کرپشن ایک عالمی بیماری
ایک سروے رپورٹ کے مطابق ’’پاکستانی کرپشن‘‘ میں 9 درجے کی بہتری آئی ہے
ایک سروے رپورٹ کے مطابق ''پاکستانی کرپشن'' میں 9 درجے کی بہتری آئی ہے۔ بین الاقوامی سروے ایجنسیاں مختلف مسائل پر سروے کر کے دنیا کو اس کے نتائج سے آگاہ کرتی رہتی ہیں۔ جدید کرپشن کا شمار جدید دنیا کے مہذب انسانوں کا ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے 9 درجے کی بہتری آئی ہے تو یہ یقیناً خوشی کی بات ہے لیکن پاکستانی میڈیا اربوں کھربوں کی کرپشن کی جن داستانوں سے بھرا پڑا ہے، اس کے پس منظر میں سروے رپورٹ کا یہ انکشاف کہ پاکستانی کرپشن میں 9 درجے کی کمی آئی ہے ناقابل یقین ہے۔
کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے اس کی پیدائش سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ہی ہوئی ہے، اس حوالے سے ہم سرمایہ دارانہ نظام اور کرپشن کو جڑواں بھائی کہہ سکتے ہیں۔ اس جھوٹ پر مبنی نظام میں کرپشن کو روکنے کے لیے بے شمار ادارے قائم ہیں لیکن ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کرپشن روکنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے ہر نئے ادارے کے ساتھ کرپشن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
کرپشن ایک ایسی بیماری ہے جس کے مریض نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک موجود ہوتے ہیں، ایک دودھ والا اگر دودھ میں پانی ملاتا ہے تو وہ بھی کرپشن کا ارتکاب کرتا ہے، ایک سبزی اور گوشت بیچنے والا مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت پر مال بیچتا ہے تو وہ بھی کرپشن کا ارتکاب کرتا ہے، کسی آفس کا چپراسی کسی سائل سے 100، 200 روپے کی رشوت لیتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے، کوئی ٹریفک سپاہی کسی موٹر سائیکل والے سے کسی بہانے 100،200 روپے لیتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے، لیکن اس سطح کی کرپشن سے ملکی معیشت پر کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑتا، اصل کرپشن یعنی اربوں، کھربوں کی کرپشن کا غریب طبقات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، یہی اعلیٰ سطح کی کرپشن معیشت کا بیڑہ غرق کرتی ہے، اسی کرپشن کی وجہ سے ترقیاتی پروگرام ہر جگہ ناکام ہو جاتے ہیں اور عوام ترقی کے ثمرات سے محروم ہو جاتے ہیں۔
ہمارے معاشروں میں کرپشن بلاشبہ ایک متعدی بیماری کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور اس بیماری کی دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ علاج کے ساتھ ساتھ اس بیماری میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ کرپشن کو روکنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کرپشن کے اسباب و محرکات کا پتہ چلایا جائے اسے ہم یونانی طریقہ علاج کہہ سکتے ہیں۔ اگرچہ ایلوپیتھک کے اس دور میں یونانی طریقہ تشخیص کو از کار رفتہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس علاج تشخیص پر عمل کیے بغیر اس عالمی بیماری کا کوئی علاج ممکن نہیں۔
اسی حوالے سے ہو یہ رہا ہے کہ متعلقہ ادارے کسی کرپشن کیس کو پکڑتے ہیں تو سرفیس پر نظر آنے والے ملزموں کو پکڑ لیتے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں قانون اور انصاف کا نظام ایلیٹ اور حکمران طبقات کے ہاتھوں میں ایک کھلونے کی حیثیت رکھتا ہے اس حوالے سے دوسرا المیہ یہ ہے کہ کرپشن کرپشن کی مدد کے لیے موجود ہوتی ہے۔ یہ اس قدر پیچیدہ اور گنجلک نظام ہے کہ اس کی موجودگی میں کرپشن کے فاتح کی بات اور دعوے ایک فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
ابھی پچھلے دنوں میں پاناما کرپشن کا ایک عالمی اسکینڈل سامنے آیا جس میں کئی ملکوں کے حکمران طبقات ملوث نظر آئے بعض ملکوں میں جن لوگوں یا حکمرانوں پر پاناما اسکینڈل کے الزامات لگے انھوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا، ان استعفوں کی بڑی تعریف کی گئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چند با ضمیر انسانوں کے استعفوں سے کرپشن ختم ہو جائے گی؟ اس کا سادہ سا جواب ہے ہرگز نہیں۔ آپ کرپشن کا ارتکاب کرنے والوں کو پھانسی چڑھا دیں، کرپشن کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔ کرپشن ہر شعبہ زندگی میں جاری و ساری ہے ہے، جاری و ساری رہے گی۔
کرپشن کا سب سے بڑا متحرک ارتکاز زر کی آزادی ہے۔ جن جن ملکوں میں سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے ان ملکوں میں لا محدود نجی ملکیت کو قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہے اسی تحفظ کی وجہ سے بالادست طبقات ارتکاز زر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جب تک چند ہاتھوں میں ارتکاز زر کی آزادی موجود رہے گی کرپشن جاری رہے گی، یہاں اس حقیقت کی نشان دہی بے جا نہیں ہو گی کہ سوشلسٹ نظام میں ارتکاز زر کو روک کر کرپشن کی جڑیں کاٹ دی گئی تھیں اور سوشلسٹ نظام معیشت کو ختم کرنے کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ لوٹ مار کے ذریعے اربوں روپے جمع کرنے والوں کے اس سسٹم میں ہاتھ کاٹ دیے گئے تھے، آج دنیا کی 80 فی صد سے زیادہ دولت دو فی صد ایلیٹ کے ہاتھوں میں یرغمال ہو کر رہ گئی ہے۔
ہر سال میڈیا میں دنیا کے سب سے زیادہ دولت مندوں کی فہرست بڑے اہتمام سے شایع ہوتی ہے ان ارب پتیوں میں بل گیٹس سر فہرست ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بل گیٹس کے ہاتھوں میں کھربوں کی دولت کیسے جمع ہو گئی؟ سرمایہ دارانہ نظام میں حلال حرام کا تصور اس لیے بے معنی ہے کہ ''منافع'' حلال حرام کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ اکابرین کرپشن کو 90 دن میں ختم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے اس قسم کے دعوے کرنے والے اپنے ارادوں میں مخلص ہوں لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ارتکاز زر کی آزادی کو ختم کیے بغیر اور نجی ملکیت کو محدود کیے بغیر کرپشن کو ختم کرنے کی بات اور دعوے ''ایں محال است و جنوں'' کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی جان ارتکاز زر کی لا محدود آزادی ہے جب تک سرمایہ دارانہ نظام معیشت موجود ہے ارتکاز زر کو روکنا ممکن نہیں اور ارتکاز زر کو روکے بغیر کرپشن کے خاتمے کی بات کرنا خود کو اور دنیا کو دھوکا دینے کے علاوہ کچھ نہیں۔