراکت داری کو اور مضبوط کرتے ہوئے معیشت اور دفاع کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ اور مزید مستحکم کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر اٹھائی جانے والی دوسری دیوار برلن کی خود نگرانی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

امریکا دنیا کی واحد سپرپاور ہے اگرچہ اب دنیا تیزی سے یونی پولر کے حصار سے نکل کر ملٹی پولر بنتی جا رہی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی مسائل میں امریکا آج بھی ایک اہم حیثیت کا مالک ملک ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر کو صرف امریکی عوام کے مفادات کے تحفظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کی نظریں دنیا کے 7 ارب انسانوں کی زبوں حالی، معاشی پستی پر بھی رہنی چاہئیں۔ دنیا کی اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے اپنے طبقاتی مفادات کے تحفظ کے لیے دنیا کے عوام کی اجتماعی طاقت کو توڑنے کے لیے جو، جو فلسفے گھڑے ہیں، ان میں سے ایک قوم پرستی کا فلسفہ بھی شامل ہے۔

اس فلسفے کے بطن سے جس بچے کو باہر نکالا گیا ہے وہ بہ ظاہر انتہائی حسین اور جاذب نظر ہے، لیکن جنگوں، ہتھیاروں کی تیاری و تجارت سمیت بے شمار خطرناک بیماریاں قومی مفاد کے اس صحت مند بچے سے اس طرح جوڑ دی گئی ہیں کہ ابن آدم ہر جگہ ایک دوسرے سے برسر پیکار نظر آتا ہے۔ یہ قومی مفاد کے تحفظ ہی کا فلسفہ ہے جس نے طاقت کے توازن کے نام پر دنیا کے سارے ملکوں کو اپنے دفاع کے نام پر اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے پر مجبورکر دیا ہے۔

ٹرمپ نے بھارت کو اپنا حقیقی دوست قرار دے کر چین اور پاکستان کو یہ سوچنے پر مجبورکر دیا ہے کہ ٹرمپ اس خطے کے ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے بجائے انھیں ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگانے والے امریکی حکمرانوں کو یہ احساس نہیں رہا کہ نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے منشور میں ہندوتوا سرفہرست ہے جس کا مطلب بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا ہے۔ آج بھارت میں ہندو انتہا پسندی جس تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ اس کے مظاہرے دنیا قدم قدم پر دیکھ رہی ہے اور اسی حوالے سے ماضی میں مودی کی امریکا میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

ٹرمپ امریکا میں آباد ایک ایک تارکین وطن کو پہلی فرصت میں امریکا سے نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ ٹرمپ کے خیال میں تارکین وطن کی اکثریت جرائم پیشہ لوگوں پر مشتمل ہے، اسی قسم کی سطحی سوچ کسی راج واڑے کے حاکم کی تو ہو سکتی ہے لیکن دنیا کی سپرپاور کے سربراہ ان خطوط پر سوچنا سپر پاوری کے شایان ان نہیں ہو سکتا۔

اس حوالے سے سب سے بڑی اور بدنما حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ جن لوگوں کو تارکین وطن اور جرائم پیشہ کہہ رہے ہیں، یہ جرائم پیشہ تارکین وطن اپنے ملکوں کو چھوڑنے کے لیے اس وجہ سے مجبور ہوئے ہیں کہ ہتھیاروں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگوں کی جو آگ دہکائی جا رہی ہے یہ تارکین وطن اسی آگ کے شعلوں سے بچنے کے لیے مغربی ملکوں کی طرف انتہائی غیر محفوظ اور خطرناک سفر کر رہے ہیںتارکین وطن کی کشتیاں غرقاب ہونے اور ہزاروں تارکین وطن کی سمندر میں ڈوبنے کی خبریں۔ میڈیا میں آرہی ہیں۔

امریکا کے محترم صدر اور ان کے مشیر یقیناً اس بدنما حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ آج دنیا میں جو قتل و غارت ہو رہی ہے ہر جگہ جنگوں اور نفرتوں کے جو الاؤ روشن ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہیں اور جب تک دنیا اس نظام کے حصار میں قید رہے گی تارکین وطن اور جرائم پیشہ لوگ پیدا ہوتے رہیں گے، اگر ٹرمپ تارکین وطن کو امریکا سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا ان تارکین وطن کو سمندر برد کیا جائے گا؟

یہ ممکن نہیں امریکا سے نکالے گئے تارکین وطن کسی اور ملک میں جائیں گے اگر ٹرمپ تارکین وطن کا مسئلہ مثبت اور منطقی حوالے سے حل کرنا چاہتے ہیں تو دنیا سے جنگوں اور نفرتوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کریں، لیکن مغربی ملکوں میں ہتھیاروں کی صنعت میں جو کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے کیا وہ جنگ اور جنگوں کے خطرات کو ختم کرنے دے گی؟

مقبول خبریں