یوم یکجہتی کشمیر

پاکستان کی تکمیل اسی دن ہو گی جب بھارت سے برسر پیکار کشمیریوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر ملے گی


Editorial February 04, 2017

PESHAWAR: 2017ء کا سال کشمیر کے عالمی ضمیر میں مستقل خلش کی بروقت نمائندگی کرتا ہے اور انشا اللہ یہی دورانیہ اس بات کا فیصلہ بھی کریگا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جنت نظیر وادی کے جن جان نثاروں نے اپنے خون سے رقم کی ہے عنقریب اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے، اپنے حق کے حصول کی جنگ میں کوئی غاصب طاقت کشمیریوں کو منزل پر پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

5 فروری در حقیقت بھارتی بربریت، جور و ستم اور حق خودارادیت سے انکار کے خلاف کشمیری عوام کی فقیدالمثال جدوجہد کو جاری رکھنے کی کمٹمنٹ سے عبارت ہے۔ پاکستانی قوم اس دن کو کشمیریوں سے تجدید عہد وفا کے طور پر مناتی ہے، کیونکہ پاکستان کی تکمیل اسی دن ہو گی جب بھارت سے برسر پیکار کشمیریوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر ملے گی اور اس کے نتیجہ میں خطے کو دائمی امن و استحکام نصیب گا۔

دینی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور پارلیمنٹ کے تحت 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے دن پانچ فروری کو ملک بھر میں سرکاری تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق وفاقی حکومت نے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے کہا ہے کہ 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مشترکہ قراردادیں بھی آئیں گی اور پاکستان کے تمام پارلیمانی جماعتوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ ان کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور جموں وکشمیر کونسل کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو گا جس سے صدر پاکستان یا وزیراعظم پاکستان خطاب کریں گے۔

ادھر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم یکجہتی کشمیر سے متعلق سیمینار سے خطاب میں کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

لیکن بھارت کے لیے چونکہ کشمیر یونانی دیو مالا کے بقول ''ایڑھی کا زخم'' بن چکا ہے اور 5 فروری بھارتی حکام کا ذہنی دیوالیہ پن اپنی حد پار کر جاتا ہے جس سے مجبور ہو کر بھارتی وزیر داخلہ راج رام ناتھ نے مزید سرجیکل حملوں کی دھمکی دے ڈالی اور حیلہ جوئی یہ کی کہ دہشتگرد تنظیمیں یا کوئی اور بھارت کو نشانہ بنائے گا تو ہم مستقبل میں سرجیکل اسٹرائیکس نہ کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جو نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کیے بھی تھے تو کس خیالی خلائی سیارہ میں۔ تاہم کچھ تاخیر بھی نہیں ہوئی کہ آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ سرحد پار سے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

بلاشبہ پوری قوم کی طرح آرمی چیف کا اعلان عالمی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہے کہ بھارتی اشتعال انگیزیاں در حقیقت کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے لاہورگیریژن کا دورہ کیا، آرمی چیف نے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی معترف ہے۔

دریں اثنا ایکسپریس میڈیا گروپ اور فاسٹ مارکیٹنگ کے زیراہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت نے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ تھا اور حصہ رہے گا۔ اس سمینار میں مقررین نے جن جذبات و خیالات کا اظہار کیا وہ پوری قوم کی امنگوں کی سچی عکاسی ہے تاہم یوم کشمیر مناتے ہوئے ہم وطنوں کو اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) کے اس انتباہ پر بھی توجہ دینی چا ہئے کہ اگر پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پرعملدرآمد میں غفلت جاری رکھی تو آئندہ چند برسوں میں یہاں پانی کی قلت سنگین ترین بحران کی صورت اختیار کر جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اب تک دریائے سندھ کے سرحد پار سے آنیوالے پانی کا کوئی مناسب مطالعہ نہیں کیا جب کہ وہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت سے اپنے تنازعات کا مقدمہ انڈس واٹر کمیشن یا ورلڈ بینک کے پاس لے جانے میں بھی مسلسل تاخیرکر رہا ہے جس کی وجہ سے یہ معاہدہ 'بظاہرکمزور' پڑتا جا رہا ہے۔

یاد رہے سندھ طاس معاہدہ بھی کشمیر کی دھرتی سے جڑا ہوا ہے، کچھ عرصہ قبل انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ نے کہا تھا کہ بھارت نے کشن گنگا اور رٹلے ڈیمز پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، بھارت پاکستان کا موقف تسلیم نہیں کر رہا، بھارت کے اقدامات سے دریائے چناب میں پانی ہی نہیں جب کہ دیگر تمام دریاؤں میں بھی پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے مگر اس انتباہ سے یوں لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ نے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ہے جب کہ پاکستان مسلسل عالمی بینک سے اس مسئلہ پر ثالثی عدالت کے قیام کے لیے کہہ رہا ہے جب کہ بھارت لیت و لعل سے کام لے رہا ہے اور پانی کو روکنے کے لیے آبی جارحیت کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔ حکام کا خواب غفلت سے بیدار ہونا وقت کا تقاضہ ہے۔