روہنگیا مسلمان بانی ٔ پاکستان کا مشورہ
دنیا بشار الاسد کے سامنے دست بستہ عرض کر رہی ہے کہ حضور بس کیجیے...
ISLAMABAD:
وہ بالادست اور مقتدر حکمران اشرافیہ جس کو عسکری قوت کی حمایت حاصل ہو، کس سفاکی اور بے دردی سے اپنے ہم وطنوں کا خون بہاتی ہے، اس کی حالیہ مثال شام ہے۔ وہاں مارنے والے بھی مسلمان ہیں اور مرنے والے بھی۔ دنیا بشار الاسد کے سامنے دست بستہ عرض کر رہی ہے کہ حضور بس کیجیے اور اپنے ہم مذہب شہریوں کا خون یوں ارزاں نہ کیجیے لیکن ہر ایسی التجا کے بعد جدال و قتال کی کچھ اور انتہا کر دی جاتی ہے۔
ہزاروں شامی قتل ہو چکے ہیں، سیکڑوں روز قتل کیے جا رہے ہیں۔ یہی عالم ہم نے مصر میں دیکھا جہاں شاہی ختم ہونے کے بعد برسراقتدار آنے والے فوجی حکمرانوں نے فراعنہ کی سی بے دردی کے ساتھ اپنے ہی دینی بھائیوں کا خون بہایا، انھیں جیلوں میں ڈالا اور عقوبتوں کی انتہا کر دی۔ لیبیا کے مرد آہن معمر قذافی، عراق کے آمرِ مطلق صدام حسین اور متعدد دوسرے مسلمان ملکوں کے مطلق العنان حکمرانوں نے عیسائیوں، یہودیوں یا دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر نہیں صرف اپنے ان مسلمان شہریوں پر ظلم و ستم توڑے جو ایک جمہوری نظام کے خواہاں تھے۔
اب سے کچھ ہی دنوں پہلے یہی حال برما کے فوجی جرنیلوں کا تھا۔ انھوں نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے 1948ء میں اپنے اس رہنما کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جس کی سرکردگی میں غیر ملکی استبداد سے آزادی کے لیے ایک خونیں جنگ لڑی اور جیتی گئی تھی۔ سالہا سال بعد اسی مقتول رہنما کی بیٹی آنگ سانگ سوچی کی قیادت میں نہتے اور غریب برمیوں نے 1988ء سے 2012ء تک جمہوریت کی ایک طویل لڑائی لڑی۔
اس لڑائی میں برمی جرنیلوں کے حکم پر ہزاروں نوجوان ''لاپتہ'' ہوئے۔ ہزار ہا ہلاک کیے گئے اور ان کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دبا دی گئیں۔ مارنے والے عدم تشدد کے فلسفے اور بدھ مت کو مانتے تھے، پگوڈا میں جاکر مہاتما بدھ کو خوش کرنے کے لیے بھاری نذرانے پیش کرتے تھے اور جنھیں وہ مار رہے تھے وہ بھی مہاتما بدھ کے پیروکار تھے۔
چند مہینوں پہلے تک برما میں جرنیلوں کے حکم پر برمی فوج، اپنے ہم مذہب اور ہم وطن لوگوں کو جس بے دردی سے قتل کرتی رہی۔ اس کے بارے میں اپنے ایک افسانے ''تقدیر کے زندانی'' کی چند سطریں یہاں پیش کررہی ہوں۔ یہ 2007ء کے رنگون کی خون سے رنگین تصویر ہے:
''یانگون ائیرپورٹ پر قدم رکھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ فضا میں خون کی اور خوف کی بو ہے۔ ائیرپورٹ فوجی چھائونی لگ رہا تھا۔ امیگریشن کائونٹر پر بھی اس کے اور انتھونی کے پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات کئی بار الٹ پلٹ کر دیکھے گئے۔
رنگون میں پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں کے بعد رپورٹروں اور کیمرہ مینوںکی آمد پہلے سے کہیں زیادہ ناپسندیدہ ہو گئی تھی۔ لیکن بی بی سی ٹیلیویژن کے لیے وہ کئی جرنیلوں سے انٹرویو کا وقت دلی سے ہی لے کر چلا تھا۔ چند لمحوں بعد ان کے پاسپورٹ پر ''انٹری'' کی مہر لگ گئی۔
''ائیرپورٹ سے ہوٹل کا راستہ خاموشی سے طے ہوا تھا۔ سڑکوں پر فوجی ٹرک تھے، بکتر بند گاڑیاں تھیں، سہمے ہوئے لوگ تھے۔ عرفان نے ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے انگریزی نہ جاننے کا بہانہ کیا۔ انتھونی سڑکوں کو، بند دکانوں کو لاتعلقی سے دیکھ رہا تھا۔ ایئرپورٹ سے وہ اور انتھونی دونوں سیدھے ''سوائے'' پہنچے تھے۔ رنگون میں اب بہت سے نئے ہوٹل کھل گئے تھے لیکن ''سوائے'' کی بات الگ تھی۔
کھپریل کی چھتیں، بڑے علاقے پر پھیلا ہوا اور کولونیل طرز تعمیر۔ عرفان روزانہ ہوٹل واپس آتے ہوئے دیکھتا تھا کہ دن میں ہونے والے خون خرابے کی نشانیاں مٹادی گئی ہیں۔ اس نے اپنی آنکھوں سے اور انتھونی کے کیمرے نے مارے جانے والے بھکشوئوں، لڑکوں اور لڑکیوں کی لاشیں دیکھی تھیں جنھیں فوجی ٹرکوں میں ڈال کر لے جایا گیا تھا اور پھر وہ سب بڑے بڑے گڑھوں میں دبا دیے گئے۔ ان کے گھر والے ان کا انتظار کرتے رہیں گے۔ کسی پیارے کا ''لاپتہ'' ہوجانا گھر والوں کے لیے عمر بھر کا عذاب۔''
ہمارے یہاں بھی بلوچستان کے بے شمار گھروں میں ''لاپتہ'' ہوجانے والوں کے لیے صبح و شام صف ماتم بچھتی ہے لیکن یہ فریاد ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں کرتی جن کے خیال میں اس طرح وہ ''غداروں'' کا صفایا کر رہے ہیں۔ ثبوت اور شواہد کے بغیر آپ کسی کو ''غدار'' اور'' غیر محب وطن'' کیسے ٹھہرا سکتے ہیں؟
برما کے روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ آج کا نہیں دہائیوں پرانا ہے۔ 1940ء سے پہلے سے وہ خود کو ''برماکا شہری'' نہیں مانتے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے اور جب 1947ء میں ان کے کچھ لوگوں نے سابق مشرقی پاکستان کا رخ کیا اور برما سے علیحدگی کی تحریک چلانے کے لیے پاکستان کا کندھا استعمال کرنا چاہا تو بانی پاکستان نے ان کے اس رویے کی سختی سے مخالفت کی تھی اور انھیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ برما کو اپنا وطن سمجھیں اور ان کی سیاست کی بنیاد اپنے ملک سے وفاداری ہونی چاہیے۔
'مسلم امہ' کا خواب صرف برصغیر کے ہی نہیں جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں دیکھا اور دکھایا گیا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کئی ایسے گروہ ہیں جو حقائق کا ادراک کیے بغیر خواب سراب کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے رہنما محفوظ رہتے ہیں اور ان کے غریب قتل ہوتے ہیں، ذلیل ہوتے ہیں، زندگی کیمپوں میں گزارتے ہیں۔ ان کی عورتیں بے حرمت ہوتی ہیں، ان کے بچے تعلیم اور طبی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں،
ان کے اندر غم و غصہ پرورش پاتا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے بے زمین و بے آسمان ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے بنگلہ دیش بننے کے بعد با رہا وہاں جانے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ بنگلہ دیش کی مسلمان حکومت نے انھیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس وقت بھی جب دنیا ان پر ہونے والے مظالم کی مذمت کر رہی ہے،
بنگلہ دیش کی حکومت انسانی ہمدردی اور مذہبی بنیادوں پر بھی انھیں اپنے یہاں پناہ دینے کو تیار نہیں۔ اخباروں میں وہ تصویریں شایع ہوئی ہیں جن میں بنگلہ دیشی فوجی روہنگیا مسلمانوں کی کشتیوںکو اپنی سرحدوں سے واپس دھکیلتے ہوئے اور ان خستہ حال برمیوں کو چپوئوں اور رائفل کے کندوں سے مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
برما کے روہنگیا مسلمانوں پر گزشتہ چند ہفتوں سے جو قیامت ٹوٹی ہے، اس کی تفصیلات سوشل میڈیاکے علاوہ اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حقوق انسانی کی دیگر تنظیموں نے جاری کر دی ہیں اور حکومت برما سے انسانی حقوق کی پامالی پر سخت احتجاج کیا ہے۔ برما میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر جس قدر صدمے کا اظہار کیا جائے وہ کم ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جب کسی ملک کے عسکری اداروں کے منہ کو خون لگ جائے تو اس کا ذائقہ ان کو نہیں بھولتا۔ برما کے جرنیل گزشتہ60 برس سے اپنے ہم مذہب بدھسٹوں کا جس طرح قتل عام کرتے رہے،
وہ ناقابل یقین اور ناقابل بیان ہے۔ اب ہوا یہ ہے کہ جمہوریت کے لیے ایک لمبی لڑائی کے بعد برما کی فوجی اشرافیہ کو کسی حد تک پسپا ہونا پڑا ہے اور وہ بدھسٹ اکثریت کے خون بہانے کے مواقع سے محروم ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے اب اس نے اپنی توپوںکا رخ روہنگیا مسلمانوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ کیوں موڑ دیا ہے؟ اس لیے کہ آمرانہ اور غیر جمہوری قوتوں کو جمہوریت سے ڈر لگتا ہے۔ انھیں عوام پر مسلط رہنے کے لیے ایک خیالی دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج وہ روہنگیائوں کو دشمن بناکر پیش کر رہے ہیں۔ نفرت کو اتنا پھیلا دیا گیا ہے کہ اس سے برما کے عوام تقسیم ہو رہے ہیں اور جمہوریت کی طرف جاری سفر مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری نے برما میں ہونے والی سالہا سال کی خون ریزیوںکے بعد برمی حکومت پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ برما کے جرنیلوںکو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔
آج کے عالمی تناظر میں دیکھیے تو یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ برما کے ان مظلوم مسلمانوں کی مددکے لیے کوئی مسلمان ملک تیار نہیں، کوئی بھی برادر اسلامی ملک 8 لاکھ سے زائد روہنگیائوں کو مذہب کی بنیاد پر اپنی شہریت نہیں دے گا۔
اس وقت بھی ان کو خوراک اور دوائوں کی امداد وہی بین الاقوامی تنظیمیں اور ملک فراہم کر رہے ہیں جو ان پر ٹوٹنے والی مصیبت کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ان ہی نے برما کی حکومت سے احتجاج بھی کیا ہے اور زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوج کو ان مظالم سے باز رکھے۔
حقائق کی روشنی میں دیکھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو آج سے 65 برس پہلے بانی پاکستان کا مشورہ واقعی کس قدر درست اور صائب تھا۔